اردو | हिन्दी | English
1613 Views
Deen

آب زم زم کی فضیلت

aab-e-zamzam
Written by Tariq Hasan

انجینئر شاہ عظمت اللہ ابو سعید
آب زم زم سبھی پانیوں کا سردار ہے اور سب سے زیادہ شرف واقتدار کا بھی حامل ہے ۔عام لوگوں کے لیے سب سے بہتر اور غوب بھی ہے زم زم کا مرتبہ یہ ہے کہ یہ حضرت جبرئیل کا کھودا ہوا چشمہ ہے جبکہ حضرت اسمٰعیل ؐ کی تشنگی دور کرنے کے لیے اللہ کی جانب سے پانی کا تحفہ ہے۔
آب زم زم حضرت ابراہیمؐ اور حضرت حاجرہؐ کے شیر خوار بیٹے اسمٰعیل ؐ کی پیاس بجھانے کے لیے آج سے ہزار سال قبل ایک معجزے کی شکل میں مکہ معظمہ کے بے آب و گیاہ ریگستان میں جاری کیا گیا جو آج تک جاری ہے اللہ کی کبریائی کی عظیم مشال ہے۔آب زم زم جو مکہ کے مسجد حرام میں خانہ کعبہ کے جنوب مشرق میں تقریباً 21 میٹر کے فاصلے پر تہہ خانے میں واقع ہے ۔آب زم زم کا سب سے بڑا دہانہ ہجراسود کے پاس ہے جبکہ اذان کی جگہ کے علاوہ صفا اور مروا کے مختلفمقامات سے بھی زم زم کے سوتے نکلتے ہیں۔1953 تک ز م زم کے کنویں سے اسے ڈول کے ذریعہ نکالاجاتا تھا مگر اب مسجد حرام کے اندر اور باہر مختلف مقامات پر آب زم زم سبیلیں لگادی گیءں ہیں۔زم زم کا پانی مسجد نبوی ؐ میں بھی عام ملتا ہے اور حجاج کرام یہ پانی دنیا بھر میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔زم زم کے ذخیر ے کو مزید بڑھانے اور اسے کئی طرف لے جانے کے لیے سعود ی حکومت نے جدید تکنیک کا استعمل کیا ہے ۔زم زم کے کنویں کبھی ڈول کے ذریعہ یہ پانی نکالا جاتا تھا مگر اب نئے دسپیننگ کنٹینر کے ذریعہ مکہ اور مدینہ میں دستیاب ہے ۔نیا دسپینر تکنیکی طور پر بے حد جدید اور بے انتہا مفید ہے۔
1997 سے قبل زم زم کی کنووءں کی صفائی کی طرف کبھی دھیان نہیں دیا جا رہا تھا لیکن 1997 میں ایک مشن کے طور پر یہ مہم شروع کی گئی جو اپنے آپ میں ایک تحقیقی مشن سمجھا جا سکتا ہے ۔زیر نظر مضمون زم زم کے قدرتی کنوءں کی صفائی پر محیط ہے۔
زم زم کا پانی مریضوں کے لیے شفا بھی ہے اور ایک دعا بھی ہے ایک روایت کے مطابق متعددامراض کا علاج ہے زم زم ۔متعددعلما ئے کرام نے اس حدیث پر عمل اور تجربہ بھی کیا ہے کہ نبی ؐ نے فرمایا کہ زم زم اسی چیز کے لیے ہے جس کیلئے اسے نوش کیا جائے ۔چنانچہ عبداللہ بن مبارک نے جب حج کیا تھا تو زم زم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اللہ میں روز قیامت کی تشنگی اور پیاس سے بچنے کے لیے اسے پی رہا ہوں ۔ابن قیمؒ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے علاوہ دوسروں نے بھی زم زم پی کر تجربہ کیا ہے ۔اس پچیدہ بیماریاں جاتی رہتی ہیں اور مجھے زم زم کے ساتھ کئی بیماریوں سے شفا نصیب ہوئی ہے الحمداللہ میں ان سے نجات حاصل کر چکا ہیں۔صحیح مسلم میں نبی کریمؐ کی ثابت ہے کہ حضورؐ نے ابوزررضی اللہ عنہ کو جب وہ کعبہ کے پردوں کے پیچھے 40 دن اور رات تک مقیم رہے اور ان کا کھانا صرف زم زم تھا۔نبی کریمؐ نے ابوؒ ر عنہ سے پوچھا کہ تم کب سے یہاں ہو تو ابورؒ نے جواب دیا کہ میں 30 دن اور رات سے یہی ہوں تو نبی کریم ؐ فرمانے لگے تیر ے کھانے کا نظم کون کرتا تھا ۔ابورؒ نے جواب دیا میرے پاس تو صرف زم زم ہی تھا اس سے میں اتنا موٹا ہوگیا کہ میرے پیٹ کے تمام کس وبل نکل گئے ۔میرے ساری بھوک اور کمزوری جاتی رہی ۔نبی ؐ فرمانے لگے کہ بلا شبہ زم زم بابرکت اور کھانے والے کے لیے غذا کی حیثیت رکھتا ہے۔دور جدید میں زم زم کی خوبیوں پر تحقیق جاری ہے،قدرت کا یہ معجزہ مسلمانوں کے لیے کتنا عظیم تحفہ ہے ۔یہ مسلمان ہی سمجھ سکتا ہے لیکن زم زم کی قوت اور خصوصیات کے باے میں آج بھی بڑے اطبااور محقق حیران ہیں کہ اللہ نے اس پانی کو کتنی قوتوں سے نوازا ہے ۔زم زم میں ایسے ایسے معدنیاتی عناصر وادویاتی جزشامل ہیں جن پر میڈیکل سائنس بھی حیران ہے۔دنیا میں واحد پانی ہے کہ جس میں بوپیدا نہیں ہوتی ۔زم زم کی اہمیت اور فضیلت کا ذکراحادیث میں بھی درج ہے۔اس پانی کا یک ظاہری معجزہ یہ ہے کہ روز اول سے یہ جاری وساری ہے ۔لیکن اس سوتا خشک نہیں ہوتا جو لوگ مکہ کی سنگلاخ وادیوں اور مضبوط چٹانوں والے پہاڑوں سے واقف ہیں ان کے لیے یہ مزید حیرت کی بات ہے کہ جہاں دور دور تک آبی و سائل او ر ذخائر موجود نہیں ہیں وہاں زم زم کو کنواں نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کے پینے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے پھر بھی اللہ کی قدرت ہے کہ اس کے زخیر ے میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے حجاج کرام اور عمرہ کرنے والے افراد اسے اپنے ساتھ پوری دنیا میں لے جاتے ہیں حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ یہ پانی کبھی خراب نہیں ہوتا ۔
زم زم کا پانی مریضوں کیلیے شفا بھی ہے اور ایک دعا بھی ہے ۔ایک روایت کے مطابق متعدد امراض کا علاج ہے زم زم ۔متعدد علمائے کرام نے اس حدیث پر عمل اور تجربہ بھی کیا ہے کہ نبی نے فرمایا کہ زم زم اس چیز کے لیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جائے ۔چنانچہ عبداللہ بن مبارک ؒ نے جب حج کیا تھا تو زم زم کے پاس آئے اور کھنے لگے کہ یا اللہ میں روز قیامت کی تشنگی اور پیاس سے بچنے کے لیے اسے پی رہاہوں۔

About the author

Tariq Hasan