اردو | हिन्दी | English
600 Views
Around the World

اسد رجیم کے خلاف فوجی کارروائی میں ساتھ دیں گے: اردگان

4094634-3x2-940x627
Written by Tariq Hasan

استنبول،7اپریل(آئی این ایس انڈیا)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں خان الشیخون کے مقام پر گذشتہ منگل کے روز ہونے والے کیمیائی حملے کے بعد وہ اسد رجیم کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا خیر مقدم کریں گے۔ ترک صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں فوجی کارروائی کاحامی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس میں مدد بھی فراہم کرے گا۔ترکی کے ’’’چینل سیون‘‘نامی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ایردوآن نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ادلب میں فضائی حملوں کے ردعمل میں کہا ہے اسد رجیم کے ہاتھوں شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کے بعد خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ میں امریکی صدر کے اس بیان کا شکر گذار ہوں مگر اب وقت باتوں اور بیانات سے آگے بڑھ کر عملی کارروائی کا ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کارروائی باغیوں کی جانب سے کی جاتی توہم اس کی بھی شدید مذمت کرتے۔ ہم ترکی میں ہیں مگر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ ترکی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اسد رجیم اگر ادلب میں نہتے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی قصور وار ہے تو اسے اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔صدر ایردوآن نے کہا کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ خطے میں خطریکے وائرس کون کون سے ہیں اور ان سے کیسے نمٹنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ایردوآن نے کہا کہ خان الشیخون میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے پر انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے بھی بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے صدر پوتن سے بھی خان شیخون واقعے پر بات کی ہے مگر اس مجرمانہ واردات کے پیچھے بشارالاسد کا ہاتھ ہے؟ اگر بشارالاسد بھی اس واقعے سے لاعلم ہیں توہم یہ ہم سب کے لیے المناک ہے۔ترک صدر کا کہنا تھ کہ یہ فیصلہ کن گھڑی ہے اور ہمیں خان الشیخون واقعے کی تہہ تک پہنچ کر اس کے مرتکب جنگی مجرموں کو سزا دینی ہوگی۔خیال رہے کہ گذشتہ منگل کے روز شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے خان الشیخون علاقے میں مبینہ کیمیائی حملے میں کم سے کم 85 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ مغربی ممالک اور ترکی نے اس حملے کی ذمہ داری بشارالاسد پر عاید کی ہے۔امریکا نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شام میں فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ خان الشیخون واقعے کے بعد پینٹاگون کے پاس اسد رجیم کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔

About the author

Tariq Hasan