اردو | हिन्दी | English
1398 Views
Deen

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے

Masjid-Nabawi
Written by Tariq Hasan

مولانا محب اللہ خان
اسلام کے سارے اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور نیت کا تعلق دل کے ساتھ ہے گویا کہ دل سارے اعمال کا سر چشمہ اور منبع ہے دل اور اس کا ارادہ اعمال و افعال میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اس لئے ہمارے دینی کتب میں جا بجا نیت کی درستگی کے متعلق ارشادات و اقوال موجو دہیں نبی کریم ﷺنے فرمایا ’’ انما الاعمال باالنیات‘‘ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے نیت کی وجہ سے عمل کا صدور ہوتا ہے نیت نیک بھی ہوتا ہے اور بد بھی لیکن اسلامی تعلیمات میں نیت کی درستگی پر زور دیا گیا ہے عمل کی نوبت نیت کے بعد عمل میں آتی ہے پہلے پہل نیت کو درست کر دینا چاہئے شاید نیت کے بعد عمل کی نوبت نہ آئے لیکن صحیح نیت کی وجہ سے اجر تو بغیر عمل کے بھی مل جائے گا اور اگر خدا نخواستہ نیت ہی برا ہو مثلا ریاکاری اور دکھلاوے کی نیت ہو تو اگر عمل کافی مزین اور مرصع کیوں نہ ہو نیت کی بربادی کی وجہ سے عمل بھی ملیامیٹ ہو جاتا ہے اسی وجہ سے ایک دوسری جگہ ارشاد نبویؑ ہے ’’ نیت المومن خیر من عملہ‘‘ (مومن کا نیت اس کے عمل سے اچھا ہے) وجہ اس کی یہ ہے کہ عمل محدود ہوتا ہے اور نیت غیر محدود عمل میں تھکاؤٹ اور محنت ہے جبکہ نیت بغیر کسی مشقت کے سرانجام پاتا ہے اس لئے نیت کا درجہ عمل سے بڑھ کر ہے اس کی مزید توضیح ایک حدیث شریف سے یوں کی جا سکتی ہے کہ ایک تو ایسا شخص ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا فرمایا ہے اور علم بھی اور وہ اپنے مال کو اپنے علم کے مطابق صحیح جگہوں میں خرچ کرتا ہے اور جہاں خرچ کرنے کی ممانعت ہے وہاں خرچ کرنے سے رک جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس شخص کو اجر و ثوا ب بہت ملے گا اور ایک دوسرا شخص ہے کہ اس کے پاس نہ مال ہے نہ علم اور وہ اس کو دیکھ دیکھ کر یہ حسرت کرتا رہتا ہے کہ کاش!اللہ تعالیٰ مجھے بھی اسی طرح مال دے دیتا اور میں اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس شخص کی طرح خرچ کرتا رہتا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ ہما فی الاجر سواء ‘‘ یہ دونوں اجر و ثواب میں برابر ہیں تو یہ برابری محض نیت کی وجہ سے ہوئی حالانکہ ایک طرف عمل ہے اور دوسری طرف صرف نیت ہے پس معلوم ہو رہا ہے کہ عمل بمنزلہ جسم ہے اور نیت بمنزلہ روح ہے جس درجہ کی نیت ہوگی اسی درجہ کا عمل بھی ہوگا اگر نیت اچھی ہوگی تو عمل بھی اچھا ہوگا اور اگر نیت فاسد ہے تو عمل بھی فاسد ہوگا بعض اولیائے کرام کے کلام میں دیکھا گیا کہ دو چیزیں عجیب و غریب ہیں ایک توبہ اور دوسری نیت اور یہ دونوں عجیب و غریب اس لئے ہیں کہ نیت کا کام ہے معدوم چیز کو موجود بنا دینا مثلا ہم نے کوئی کام نہیں کیا مگر نیت نے اس کو موجود کیا اور دوسری چیز توبہ ہے جو موجود کو معدوم کر دیتی ہے کیونکہ انسان خواہ 70برس تک گناہ کرتا رہے بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہے جب بارگاہ الٰہی پر ایک سجدہ کیا اور معافی مانگی تو گناہوں کے بے شمار ذخیرہ کو ایک مخلصانہ توبہ نے معدوم کر ڈالا یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب نعمتیں ہیں جو انہوں نے مسلمانوں کو عطا کئے ہیں جو حدیث میں نے ابتدا ء میں بتائی ہے کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے یعنی جس درجہ کی نیت ہوگی اس درجے کا عمل ہوگا آج کل کے فلسفیوں ،مادہ پرستوں اور روشن خیالوں کو اس جگہ یہ اشکال پیش آتا ہے کہ یہ باتیں محض مولویوں کے ڈھکوسلے ہیں اور محض سنی سنائی باتیں ہیں اور اس کے لئے کوئی عقلی دلیل نہیں کیونکہ عقل اس بات کو تسلیم کرنے سے منکر ہے کہ عمل کا دار ومدار نیت پر ہے لیکن ان کا یہ خیال غلط ہے اس کے واسطے عقلی دلیل بھی موجود ہے دیکھئے ! آپ باپ ہونے کی حیثیت سے اپنے بچے کو طمانچہ مار دیں تو اس سے اس بچے کے دل میں جو آپ کی محبت ہے اس میں کوئی فرق نہیں آئے گا لیکن اگر آپ کسی اور کے بچے کو طمانچہ ماریں تو اس بچے کو بھی ناگوار ہوگا اور اس کے والدین اور سرپرست بھی ناپسند کریں گے سوچنا یہ ہے کہ آخر یہ فرق کیوں ہوا وہی نیت کا فرق ہے کہ اپنے بچے کو مارنے میں اس کی اصلاح اور تربیت مد نظر ہے اور محلے کے بچے کو مارنے میں یہ بات نہیں اس طرح کسی شخص سے نادانستہ کسی کا نقصان ہو جائے جس میں قصدا نقصان دینے کا ارادہ نہ تھا مگر لا علمی اور غیر اختیاری طور پر وہ نقصان ہو گیا اگر یہ دوسرا شخص عدالت میں دعوٰی دائر کرے اور عدالت کو یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہ کام اس نے قصدا نہیں کیا بلکہ نا دانستہ ہو گیا ہے تو عدالت اس کو سزا نہ دے گی اور اگر دے گی تو اس درجہ کی سزا نہ دے گی جیسی کہ قصدا میں دی جاتی ہے تو جب دنیا کے احکام نیت سے بدل جاتے ہیں تو آخرت کے احکام کے متعلق اگر صادق و مصدوق پیغمبر خبر دے تو اس میں کیوں شک ہے پس یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ یہ مولویوں کے ڈھکوسلے نہیں بلکہ جدید ذہنیت کی کم علمی،ذہنی نا پختگی،غلامانہ طرز زندگی ،روحانیت اور اسلام کے بنیادی تعلیمات سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے اب یہ معلوم کرنا چاہئے کہ لفظ’’ نیت ‘‘ کے کیا معنی ہے؟ سو نیت کے معنی لغت میں قصد کرنے اور ارادہ کرنے کے ہیں مگر اس کی حقیقت قصد اور ارادہ کے سوا کچھ اور ہے یوں سمجھئے کہ نیت کی حقیقت یہ ہے کہ نیت ایک قلبی صفت اور کیفیت کا نام ہے جو علم و عمل کے درمیان ہے اس کومثال سے سمجھئے مثلاََ پہلے تو انسان کو علم حاصل ہوتا ہے کہ فلاں کام میں نفع ہے یا نقصان ہے جیسے تجارت میں کسی کو نفع ہونے کا علم ہو کہ تجارت کی جائے تو نفع ہوتا ہے یا کھیتی کرنے سے غلہ پیدا ہوتا ہے یہ سب سے پہلا درجہ ہے جس کو علم کا درجہ کہا جاتاہے اس کے بعد دوسرا درجہ شروع ہو جاتا ہے جو عمل کا درجہ ہے جیسے تجارت کا مال خرید کر کوئی دکان لگا بیٹھے یا کھیتی کے لئے ہل چلانا شروع کر دے یہ عمل کا درجہ ہے ان دونو ں یعنی علم و عمل کے درمیان جو چیز ہے حقیقت کے لحاظ سے وہی ’’نیت‘‘ ہے یعنی علم کے بعد انسانی طبعیت میں کام کرنے کا جو جذبہ اور تڑپ پیدا ہوتا ہے پس یہی نیت کا درجہ ہے اور اسی حقیقت کو امام غزالی ؒ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں ’’ انبعاث القلب الی ما یراہ موافقا بغرضہ عن جلب منفعۃ او دفع مضرۃ حالا او مالا‘‘ (یعنی کسی کام کے لئے دل کا کھڑا ہونا اور آمادہ ہونا جس کو دل اپنی عرض کے موافق پاتا ہے خواہ وہ غرض جلب منفعت (جلدی نفع کھینچنے) کے لئے ہو یا دفع مضرت (ضرر کو دفع کرنے) کے لئے ہو چاہے وہ غرض فی الحال ہو یا نتیجے کے اعتبار سے ہو ) پس اگر دل اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑا ہو گیا تو وہی حکم ہوگا جس کا تفصیل گزر چکا اور اگر دنیا کے لئے کھڑا ہوگا تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا جو مذکورہ تفصیلات سے آشکارہ ہے غرض اعمال کی روح نیت ہے اگر نیت اچھی ہے تو عمل بھی عند اللہ مقبول ہوگا ورنہ مردود ہوگا جس طرح معلوم ہو گیا نیت اور عمل سے بھی پہلا درجہ علم کا ہے تو یہاں پر علم کی فضیلت بھی واضح ہو رہی ہے کہ علم کتنا اونچا مقصد ہے یقیناًاگر علم خدا شناس اور خدا ترسی کا حامل ہوگا تو نیت اور عمل بھی مثبت ہونگے اور اسی فلسفے کی بنیاد پر علماء کا کتنا اونچا مقام ہے اسی وجہ سے ایک حدیث میں آیا ہے کہ ’’ عالم کی نیند عابد کی عبادت سے بہتر ہے ‘‘لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اعمال کی تین قسمیں ہیں قسم اول وہ اعمال ہیں جو طاعات کہلاتے ہیں مثلا نماز،روزہ،صدقہ و خیرات وغیرہ دوسری قسم وہ ہیں کو مباحات کہلاتے ہیں یعنی جن کے کرنے سے گناہ نہیں ہوتا اور نہ ان کے ترک کرنے سے کوئی مجرم بنتا ہے جیسے کھانا پینا ،خوشبو لگانا وغیرہ تیسری قسم کے اعمال معاصی ہیں یعنی جن کے کرنے سے شریعت مطہرہ نے منع کیا ہے اور ان کے کرنے سے آدمی گنہگار ہوتا ہے اب اس حدیث میں جو اعمال کا ذکر ہے اس سے اعمال طاعت اور اعمال مباح مراد ہیں معاصی یعنی گناہ والے اعمال مراد نہیں مطلب یہ ہے کہ اگر طاعت اور اباحت میں نیت اچھی ہوئی تو نیت کے مطابق ان کی فضیلت بڑھ جائے گی مگر گناہوں میں چاہے نیت کتنی بھی اچھی ہووہ گناہ ہی رہے گا مثلا کوئی شخص چوری اس نیت سے کرے کہ میں اس سے غریبوں کو کھانا کھلاؤں گا یا کوئی رشوت اس نیت سے لیں کہ میں مسجد بناؤں گا تو یہ چوری اور رشوت گناہ ہی رہیں گے اور اس پر کوئی ثواب مرتب نہیں ہوگا اس قسم کی معصیت اور نا فرمانی میں حسن نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا بلکہ عمل معصیت کی بنا پر وہ اچھی نیت بھی فاسد ہو جائے گی ایک عمل میں جتنی نیتیں کر لوگے اتنا ہی ثواب ملتا چلا جائے گا مثلا مسجد میں حاضر ہونا ہے یہ ایک عبادت ہے اگر کوئی شخص اس کے ساتھ یہ نیت بھی کرے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہو رہا ہوں تو اس کو دو ثواب ملیں گے اور اگر کسی نے اس کے ساتھ یہ نیت بھی شامل کر لی کہ مسجد اللہ کا گھر ہے جو کوئی کسی گھر جاتا ہے وہ اس کی زیارت کرنے کو جاتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں تو ایک اجر اور مل جائے گا اور اگر کسی نے یہ نیت کر لی کہ مسجد میں نیک لوگ اور فرشتے ہوتے ہیں لہذا ان سے برکت بھی حاصل ہوگی تو اس صورت میں ایک اجر اور بڑ ھ جائے گا اور اگر یہ نیت بھی ساتھ ملائے کہ جتنی دیر مسجد میں بیٹھوں گا گناہوں سے محفوظ رہونگا تو ایک اجر اور بڑھ جائے گا اور اگر مسجد میں داخل ہوتے وقت نفل اعتکاف کی نیت بھی کر لے تو اعتکاف کا ثواب بھی ملے گا اور اجر پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جائے گا غرض اپنی عقل سے سوچ کر جتنی چیزوں کی نیت کرتے جاؤں گے اتنا ہی اجر بڑھتا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خزانہ رحمت کھلا ہوا ہے وہاں ایک نیت نہ کرو بلکہ ایک کام میں متعدد نیتیں کرو تاکہ اجر مزید بڑھ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں بندہ نیتیں کرتے ہوئے اور اعمال کرتے ہوئے تھک جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ بے حساب اجر دیتے ہوئے بھی نہیں تھکتا ’’ کس چیز کی کمی ہے مولیٰ تیری گلی میں ۔دنیا تیری گلی میں عقبیٰ تیری گلی میں ‘‘ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جہنمی جہنم میں اور جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے جس کا کوئی مدت متعین نہیں حالانکہ جن لوگوں کو جہنم میں بھیجا جائے گا ان کے اعمال کفر محدود ہونگے اور جن کو جنت میں بھیجا جائے گا ان کے اعمال صالحہ بھی محدود ہونگے تو اس محدود کی جزاء لا محدود کیوں مقرر کی گئی ؟حضرت حسن بصریؒ اس اشکال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ چونکہ عمل کرنے والے کی نیت دوام کی تھی اس لئے جزاء بھی دائمی مقرر ہوئی کافر کی نیت تھی کہ اگر ایک کروڑ سال بھی عمر ملے تو کفر پر قائم رہوں گا اس طرح مومن کی بھی یہ نیت تھی کہ عمر کتنی ہی دراز کیوں نہ ہو ایمان پر قائم رہوں گا نیت دوام کی ہے اس لئے سزا و جزادونوں دائمی ہیں عزیزان گرامی!مندرجہ بالا مسودے سے یہ بات بخوبی معلوم ہو رہی ہے کہ اعمال کے لئے نیت کا خالص ہونا ہی اصل ہے یعنی عمل سے پہلے نیت کو خالص رکھنا چاہئے آج کل جو بے اعتمادی کی فضا قائم ہے ہر کوئی ایک دوسرے کے متعلق شک و شبہ میں مبتلا ہے یہی نیتوں کا گندا پن ہے جس کی وجہ سے کوئی کسی پر اعتماد کے لئے تیار نہیں کیونکہ آج کل بظاہر اعمال و افعال مزین دکھا رہے ہیں لیکن ان مزین اعمال کے با وجود ہر کوئی بے اعتماد بن چکا ہے وجہ یہ ہے کہ یہ تضع والے اعمال ہیں جن میں کوئی جان نہیں اعمال تو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا والے کرتے ہیں اعمال تو ہم جنت میں جانے والے اور جہنم سے بچنے والے کرتے ہیں لیکن فاسد نیتوں کی وجہ سے ان بیش بہا اعمال کی کوئی برکت نہیں ان کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ’’نقشوں کو تم جانچو لوگوں سے مل کے دیکھو ۔کیا چیز جی رہی ہے کیا چیز مر رہی ہے ‘‘ وما علینا الا البلاغ۔انسان کو ایک عجیب فطرت عطا ہوا ہے جس کی وجہ سے ایک مقام پر اس کا قرار ممکن نہیں کسی حالت میں وہ خوش نہیں ہوتا صبح سویرے وہ روشنی کی تلاش میں اٹھتا ہے آنکھیں موند لیتا ہے ہاتھ منہ دھو لیتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی نکل آئے گی دنیاوی کام کاج دن کی روشنی میں کروں گا لیکن بمشکل رات کا پہر شروع ہوتا ہے تو یہی انسان روشنیوں سے راہ فرار اختیار کرتا نظر آئے گا صبح کے وقت روشنیوں کا متلاشی انسان سر شام روشنیوں سے اکھتایا ہوا نظر آئے گا وہی انسان جس نے روشنی کے حصول کے لئے صبح آنکھیں کھول دئے تھے وہی انسان رات کو بتیاں بجھا دیتا ہے آنکھوں کے اوپر رومال مضبوطی کے ساتھ کَس لیتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی روشنی کا کوئی حفیف کرن میرے آرام کو متاثر نہ کرے یہی کشمکش بچپن سے انسان کا معمول بنا ہوا ہے بچپن میں آرزو کرتا ہے کہ میں بڑا ہو جاؤں تو میں گاڑی چلاؤں ،جہاز چلاؤں ،قوم کی قیادت سنبھالوں لیکن یہی انسان جب جوانی میں قدم رکھتا ہے تو اپنی جوانی سے بہت جلد اکتھا جاتا ہے اور بچپن کو یاد کرتا ہوا روتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ ذمہ داری سے عدم ذمہ داری اچھی تھی جوانی سے ناتوانی اچھی تھی سمجھنے سے نہ سمجھنا اچھا تھا لیکن جب بوڑھا ہوتا ہے تو بجائے اس کے کہ اپنے ناراض پروردگار کو راضی کرے یہ کہتا پھرے گا کہ ’’ کاش جوانی لوٹ آئے‘‘ الغرض کوئی انسان بھی اپنی موجودہ حالت پر خوش نہیں کوئی پچھلی زندگی کا تلافی چاہتا پھرے گا اور کوئی سو سال بعد والے منصوبوں پر غور کرتا نظر آئے گا کوئی آپ کو ایسا نہیں ملے گا کہ وہ اپنی موجودہ حالت کو سنوارے کوئی یہ نہیں کہے گا کہ ’’ اللہ جس حال میں رکھے وہی حال اچھا‘‘ شکوہ شکایت زبان زد ہر خاص و عام ہوگا کوئی امیری کا رونا روئے گا تو کوئی غربت کے عفریت کے سامنے بے بس کھڑا ہوگا اپنی اچھائیوں کو نظر انداز کرتا ہوگا اور کمیوں کو کامیابیوں میں تبدیل کرتا نظر آئے گا انسان پر یہی کیفیت طاری رہتی ہے یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور انسان فنا کا گھاٹ اترتا ہے تو آخرت میں بھی چین نہیں آئے گا اللہ تعالیٰ کے سامنے پھر شکوہ کرے گا کہ اے اللہ مجھے دنیا میں پھر لوٹا دیں تاکہ میں دوبارہ سامان آخرت فراہم کروں لیکن اس مستعار زندگی میں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ (اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے،مرکے بھی چین نہ آیا تو کدھر جائیں گے) انسان کی اس حالت کو دیکھ کر کبھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ان الانسان خلق ھلوعا‘‘(انسان دل کا کچا ہے) اور کبھی فرماتے ہیں ’’و کان الانسان عجولا‘‘ (انسان جلد باز ہے) کبھی فرماتے ہیں واذا انعمنا الانسان اعرض و ناٰ بجانبہ ( کہ ہم انسان پر انعام فرماتے ہیں تو یہی انسان مفاد پرست بن کر پرایا بن جاتا ہے) اللہ کو چھوڑتا ہے بلکہ کبھی یہ بھی کہتا ہے کہ یہ میرا اپنا کمال ہے اس میں کسی دوسرے کی احسان برداری کی کیا ضرورت ہے سرکشی پر آمادہ ہو جاتا ہے باغی بن جاتا ہے دماغ میں فرعونیت امڈ آتی ہے دوسرے انسانوں کو چیونٹیوں اور کیڑوں سے بھی رزیل خیال کرتا ہے کہ اچانک تنزل شروع ہو جاتا ہے دبدبہ اور بڑائی رخصت ہو جاتا ہے محتاج بن جاتا ہے عزت ذلت میں بدل جاتی ہے تو اس موقع پر انسان کی یہ حالت بن جاتی ہے کہ ’’ و اذا مس الانسان خر دعا ربہ منیبا الیہ (جب انسان پر برا وقت آتا ہے اپنے رب کا دروازہ کٹھکٹھاتا ہے) دن رات انسان یہی تغیرات دیکھتا ہے اس کے آنکھوں کے سامنے عروج و زوال کے مناظر حاضر ہونگے لیکن اپنی حالت کو نہیں سنوارے گا بلکہ اپنی ناکامی کو اپنی شو مئی قسمت شمار کرے گا اور اللہ تعالیٰ سے حرف شکایت زبان پر لائے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’و ما ظلمونا و لکن کانوا انفسہم یظلمون ‘‘(انسان پر یہ ظلم ہم نے نہیں کیا انسان اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ظلم کا شکار ہوا ہے )وہ رحمن و رحیم ہے وہ رؤف رحیم ہے وہ انسان کے اکثر غلطیوں سے صرف نظر فرماتے ہیں لیکن جب انسان ہی اپنے ہاتھوں زندگی کو تلخ بنا دیتا ہے تو اس میں رب کا کیا قصور ہے؟یہ بھی ضروری نہیں کہ انسان کو اس کے سارے خرابیوں کا خمیازہ آخرت میں بھگتایا جائے اس طرح تو دنیا کی زندگی عذاب بن جائے گی دنیا ہی میں بعض اوقات انسان کو اس کے کئے کا بدلہ ملتا ہے۔ (عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں،زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے) یہ تو اللہ تعالیٰ اس کو بندہ بننے کا موقع دنیا ہی میں فراہم کرتا ہے کہ شاید صبح کا بھولا ہوا شام تک بھی گھر واپس آئے شاید وہ با مقصد زندگی کا آغاز شروع کرے شاید وہ آخرت کو کامیاب بنائے لیکن ظلوم و جہول انسان اس سنگ میل کو سنگ راہ شمار کرتا ہے انسان کے اس حالت پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے مشکل عنوان کو مثال یا تمثیل کے ذریعے سمجھانا ایک مشکل کام ہے اور مثال بھی ایسا جو حقیقت سے کھلی مطابقت رکھتا ہو ہر کسی کے بس کی بات نہیں لیکن ’’لکل فن رجال‘‘(ہر فن کے اپنے آدمی ہوتے ہیں ) کے مطابق اللہ تعالیٰ نے دین کی بات کو مثالوں کے ذریعے سمجھانے کا حصہ ملکہ مولانائے روم کو بطور خاص عطا ء فرمایا تھا اسی قسم کا ایک واقعہ یا تمثیل خدا شناسی کے سمجھنے کے لئے آپؒ نے اپنے مثنوی شریف میں ذکر کیا ہے ایک رات سلطان محمود ؒ (غزنوی) شاہی لباس اتار کر عام لباس میں رعیت کی نگرانی کے لئے تنہا گشت فرما رہے تھے کہ اچانک چوروں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ آپس میں کچھ مشورہ کر رہے ہیں چوروں نے سلطان محمود کو دیکھ کر دریافت کیا کہ اے شخص تو کون ہے ؟بادشاہ نے کہا کہ میں تم ہی میں سے ایک ہوں وہ سمجھے کہ یہ بھی کوئی چور ہے اس لئے اس کو بھی ساتھ ملا دیا پھر آپس میں باتیں کرنے لگے اور مشورہ ہوا کہ ہر ایک اپنا اپنا ہنر بیان کریں تاکہ وہی کام اس کے سپرد کر دیا جائے ایک نے کہا صاحبو! میں اپنے کانوں میں ایسی خاصیت رکھتا ہوں کہ کتا جو کچھ اپنی آواز میں کہتا ہے میں سب سمجھ لیتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟ ۔۔۔۔دوسرے نے کہا کہ میری آنکھوں میں ایسی خصوصیت ہے کہ جس شخص کو اندھیری رات میں دیکھتا ہوں اس کو دن میں بلا شک و شبہ پہچان لیتا ہوں ۔۔۔۔تیسرے نے کہا کہ میرے بازوؤں میں اتنی طاقت ہے کہ میں ہاتھ کے زور سے دیوار میں نقب لگا سکتا ہوں یعنی کسی گھر میں داخل ہونے کے لئے مضبوط دیوار میں ہاتھ سے سوراخ کر دیتا ہوں ۔۔۔۔چو تھے نے کہا کہ میری ناک میں ایسی خاصیت ہے کہ مٹی سونگھ کر بتا سکتا ہوں کہ اس جگہ خزانہ دفن ہے یا نہیں ۔۔۔۔پانچویں نے کہا کہ میری پنجہ میں ایسی قوت ہے کہ محل خواہ کتنا بلند ہو لیکن میں اپنے پنجہ کے زور سے کمند اس محل کے کنگرہ میں مضبوط لگا دیتا ہوں اور اس طرح مکان میں آسانی سے داخل ہو جاتا ہوں پھر سب نے مل کر بادشاہ سے دریافت کیا کہ اے شخص تیرے اندر کیا ہنر ہے جس سے چوری کرنے میں مدد مل سکے نو وارد چور (بادشاہ) نے کہا کہ میری داڑھی میں ایسی خاصیت ہے کہ پھانسی کے مجرموں کو جب جلادوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے اس وقت اگر میری داڑھی ہل جائے تو سب کی رہائی ہو جاتی ہے یہ سنتے ہی چوروں نے کہا کہ اے ہمارے قطب! اے ہمارے سردار! آپ یقیناًبڑا اونچا شان رکھتے ہیں اگر ہم پکڑے جائیں تو آپ کے داڑھی کی برکت سے ہم چھوٹ جائیں گے کیونکہ اوروں کے پاس تو صرف ایسے ہنر تھے جن سے چوری کی تکمیل ہوتی تھی لیکن سزا کے خطرے سے بچانے کا ہنر کسی کے پاس نہ تھا یہی کسر باقی تھی جو آپ کی وجہ سے پوری ہوئی بس اب کام میں لگ جاؤ اس مشورہ کے بعد سب نے محمود غزنوی کے محل کی طرف رخ کیا اور بادشاہ خود بھی ان کے ہمراہ ہو گیا راستہ میں کتا بھونکا تو کتے کی آواز سمجھنے والے نے کہا کہ کتے نے کہا کہ تمہارے ساتھ بادشاہ بھی ہے۔
لیکن اس کی بات کی طرف چوروں نے دھیان نہیں دیا کیونکہ لالچ ہنر کو پوشیدہ کرتا ہے ایک نے خاک سونگھی اور بتا دیا کہ شاہی خزانہ یہاں ہے ایک نے کمند پھینکی اور شاہی محل میں داخل ہوا نقب زن نے نقب لگا دی اور آپس میں خزانہ تقسیم کر لیا بادشاہ نے ہر ایک کا حلیہ پہچان لیا اور ہر ایک کے قیام گاہ کے راستوں کو محفوظ کر لیا اور اپنے آپ کو ان سے مخفی کرکے محل شاہی کی طرف واپس ہو گیا بادشاہ نے دن کو عدالت میں شب کا تمام ماجرہ سنا دیا اور سپاہیوں کو حکم دیا کہ سب کو گرفتار کر لو اور سزائے قتل سنا دو جب وہ سب عدالت میں حاضر ہوئے تو تحت شاہی کے سامنے ہر ایک خوف سے کانپنے لگا لیکن وہ چور جس کے اندر یہ خاصیت تھی جس کو رات میں دیکھ لیتا دن کو بھی اسے بلا شبہ پہچان لیتا وہ مطمئن تھا اس پر مصنوعی خوف کے ساتھ حقیقی امید کے آثار نمایاں تھے کہ حسب وعدہ بادشاہ کی داڑھی ہل جائے گی تو خلاصی ہو جائے گی مقدمے کے آخر میں بادشاہ نے حکم نافذ کر دیا کہ ان سب کو تحتہ دار پر لٹکا دو اور چونکہ اس واقعہ میں سلطان خود شاہد ہے اس لئے کسی اور کی گواہی ضروری نہیں یہ سنتے ہی اس شخص نے دل کو سنبھال کر ادب سے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں اجازت حاصل کرکے اس نے کہا حضور! ہم میں سے ہر ایک نے اپنے مجرمانہ ہنر کی تکمیل کر دی اب اپنے شاہانہ ہنر کا ظہور حسب وعدہ فرما دیا جائے میں نے آپ کو پہچان لیا ہے آپ نے وعدہ فرمایاتھا کہ میری داڑھی میں ایسی خاصیت ہے کہ اگر کرم سے ہل جائے تو مجرم خلاصی پا جائے لہذا اے بادشاہ اپنی داڑھی کو بھرپور رحم و کرم سے حسب وعدہ حرکت دیجئے تاکہ ہم نجات پا جائیں ہمارے ہنروں نے تو ہمیں تحتہ دار تک پہنچا دیا اب صرف آپ ہی کا ہنر ہمیں اس عقوبت سے نجات دلا سکتا ہے اپنی داڑھی کی خاصیت سے ہم سب کو جلد مسرور فرما دیجئے سلطان محمود اس گفتگو سے مسکرایا اورا س کا دریائے کرم مجرمین کی فریاد سے جوش میں آگیا ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی خاصیت دکھا دی حتیٰ کہ تمہارے کمال و ہنر نے تمہاری گردنوں کو مبتلا قہر کر دیا بجز اس شخص کے کہ یہ سلطان کا عارف تھا اور اس کی نظر نے رات کی ظلمت میں ہم کو دیکھ لیا تھا اور ہمیں پہچان لیا تھا پس اس شخص کی اس نگاہِ سلطان شناس کے صدقے میں تم کو رہا کرتا ہوں مجھے اس پہچاننے والے آنکھ سے شرم آتی ہے کہ میں اپنی داڑھی کا ہنر ظاہر نہ کروں اس حکایت میں عبرت و نصیحت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہیں ہم جو جرائم کرتے ہیں یہ خزانہ شاہی میں خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کسی مجرم کو فوراََ نہیں پکڑتے بلکہ اس کو اس کے افعال میں آزادی دی ہے کہ ہم نے انسان کو جو صلاحیتیں ودیعت (عنایت )کئے ہیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھائے لیکن انسان خدا کو ناراض کر دینے والے صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے اپنے گناہوں کی آبیاری کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ میرا ہنر ہے اگر کسی کو قتل کر دیا تو وہ اس کو اپنا کمال سمجھتا ہے چوری کیا یا کسی کو اغوا کیا یا کسی کی پردہ دری کی تو اس کو اپنا ہنر سمجھتا ہے لیکن مذکورہ حکایت کی طرح یہ کمالات آخرت میں انسان کو نوالہ جہنم بنا دے گا اس تاریک دنیا میں جس کو جو ہنر کام آئے گا وہ خدا شناسی کا ہنر ہوگا جس کی نگاہ خدا شناس ہو وہ کامیاب ہوگا اور جس نے وہ نظر پیدا نہیں کیا جس سے اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل ہو تو وہ اپنے ہنر کی بدولت زنجیروں میں جکڑا ہوا تحت خدا وندی کے سامنے ذلیل و رسوا کھڑا ہوگا اور جنہوں نے اس تاریک دنیا میں رب کا پہچان پیدا کیا وہ مطمئن ہوگا ’’ارادے جن کی پختہ ہو نظر جن کی خدا پر ہو ،طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے ۔(یو این این)

About the author

Tariq Hasan