اردو | हिन्दी | English
394 Views
Movie

امیتابھ کی وصیت اور گوندا کی شکایت

amitabh ki wasiyat aur
Written by Tariq Hasan

اپنے زمانے کے کامیاب اداکار گوندا آجکل خاصے حیران پریشان ہیں اور ہر ہفتے نئے نئے بیانات دیتے نظر آتے ہیں اس کی وجہ بلکل واضح ہے انکی فلم ’آگیا ہیرو ریلیز کے لیے تیار ہے۔ لیکن پتہ نہیں کیوں گوندا جی ریلیز کی تاریخ آگے بڑھاتے جا رہے ہیں۔ لیکن لوگوں کے ذہن میں خود کو تازہ کرنے کے لیے ہر ہفتے نئے نئے انکشافات کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔اس ہفتے گوندا اس بات پر افسوس ظاہر کرتے نظر آئے کہ انھوں نے بالی ووڈ میں موجود کئی بااثر کیمپوں میں سے کسی ایک میں بھی شامل نہ ہو کر غلطی کی تھی۔
گوندا کا کہنا ہے کہ اس سے آپ کا کریئر متاثر ہوتا ہے۔ فلموں سے سیاست اور پھر سیاست سے واپس فلموں کا رخ کرنے والے گوندا کا کہنا ہے کہ ان کے خراب وقت میں لوگوں نے ان کی مشکلیں آسان نہیں کیں بلکہ بڑھائی تھیں۔ گوندا آخری مرتبہ سنہ 2007 میں سلمان خان کی فلم پارٹنر میں نظر آئے تھے۔ اب پتہ نہیں کہ وہ اپنی نئی فلم کب اور کیسے ریلیز کرنے والے ہیں حالانکہ کچھ عرصہ پہلے سلمان خان نے گوندا اور ان کی آنے والی فلم کی دل کھول کر تعریف کی تھی۔
امیتابھ بچن بالی ووڈ کی ایک ایسی بڑی اور اہم شخصیت ہیں جو انڈسٹری کے دوسرے سٹارز کے برعکس ملک کے بڑے اور اہم موضوعات پر اپنے خیالات اپنے تک ہی رکھتے ہیں۔ لیکن آج کل انھوں نے کچھ موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار ایک انوکھے انداز میں کرنا شروع کر دیا ہے۔نام ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں انہیں من چاہے انداز میں آزاد زندگی گزارنے کا مشورہ دیا تھا۔ اب ان کی فلم سرکار کا سیکوئل آنے والا ہے اور اس بار انھوں نے انوکھے انداز میں اپنی وصیت کا اعلان کیا ہے ایک تصویر میں بگ بی نے ایک کارڈ پکڑ رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ ‘میری موت کے بعد میری تمام جائیداد میرے بیٹے ابھشیک اور بیٹی شویتا نندہ کے درمیان برابر تقسیم کر دی جائے۔ ہیش ٹیگ جینڈر ایکوالٹی وی ار ایکوئل’۔
حالانکہ امیتابھ بچن جیسے بڑے سٹار کی جانب سے صنفی مساوات کے حق میں اس طرح کی پبلسٹی ایک اچھا قدم ہے اور شاید کچھ لوگ ان کی اس رائے سے متاثر بھی ہوں لیکن امِت جی کو اس طرح کے پیغامات صرف اپنی فلموں کی ریلیز کا محتاج نہیں کرنا چاہئیے۔امیتابھ بچن سے ان کی فلمی ماں نیرو پرائے کا قصہ یاد آ گیا۔ 1975 کی بلاک بسٹر فلم ‘دیوار’ کا وہ ڈائیلاگ بھی جس میں نیرو پرارئے کے دو بیٹے تھے ایک امیتابھ بچن اور دوسرا سششی کپور۔ ایک کہتا ہے ‘میرے پاس گاڑی ہے بنگلہ ہے’ تو امیتابھ کہتے ہیں ‘میرے پاس ماں’ ہے۔ نیرو پرائے نے اس وقت خواب میں بھی نہ سوچا ہوگا کہ ایک دن ان کے اپنے بیٹے ان کی جائیداد حاصل کرنے کے لیے عدالت میں لڑیں گے۔نیرو پرائے کے بیٹے یوگیش ممبئی میں تین ہزار سکوائر فِٹ پر واقع گھر کی ملکیت پر جھگڑے کے بعد عدالت میں آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ اس گھر کی قیمت تقریباً سو کروڑ بتائی جا رہی ہے۔اب اگر نیرو پا رائے نے بھی اپنے فلمی بیٹے امیتابھ بچن کی طرح کوئی وصیت کی ہوتی تو شاید آج ان کے بچے اس طرح عدالت میں ایک دوسرے کے خلاف نہ کھڑے ہوتے۔

About the author

Tariq Hasan