اردو | हिन्दी | English
1330 Views
Deen

ام امومنین حضرت حفصہ بنت عمر فاروق رضی اللہ عنہا

green_background_islamic_religious_wallpaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Updated on 16 Oct 2016

ام امومنین حضرت حفصہ بنت عمر فاروق رضی اللہ عنہا

آ پ کانام حفصہ رضی اللہ عنہا اور والد کا نام عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ تھا ۔ واقدی کی روایت کے مطابق سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی سے پانچ سال قبل مکہ معظمہ میں پیدا ہوئیں۔ اس وقت قریش مکہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے۔ سید نا عمر رضی اللہ عنہ السابقون الاولون میں سے ہیں۔ ابتدائے اسلام میں ہی دولت ایمان سے مشرف ہوئے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ماں باپ کے ساتھ ہی مسلمان ہوئیں

آ پ کانام  حفصہ رضی اللہ عنہا اور والد کا نام عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ تھا ۔ واقدی کی روایت کے مطابق سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی سے پانچ سال قبل مکہ معظمہ میں پیدا ہوئیں۔ اس وقت قریش مکہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے۔ سید نا عمر رضی اللہ عنہ السابقون الاولون میں سے ہیں۔ ابتدائے اسلام میں ہی دولت ایمان سے مشرف ہوئے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ماں باپ کے ساتھ ہی مسلمان ہوئیں، بعد میں بنو سہم کے خنیس رضی اللہ عنہ بن حذافہ سے نکاح ہوا اور آپ ایک عرصہ تک خوشگوار ازدواجی زندگی گزارتی رہیں۔
جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے مدینہ طیبہ ہجرت فرمائی تو سید نا حفصہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے شوہر خنیس رضی اللہ عنہا نے بھی مدینہ ہجرت فرمائی۔ ۲ ہجری میں غزوہ بدر پیش آیا۔ سید نا خنیس رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں شرکت کی اور بہادری کے جوہر دکھائے لیکن میدانِ جنگ میں کچھ ایسے کاری زخم آئے کہ جانبرنہ ہو سکے چنانچہ واپس آکر انہی زخموں کی وجہ سے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
حفصہ رضی اللہ عنہا کے بیوہ ہونے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے نکاح کی فکر لاحق ہوئی۔ اتفاق سے اسی زمانے میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا تھا جو کہ سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کے حبالہ عقد میں تھیں۔سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک روز حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نہایت مغموم دیکھا اور ان کے غمگین ہونے کی وجہ دریافت کی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے مغموم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ میرا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو سسرالی رشتہ تھا ہو ختم ہو گیا ہے۔ سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کو تم سے بیاہ دوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے پر غور کروں گا۔ چند روز بعد ان سے پھر ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اس رشتے پر راضی نہیں۔ سید نا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے بھی یہ کہا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہ چاہیں تو اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کا آپ سے نکاح کر دوں۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ی بات سن کر خاموش ہو گے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ان کی بے توجہی سے مجھے کچھ رنج ہوا۔ بع ازاں کا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی خواہش کی اور نکاح ہو گیا۔
ایک روز سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان کی غلط فہمی دورکی کہ میں خاموش اس لئے تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا اور میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح نہ کرتے تو میں پھر آمادہ تھا۔
حافظ بن سید الناس سے لکھا ہے کہ یہ نکاح شعبان میں ہجرت نبوی سے تیس ماہ بعد ہوا۔ ایک دوسرے قول کے مطابق یہ نکاح غزوہ احد کے بعد ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی ازدواجی زندگی نہایت اچھی تھی۔ آپ نہایت فضل وکمال کی حامل تھیں۔ امام نووی نے ” تہذیب“ میں لکھا ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے 160 احادیث منقول ہیں جو انہوں نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھیں۔ آپ کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔
دین میں تفقہ کا بھی ایک خاص ملکہ حاصل تھا۔ مختلف آیات سے مختلف نکات نکالتی رہتیں۔ ایک دفعہ سرکارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” میں امید کرتا ہوں کہ اصحاب بد ر اور اصحاب حدیبیہ جہنم میں داخل نہیں ہوں گے۔“
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:”تم میں سے ہر شخص جہنم میں وارد ہوگا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا۔ ” ہاں لیکن یہ بھی توہے کہ ” پھر ہم پرہیز گاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو ا س میں زانووٴں پر گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔“
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو اختلاف سے سخت نفرت تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جب جنگ صفین ہوئی اور پھر جنگ کا خاتمہ تحکیم پر ہوا تو سیدہ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کو فتنہ سمجھ کر خانہ نشین رہنا چاہتے تھے لیکن سیدہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کو سمجھایا کہ اگرچہ اس شرکت میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں لیکن پھر بھی تمہیں ضرور شریک ہونا چاہیے کیونکہ لوگوں کو تمہاری رائے کا انتظار ہوگا اور اس بات کا امکان بھی ہے ک تمہاری عزلت گزینی ان میں مزید اختلافات پیدا کر دے۔ چنانچہ وہ سیدہ رضی اللہ عنہا کے سمجھانے کی وجہ سے اس واقعہ میں شریک رہے۔
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شعبان 45 ہجری میں مدینہ طیبہ میں انتقال فرمایا۔ یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہا کی خلافت کا زمانہ تھا۔ گورنر مدینہ سیدنا مروان بن الحکم رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور کچھ دیر تک جنازے کو کندھا بھی دیا۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جنازہ کو قبر تک لے گئے اور ان کے بھائی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں عاصم، سالم ، عبداللہ اور حمزہ حمہم اللہ علیہم نے قبر میں اتارا۔وفات کے وقت آپ کی عمر ساٹھ سال تھی۔
سیدہ حفصہ نے وفات کے وقت اپنے بھائی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر وصیت فرمائی اور غابہ میں اپنی جائیداد جسے سیدنا عمر ان رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں دے گئے تھے، اس کو صدقہ کر کے وقف کر دیا۔

About the author

Taasir Newspaper