اردو | हिन्दी | English
224 Views
Politics

انوگرہ بابو کی زندگی سب کیلئے قابل تقلید:گورنر

Governor
Written by Taasir Newspaper
تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے عالمی بینک سے 220 کروڑ روپئے قرض لئے جارہے ہیں: اشوک چودھری

پٹنہ 18 جو ن (طارق حسن)’’ انوگرہ بابوملک کی جنگ آزادی کی صف اول کے مجاہدوں میں سے تھے ۔وہ بہارکے گاؤ ں گاؤ ں میں آزادی کا الکھ جگانے والے باپو کے نقوش قدم پر چلنے والے ان کے عزیز معتقد تھے ۔وہ سیدھا سادھا مزاج، سیدھی ساھی زبان اور خوش اخلاقی سب کیلئے قابل تقلید ہے ۔‘‘۔مذکورہ خیالات اظہار بہارکے گورنر رام ناتھ کو وند نے مقامی اے این کالج میں منعقد ایک تقریب میں کیا۔ موصوف ڈاکٹر انوگرہ نارائن سنہا کی 129 ویں جینتی تقر یب اور کالج کی ڈائمنڈجوبلی تقر یب کے مہمان خصوصی کے طورپر خطاب کررہے تھے ۔اپنے خطاب میں گورنر بہارنے کہاکہ بڑھتی آبادی کوتعلیم یافتہ بنانا اوران کے ہنر کوفورغ دینا ملک کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ یہ کام صرف حکومت کے بھرو سے چھوڑ دیں مناسب نہیں ہے ۔قو م کی تعمیر میں اپنے سماجی ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے سب کو مستعد رہنا چاہئے ۔ انہو ں نے کہاکہ عوام کو ترقی سے جوڑنے کیلئے تعلیم سے بڑاکوئی کار گر اعلیٰ نہیں ہے ۔اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم ڈاکٹر اشوک چو دھری نے کہاکہ نو گرہ بابو ہردلعزیز عوامی رہنماء تھے۔انہو ں نے بہارکی تعمیر نو میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا۔ انہو ں نے کہاکہ ریاست میں معیاری تعلیم فراہم کرانے کیلئے ریاستی حکومت پابند عہدہے۔انہو ں نے کہاکہ ریاست کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے عالمی بینک سے 220 کروڑ روپئے بطورقر ض لئے جارہے ہیں۔اس سے اساتذہ کوٹرینڈ کیاجائے گا۔انہو ں نے کہاکہ ریاست کے سبھی کالجو ں میں پرو فیسرو ں کی کم ازکم پانچ گھنٹے کی حاضری کو لازمی قراردی جانی چاہئے ۔پروفسرو ں کو جو تنخواہ ملتی ہے اس کافائدہ طلباء کوملنا چاہئے ۔ دو سری جانب طلباء کی بھی حاضری کم ازکم 75 فیصد لازمی ہے تبھی طلباء کوامتحان میں شامل ہونے دیاجائے گا۔ انہو ں نے کہاکہ تعلیم نظام کوبہتربنانے کیلئے سماج کوبھی آگے آنے کی ضرورت ہے ۔بہارکو بچا رائے جیسے لوگو ں سے نجات پانے کیلئے ہمیں ایک ہو کر کام کر نا ہو گا۔ تقر یب سے نا گالینڈ اور کیرل کے سابق گورنر نکھل کمار نے بھی خطاب کیا۔ انہو ں نے کہاکہ اگو گرہ بابو سماج کے محروم طبقہ کے مسیحی تھے ۔اس موقع سے مگدھ یونیور سیٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اشتیاق نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

About the author

Taasir Newspaper