اردو | हिन्दी | English
285 Views
Politics

اکیلے پڑے کپل؟ وشواس نے کہا رشوت نہیں لے سکتے کجریوال

vishcash
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی،7 مئی(پی ایس آئی)اروند کیجریوال پر سنسنی خیز الزام لگانے والے آپ لیڈر کپل مشرا کیا اکیلے پڑ گئے ہیں؟ انہیں کمار وشواس کا قریبی سمجھا جاتا ہے. تاہم، ابھی تک بدعنوانی کے معاملے پر ہر لمحے ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کر رہے وشواس نے کہا کہ کیجریوال کبھی رشوت نہیں لے سکتے. کبھی عام آدمی پارٹی کا حصہ رہے دہلی کے وزیر اعلی کے سیاسی مخالف مانے جانے والے یوگیندر یادو نے بھی یہی بات دہراتے ہوئے کہا کہ کیجریوال پر رشوت لینے کے الزامات پر ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہے.عاپ لیڈر کمار وشواس نے کہا کہ وہ کیجریوال کو 12 سال سے جانتے ہیں. کیجریوال پیسہ لیں گے یا کرپشن کریں گے، ایسا وہ سوچ بھی نہیں سکتے. کیجریوال نے کہا کہ اگر سسودیا کرپشن کریں تو سب مل کر انہیں باہر نکال دیں گے اور اگر وہ خود کرپشن کریں تو انہیں بھی باہر نکالا جائے. کمار نے بتایا کہ کیجریوال نے ستیندر جین سے کہا کہ وہ پی اے سی میں آئیں اور سچ سب کے سامنے رکھیں. وشواس کے مطابق، ‘کپل کے الزامات کو دشمن بھی صحیح نہیں مان سکتے. میڈیا میں سیاسی ایجنڈے پر بات ہو سکتی ہے، لیکن ذاتی الزامات پر بات نہیں ہو سکتی. کپل ہوں یا امانت اللہ خان، کسی کو بھی میڈیا سے پہلے پارٹی فورم پر اپنی بات رکھنی چاہیے تھی.’ ابھی تک مانا جا رہا تھا کہ کمار وشواس کپل مشرا کی حمایت میں کھڑے ہیں. مشرا کی کیجریوال کابینہ سے الوداعی کے فوراً بعد کمار وشواس نے ٹویٹ کر کہا، ‘میں ملک اور کارکنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم بدعنوانی کے خلاف اندر اور باہر آواز اٹھانا جاری رکھیں گے، نتائج چاہے کچھ بھی ہو. کمار وشواس نے کپل مشرا کے ایک ٹویٹ کو ریٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا. کمار نے کپل کا جو ٹویٹ ریٹویٹ کیا تھا اس میں کپل نے اسپیشل کمشنر آف پولیس (اینٹی کرپشن برانچ) ایم. کے. مینا سے سوال پوچھا تھا کہ دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت سے اب تک پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی ہے. انہوں نے اس کے ساتھ ہی مینا کو لکھے گئے خط کی تصویر بھی شیئر کی تھی. وشواس نے ایک اور ٹویٹ میں کہا، ‘ایک تحریک اور صحیح. نہ تھکے ہیں نہ ڈرے ہیں. اقتدار کے کسی گھڑے کا بوند بھر پانی بھی نہیں چکھا، لہذا ابھی تک جنتر منتر کی آگ باقی ہے. ساتھیوں پر یقین رہو.’

About the author

Taasir Newspaper