اردو | हिन्दी | English
237 Views
Politics

این آئی ٹی سرینگرکے معاملے میں مرکزی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے:نتیش کمار

nitish-kumar
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ07 اپریل (طارق حسن): وزیر اعلی نتیش کمار نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی(این آئی ٹی) سرینگر میں طلبا کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مرکز کی دوہری پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ مسٹر کمار نے آج یہاں کہا کہ مرکز اور جموں کشمیر میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے۔ این آئی ٹی سرینگر میں طالب علموں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے جس میں بہار کے بھی طالب علم ہیں۔ این آئی ٹی جیسے ادارے میں جہاں مختلف ریاستوں کے بچے پڑھتے ہیں جو ہر ریاست میں ہیں، میں اس طرح کا واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واقعہ کو قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ معاملے میں مرکزی حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ بہار حکومت اس ضمن میں جموں و کشمیر حکومت سے بات چیت کر رہی ہے اور این آئی ٹی میں پڑھنے والے بہار کے طلبا کی حفاظت کے لئے خصوصی توجہ دینے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت ایک طرف تو بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگاتی ہے اور دوسری طرف جموں و کشمیر میں بھارت ماتا کی جے نعرے لگانے والوں کی پٹائی کرواتی ہے۔ یہ واقعہ مرکزی حکومت کی دوہری پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ مرکزی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ محکمہ توانائی کی جائزہ میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شراب بندی پورے بہار میں ایک ساتھ لاگو کی گئی ہے۔ اس کیلئے سبھی سیاستی جماعت ایک پلیٹ فارم پرہیں، سبھی جماعتوں نے شراب بندی کیلئے اپنا مکمل تعاون دینے کو کہا ہے۔ شراب بندی کو زبردست حمایت ملی ہے اس کے ذریعہ ریاست میں سماجی تبدیلی کی ایک نئی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس کیلئے بہار کے لوگوں میں زبردست جوش وخروش ہے۔ وزیراعلیٰ نے شراب بندی کی تاریخ کے حوالہ سے کہا کہ زمانہ قدیم سے لے کر آزادی کی لڑائی تک مہاتما گاندھی، جئے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر، مرار جی دیسائی بھی شراب بندی کے حق میں تھے اور اس کیلئے کوشاں رہے۔ کرپوری ٹھاکر نے 1977 میں شراب بندی لاگو کی تھی اور مرارجی دیسائی نے اس کیلئے ملک بھر میں پرچار کیا تھا۔ ہم لوگوں نے سبھی پہلوؤں اور مختلف ریاستوں کے تجربوں کی اسٹڈی کی ۔ (باقی صفحہ 7 پر)اسٹڈی کے بعد ہی
شراب بندی لاگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تو ایک اپریل 2016 سے دیسی مسالے دار شراب پر مکمل پابندی لاگو کی تھی مگ  شہری علاقوں میں غیر ملکی شراب کی دکان کھلنے کی مخالفت کو دیکھ کر اور شراب بندی کیلئے لوگوں میں جوش وخروش کو دیکھتے ہوئے حکومت نے مکمل شراب بندی لاگو کی ہے۔ لیکن یہ کوئی اخلاقی تجارت تو ہے نہیں، شراب صحت کیلئے نقصان دہ ہے ،لوگوں کا جو پیسہ بچے گا اس سے لوگ دوسرے شعبے، ہیلتھ ،ایجوکیشن اور نیوٹریشن کے شعبے میں خرچ کریں گے۔ اس سے مارکیٹ اکانامی بہتر ہوگی اس سے دوسرے شعبے کو فروغ ملے گا۔ لوگ لوگ اچھے کاموں میں پیسے کو خرچ کریں گے جس سے ان کی سطح زندگی بڑھے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سماجی تبدیلی کیلئے پورا ماحول تیار ہورہا ہے، شراب بندی کا بہار میں کامیابی کے ساتھ لاگو ہونے پر عوامی تحریک کی شکل میں پورے ملک میں اس کی مانگ ہوگی۔ آج بہار کے بعد ملک کے لوگ شراب بندی کی حمایت میں بول رہے ہیں۔ کل مہاراشٹر سے ایک خاتون سیلف ہیلپ گروپ کی خبر آئی تھی۔ ساتھ ہی جگہ جگہ لوگ پیغام بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب بندی کو لاگو کر کے ہم ملک کی ترقی میں مدد کریں گے۔ خشک سالی کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں خشک سالی کی صورتحال خوفناک ہے۔ بہار میں بھی کم بارش کی وجہ سے واٹر لیول کی سطح نیچے گرتی جارہی ہے پورے بہار میں صورتحال ایک جیسی ہی ہے۔ گرمی کے موسم میں لوگوں کو مختلف طرح کی دشواری ہورہی ہے، پینے کے پانی کابھی مسئلہ ہے۔ آج مرکزی حکومت اور پورے ملک کو اس کی فکر ہونی چاہئے، سبھی کو ایک ساتھ ملاکر زیادہ فعال ہوکرکام کرنا چاہئے۔

About the author

Taasir Newspaper