اردو | हिन्दी | English
228 Views
Sports

بنگلور اور حیدرآبادمیں سے کس کے سر سجے گا آئی پی ایل9کاتاج، فیصلہ آج

Virat-Kohli-and-Ricky-Ponting
Written by Taasir Newspaper
دھون اور یوراج بھی ہوں گے توجہ کا مرکز، بنگلور کی بلے بازی اور حیدرآباد کی بالنگ کاامتحان

بنگلور28مئی(آئی این ایس انڈیا)متاثر کن کپتان وراٹ کوہلی کی قیادت میں رائل چیلنجرز بنگلور کل یہاں کپتان ڈیوڈ وارنر کی سن ر ائزرس حیدرآباد کے خلاف ہونے والے فائنل مقابلے میں آئی پی ایل میں تیسری بار ملے اس موقع کو چھوڑنا نہیں چاہے گی وہیں دونوں ٹیموں کی نگاہیں اپنے پہلے ٹی 20کے خطاب پر لگی ہوں گی۔تاہم بنگلور کو سن رائزرس پر پلڑا تھوڑا بھاری ہے کیونکہ ان کے پاس دو بار آئی پی ایل فائنل 2009اور 2011میں کھیلنے کا تجربہ ہے، لیکن دونوں ہی مواقع پر ٹیم رنراپ رہی تھی۔سن رائزرس حیدرآباد کی اس سے پہلے بہترین کارکردگی پلے آف مقام رہا جو اس نے 2013میں اپنے ڈبیو سیشن میں حاصل کیا تھا۔بنگلور کی مہم شروع شروع میں تھوڑی اتار چڑھاؤ بھری رہی جس سے انہیں پلے آف میں جگہ بنانے کے لیے آخری چار میچ جیتنے کی درکار تھی اور انہوں نے صرف اتنا ہی حاصل نہیں کیا بلکہ کوالیفائر میں اپنی جیت سے تیسری بار براہ راست فائنل میں جگہ یقینی بنائی۔رائل چیلنجرز بنگلور کی ٹیم ابھی جس تال میں، اس سے وہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اس عظیم ٹی 20ٹورنامنٹ کو جیتنے کیلئے پرعزم ہوگی کیونکہ دو بار وہ اس موقع سے چوک چکی ہے۔بنگلور نے فارم بالکل صحیح وقت پر حاصل کی اور پانچ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے گجرات لائنس(کو 144رنز)، کولکاتہ نائٹ رائڈرس(کو نو وکٹ )، کنگز الیون پنجاب(کو ڈک ورتھ لیوس نظام سے 82رنز سے )، دہلی ڈیر ڈیولس(چھ وکٹ)اور پھر پہلے کوالیفائر میں گجرات(چار وکٹ)کو شکست دے کر فائنل میں جگہ یقینی بنائی۔سب کی نگاہیں بنگلور کے کوہلی اور اے بی ڈی ویلیئرز پر لگی ہوں گی جنہوں نے اپنی بلے بازی سے سب کو متاثر کیا ہے۔کوہلی کپتانی میں بھی متاثر کن ہیں، مایوس کن آغاز کے بعد انہوں نے اپنی ٹیم میں اعتماد بھر دیا،جب ٹیم کیلئے کوالیفائی کرنا مشکل نظر آرہا تھا، کپتان نے اپنی بلے بازی اور بہترین قیادت کی صلاحیت سے اسے ممکن کر دکھایا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کوہلی ابھی تک اپنے کیریئر کی بہترین فارم کا لطف اٹھا رہے ہیں اور ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بلند والے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 15میچوں میں 919رنز جوڑے ہیں جس میں 6 نصف سنچری اور 4 سنچری شامل ہیں اور ان کا سب سے زیادہ ا سکور 113رنز کا رہا۔وہیں ڈی ویلیئرز لیگ میں 682رنز بنا کر تیسرے سب سے زیادہ رن بلند والے کھلاڑی ہیں، اس میں انہوں نے ایک سنچری اور چھ نصف سنچری بنائی ہیں۔بلکہ یہاں چنا سوامی اسٹیڈیم میں پہلے کوالیفائر میں فتح کے لیے 159رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے بنگلور کی ٹیم ایک وقت پانچ وکٹ پر 29رنز بنا کر دو چار تھی لیکن ڈی ویلیئرز نے ناٹ آؤٹ 79رنز کی بہترین اننگز کھیلی اور ساتویں وکٹ کے لیے اقبال عبداللہ (33)کے ساتھ میچ فاتح 91رن کی شراکت کرکے ٹیم کو فائنل میں پہنچا دیا۔کوہلی اور ڈی ویلیئرز کے علاوہ بڑے ہٹر کرس گیل بھی کل بڑی اننگز کھیلنے پر نگاہ لگائے ہوں گے، انہوں نے گزشتہ چند میچوں میں فارم میں واپسی کے اشارے دئے ہیں۔بنگلور کی واپسی کا کریڈٹ ٹیم کے کم تجربہ کار بولنگ اٹیک کو بھی دیا جانا چاہئے جس نے آخر میں اچھی کارکردگی کی لیکن ٹورنامنٹ کے شروع میں اس کی بہت تنقید کی جا رہی تھی۔بالنگ میں واپسی لیگ اسپنر یجوندر چاہل کی بدولت ہی ممکن ہو سکی، جس نے 12میچوں میں 20وکٹ گراکر ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹ لینے میں دوسرے نمبر پر ہیں۔کرس اردن نے جب سے ٹیم میں داخل ہوئے تب سے بنگلور کو آخری اوور میں اپنے حریفوں کو روکنے میں مدد ملی۔وہیں آسٹریلیا شین واٹسن نے بھی گیند سے ٹیم کیلئے اچھی کارکردگی کی ہے۔ انہوں نے بھی اس سیشن میں ابھی تک 15میچوں میں 20وکٹیں حاصل کر لیے ہیں۔کل کا میچ بنگلور کے لیے سن رائزرس سے پچھلے مقابلہ میں ملی 15رن کی شکست کا بدلہ چکانے کا موقع بھی ہوگا۔رائل چیلنجر بنگلور کی طرح سن رائزرس حیدرآباد کی ٹیم بھی اپنے کپتان وارنر پر انحصار کرے گا جنہوں نے شاندار قیادت کرتے ہوئے ٹیم کو پہلی بار آئی پی ایل فائنل میں پہنچایا۔سن رائزرس کی ٹیم دو بڑی فتح کے بعد فائنل میں پہنچی ہے، اس نے پہلے دو بار کی چمپئن کولکاتہ نائٹ رائڈرس کو ایلمنیٹر میں 22رنز سے شکست دی اور پھر دوسرے کوالیفائر میں گجرات لائنز کو چار وکٹ سے شکست دی۔وارنر نے ابھی تک 16میچوں میں آٹھ نصف سنچریوں کی مدد سے 779رنز جٹائے ہیں، وہ آئی پی ایل 9میں سب سے زیادہ رن بلند والے بلے بازوں میں کوہلی کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔دوسرے کوالیفائر میں لائنز کے خلاف ناقابل شکست 93رنز کی میچ فاتح اننگز وارنر کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔وارنر کے علاوہ سن رائزرس میں شکھر دھون(473رنز)، تجربہ کار یوراج سنگھ، موجیس ہینرکس، دیپک ہڈا، نمن اوجھا اور آل راؤنڈر بین کٹنگ بلے بازی کے شعبہ میں موجود ہیں۔لیکن سن رائزرس کے لئے ان کی بولنگ اس سیشن میں غیر معمولی رہی ہے،بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کل کا میچ بنگلور کی بلے بازی اور سن رائزرس کی بولنگ یونٹ کے درمیان ہو گا۔

About the author

Taasir Newspaper