اردو | हिन्दी | English
192 Views
Uncategorized

بھگوا دہشت گردوں کوکلین چٹ‘ ہندوراشٹر کابلوپرنٹ

این آئی اے کی جانبداری سوالوں کے گھیرے میں:اشفاق رحمٰن

پٹنہ ، 21اپریل (طارق حسن)۔ جنتادل راشٹروادی نے سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزم خاص کرنل پروہت کو کلین چٹ دیے جانے پر نہ مذمت کی ہے اور نہ حیرت کااظہار کیا ہے۔ پارٹی کے قومی کنوینر اور جواں سال مسلم رہنما اشفاق رحمن نے کہا ہے کہ ہیمنت کرکرے جیسے ایماندار این آئی اے افسر کی مشتبہ موت کے بعد ازسرنو این آئی اے کی تشکیل کے وقت ہی طے ہوگیا تھا کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اب غیرجانبدار نہیں رہیں گی۔ مسلمانوں پر آفت آئے گی اوربھگوا دہشت گردوں کا بہار ہوگا۔ کرکرے بھگوا دہشت گردی پر شکنجہ کس رہے تھے اس وجہ کر ہی ان کی موت سوالوں کے گھیرے میں رہی ہے۔ اس شبہہ کو تقویت اس وجہ کر بھی ملتی ہے کہ این آئی اے کی تحقیقات پوری طرح سے فریب، جھوٹ اورمکاری پرمبنی ہے۔ وہ پوری طرح سے بھگوا رنگ میں رنگ گئی ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ این آئی اے کو ہندوراشٹرکے قیام کی ذمہ داری درپردہ سونپی گئی ہے جسے وہ پوری ایمانداری کے ساتھ نبھا رہی ہے۔ جگ ظاہر ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ میں مسلمان مارے گئے تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ دھماکہ کسی مسلمان نے تونہیں ہی کیا ہوگا؟ اس دھماکہ کے بعد فخریہ طور پر ماسٹرمائنڈ اسیمانند نے قبول کیا تھا کہ آر ایس ایس نے ہندوراشٹرکی تکمیل کے لئے ملک کے مختلف گوشوں میں دھماکوں کی ذمہ داری انہیں سونپی تھی جس میں کرنل پروہت ،سادھوی پرگیہ اور آر ایس ایس کے دیگر سرکردہ لوگ شامل تھے۔ سادھوی پرگیہ پر مرکز پہلے سے مہربان ہے اوراب کرنل پروہت کے خلاف کوئی ثبوت نہیں جٹا کر این آئی اے نے بھگوادہشت گردوں کے حوصلے کو پروان دیا ہے۔ دراصل بھگوا دہشت گردوں کی رہائی ہندوراشٹرکا بلوپرنٹ ہے کہ اگربھارت ہندوراشٹر ہوا تو اس میں بھگوا دہشت گردوں کو مکمل آزادی ہوگی اور بے قصور، معصوم مسلمانوں کو بے وجہ سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جائے گا۔ ان کے مقدمات تک کوئی نہیں لڑے گا۔ ملک کے کئی ریاستوں میں یہ معاملہ سامنے بھی آیا ہے۔ جبکہ بھگوادہشت گردوں کو کلین چٹ دینے کے لئے تمام حربے استعمال کیے جائیں گے۔ کوئی وجہ نہیں کہ کرنل پروہت، سادھوی پرگیہ، اسیمانند جیلوں سے باہر آئیں توان کا مجاہد آزادی کی طرز پر زبردست استقبال کیاجائے۔ حالیہ دنوں میں عشرت تصادم کے ماسٹرمائنڈ ڈی جی ونجارا جیل سے رہائی کے بعد گجرات پہنچے تو ان کا زوردار خیرمقدم ہوا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں ہندو راشٹر کا بلوپرنٹ تیزی سے تیار ہورہا ہے۔ ایک ساتھ کئی محاذ پر یلغار بولاجارہا ہے اور ہندوراشٹر کے قیام کے لئے منظم طریقہ سے بھگواد ہشت گردوں کو کلین چٹ دیاجارہا ہے۔ بھگوا دہشت گردوں پر مرکز پوری طرح سے مہربان ہے۔ہندوراشٹرکے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے شریعت پر حملہ کے ساتھ مسلم اداروں کو کمزور کرنے کی بھی سازش چل رہی ہے۔ سنگھ پریوارکے ایجنڈے میں مسلم دشمنی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور ملک کے ٹی وی چینل مسلمانوں سے دشمنی اور دہشت گردی کے حوالے سے ان کی شبیہہ بگاڑنے میں بڑی تندہی سے مصروف عمل ہیں۔ نت نئے مسلمانوں کو فروعی مسائل میں الجھایاجارہا ہے۔ تین طلاق سے لے کر مزاروں، قبرستانوں پر مسلم عورتوں کے داخلے کولے کرسوال اٹھائے جارہے ہیں۔ مسلم عورتوں کی آزادی کو بھی ایجنڈہ بنایاجارہا ہے۔ چینلز کے مباحثے میں آداب گفتگو اورشائستہ طریقوں سے ناواقف آر ایس ایس، بی جے پی اوروشوہندوپریشدکے ترجمان بہت کم دوسروں کوبولنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ سب ہندوراشٹر کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور بولنے تک کی آزادی نہیں دی جارہی ہے۔ باوجود اس کے مسلمان ہوش کے ناخون نہیں لے رہے ہیں اور جوتیوں میں دال بانٹنے کی روش پر اب تک قائم ہیں۔ اگرمتحدہ طور پر مقابلہ کیلئے نفسیاتی طور پر تیاری نہیں کی گئی تو پوری قوم جسمانی اور ذہنی طور پرمفلوج ہوکر رہ جائے گی۔ کرنل پروہت جیسے لوگ دھماکہ کرنے کے بعد بھی باعزت طریقہ سے گھومنیں گے اور مسلمانوں کی عزت اتارنے کا سلسلہ اسی طرح پروان چڑھتا رہے گا۔

About the author

Taasir Newspaper