اردو | हिन्दी | English
145 Views
Politics

بہار میں مکمل شراب بندی لاگو

1
Written by Taasir Newspaper

ہمیں ویسی آمدنی نہیں چاہئے جس سے لوگوں کو زندگی کی قیمت چکانی پڑے:وزیراعلیٰ                           پٹنہ، 5اپریل (طارق حسن): کابینہ کی میٹنگ میں آج سے ملکی و غیر ملکی شراب کے تھوک اور خوردہ تجارت اور استعمال پر مکمل طور پرپابندی لگادی گئی۔ اس امر کا نوٹی فکیشن آج ہی جاری ہوجائے گا۔ مذکورہ جانکاری وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج کابینہ کی میٹنگ کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شراب بندی کے پہلے مرحلہ میں یکم اپریل 2016ء سے دیسی اور مسالہ دار شراب پر پابندی لگائی گئی۔ نئی اکسائز پالیسی کے ذریعہ یہ طے ہوا کہ پورے بہار میں مرحلہ وار طریقے سے مکمل شراب بندی لاگو کریں گے۔ پہلے مرحلہ میں دیسی اور مسالہ دار شراب، اس کے بعد غیرملکی شراب پر پابندی لگائی جائے گی۔ مکمل طور پر شراب بندی کے لئے عوامی بیداری مہم چلائی گئی۔ زبردست ماحول بنا۔ خواتین اور بچوں نے عوامی بیداری مہم میں سرگرم رول نبھایا۔ اسکولی بچوں نے اپنے سرپرستوں سے حلف نامہ لیا کہ ہم شراب نہیں پئیں گے۔ ایک کروڑ 17 لاکھ حلف نامے جمع ہوئے۔ 84 ہزار نکڑ ناٹک ہوئے۔ سات لاکھ سے زائد شراب بندی کے حق میں نعرے لکھے گئے۔ لوگوں میں شراب بندی کو لے کر مکمل جوش و خروش اور خوشی کا ماحول بنا۔ یکم اپریل 2016 سے دیسی اور مسالہ دار شراب بندی کے پہلے 12 لاکھ 58 ہزار دیسی شراب تباہ کی گئی۔ نئی اکسائز پالیسی کے تحت 4933 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ بل میں سخت ضابطے لاگو کئے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پورے بہار میں لوگوں نے شراب بندی کا بھرپور استقبال کیا۔ پورے بہار میں صاف ستھرا ماحول بنا۔ (باقی صفحہ 7 پر) یہ ایک عوامی تحریک کی شکل لے چکا ہے۔ سماجی تبدیلی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ پہلے مرحلہ میں نگرنگم اور بلدیات کے شہری علاقوں میں بیوریج کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعہ غیرملکی شراب کی دکانوں کو چالو کیا گیا۔ کئی جگہوں پر لوگو ں نے غیرملکی شراب کی دکان کی زبردست مخالفت کی۔ کئی جگہوں پردکان کھلنے ہی نہیں دی گئی۔ آج یہ فیصلہ لیا گیا کہ فوری اثر سے غیرملکی شراب پر بھی مکمل طور پر پابندی لاگو ہو۔ اب کسی طرح کا کوئی فرق شہر یا دیہات میں نہیں ہوگا۔ دیسی مسالہ دار اور غیرملکی شراب پرمکمل طور پر پابندی لاگو کی گئی۔ غیرملکی شراب کی بھی تھوک اور خوردہ فروخت مکمل طور پر بند کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مکمل شراب بندی کے بعد بڑے بڑے ہوٹلوں، ریستراں، کلبوں اور بار میں فوری اثر سے شراب کی فروخت اور شراب پینے پر پوری طرح سے پابندی لگ گئی ہے۔ فوج کے کینٹین اس سے آزاد رہیں گے۔ آج سے پورے بہار میں دیسی اور غیرملکی شراب کی فروخت نہیں ہوگی۔ اکسائز اور شراب بندی محکمہ کی جانب سے اب اس کے لئے لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ شراب پینے، فروخت کرنے اور شراب کا استعمال کرنے پر مکمل طور پر پابندی لگادی گئی ہے۔ انہوں نے خواتین کو مبارکباد دی۔ لوگوں نے شراب بندی کا خیرمقدم کیا۔ بہار شراب بندی کے لئے ملک میں مثال بنے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں تاڑی پر محکمہ جاتی نوٹیفکیشن 187، یکم اپریل 1991 کا جو فیصلہ ہے، وہی فیصلہ آج بھی ہے۔ یہ مؤثر طریقے سے لاگو ہوگا۔ تاڑی کے سلسلے میں نوٹس جاری کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبل کے قانون کے تحت تاڑی کی فروخت پر دکانیں، ہاٹ، بازار کے مصروف ترین مقامات، شہری علاقوں میں اسپتالوں، اسٹیشن، بس اسٹینڈ، نیشنل ہائی وے، مذہبی مقامات اور پٹرول پمپ کے قریب پچاس میٹر کے دائرے میں مؤثر طریقے سے پابندی رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ ایس سی/ ایس ٹی کی بستی میں اور بڑی آبادی والے علاقے میں تاڑی کی فروخت نہیں ہوگی۔ سال 1991 سے ہی تاڑی پر روک لگی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ طلوع آفتاب سے قبل تاڑ سے نکلے رس کونیرا کہا جاتا ہے، وہ خوبیوں والا، قابل استعمال اور صحت بخش ہوتا ہے لیکن تاڑی صحت بخش نہیں ہوتا ہے۔ سورج کی کرن پڑنے کے بعد تاڑی میں منشیات کی خصوصیت آجاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تاڑ میں کئی ایسی خصوصیتیں ہیں، جو فائدہ مند ہیں اس لئے سرکار کمفیڈ کی طرز پرتاڑی کے کاروبار سے جڑے لوگوں کا یونین اور فیڈریشن بنایا جائے گا، اس کی ایک تفصیلی منصوبہ بندی تیار کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اس کے لئے ریاست کے ترقیات کمشنر کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں پرنسپل سکریٹری صنعت، پرنسپل سکریٹری اکسائز اور شراب بندی، ایم ڈی کمفیڈ اور دیگر محکمہ کے سکریٹری اس کے ممبر ہوں گے۔ محکمہ صنعت نوڈل محکمہ کی شکل میں کام کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیرا کو فروغ دیا جائے گا۔ تاڑ کی پیداوار کا استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ طلوع آفتاب سے پہلے کے نیرا کو پروسیسنگ اور باٹلنگ کرکے بازار میں اتارا جائے گا۔ چار مہینے نیرا ملے گا، آٹھ مہینوں میں تاڑ کی دیگر پیداوار کا استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اگلے سال سے اسے لاگو کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ سب سے زیادہ تاڑ کا درخت تمل ناڈو میں ہے۔ تمل ناڈو اگریکلچر یونیورسٹی نے تاڑ کی پیداوار پر ریسرچ کیا ہے۔ تمل ناڈو کی تاڑ پیداوار کے ریسرچ کی پوری جانکاری لی جارہی ہے۔ ریسرچ کے مدد سے بہار میں نیرا اور تاڑ کی دیگرپیداواروں کی فروخت کے لئے منصوبہ بنایا جائے گا۔ پہلے کھادی گرام ادیوگ کے ذریعہ نیرا کو فروغ دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک تاڑ کے درخت سے ایک سال میں 6 ہزار سے زائد کی آمدنی ہوگی۔ اس سے لوگوں کو باوقار روزگار بھی مل سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ نیرا کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی اور اس کے لئے ٹریننگ اور تقسیم کا انتظام کیا جائے گا۔ حکومت تاڑ کی پیداوار کے لئے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔ لوگوں کو باوقار روزگار بھی مل سکے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج سے بہار ڈرائی اسٹیٹ ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ بہار کے عام عوام اور خواتین کومبارکباد دیتا ہوں۔ یہی تیور بنائے رکھیں تو بہار ایک مثال بنے گا۔ جو پیسہ شراب میں خرچ ہورہا تھا، وہ لوگوں کی صحت، تعلیم اور تغذیہ میں خرچ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بیوریج کارپوریشن کے پاس جو غیرملکی شراب کا اسٹاک ہے، جس میں 36 ہزار لیٹر ضبط غیرملکی شراب ہے، اس کے ڈسپوزل کے لئے حکومت نے اکسائز محکمہ کو بااختیار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں غیرملکی شراب بنانے کے کارخانوں پر پابندی نہیں ہے، صرف اس کی ریاست میں فروخت پر پابندی رہے گی۔ اگر کوئی شراب کا کارخانہ ہے تو وہ اسے ڈیجیٹل لاک اور جی پی ایس سسٹم کے ذریعہ دوسری ریاست میں لے جاسکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دوسری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی تعاون دینے کے لئے خط لکھا گیا ہے۔ چیف سکریٹری، ڈی جی پی اور پرنسپل سکریٹری اکسائز اور شراب بندی لگاتار دوسری ریاست کے اپنے اپنے کاؤنٹر پارٹ کے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی فروخت سے ہونے والی ریونیو کو نقصان کی شکل میں نہیں بلکہ سماجی فائدہ کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ شراب پر خرچ ہونے والے پیسوں کا استعمال لوگ تعلیم، صحت کو سدھارنے، سطح زندگی کو بہتر کرنے اور تغذیہ میں کریں گے۔ جہاں تک ریونیو کے نقصان کا سوال ہے ، اس کی بھرپائی دیگر ٹیکسوں سے ہوسکتی ہے۔ا نہوں نے کہاکہ ہمیں ویسی آمدنی نہیں چاہئے، جس سے لوگوں کو زندگی کی قیمت چکانی پڑے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے علاوہ وزیر توانائی وجیندر پرساد یادو، آبی وسائل وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ، رجسٹریشن، اکسائز اور شراب بندی وزیر عبد الجلیل مستان، چیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ، پولیس ڈائرکٹر جنرل پی کے ٹھاکر، پرنسپل سکریٹری داخلہ عامر سبحانی، پرنسپل سکریٹری اکسائز اور شراب بندی کے کے پاٹھک، پرنسپل سکریٹری صنعت ایس سدھارتھ، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری چنچل کمار، اتیش چندرا اور منیش کمار ورما موجود تھے۔

About the author

Taasir Newspaper