اردو | हिन्दी | English
282 Views
Bihar News

بہیری میں تدفین کے دوران تشدد ،پولیس پر پتھراؤ ، 1ہلاک

darbhanga
Written by Taasir Newspaper

دربھنگہ :۸؍مئی (عبد المتین قاسمی )بینی پور سب ڈویزن حلقہ کے بہیری تھانہ حلقہ کے تحت ہاوی ڈیہہ گاؤں میں تشدد پر آمادہ بھیڑ نے پولیس پر پتھراؤ کیا ، گاڑیوں پر حملہ کرتے ہوئے اسے شدید طور پر نقصان پہنچایا اور رائٹ کنٹرول وین کو سڑک سے نیچے گراتے ہوئے اسے آگ کے حوالہ کردیا ۔ مشتعل ہجوم اوردنگائیوں پر قابو پانے کیلئے پولیس نے پہلے لاٹھی چارج کیا ،آنسو گیس کے گولے داغے اس کے باوجود بھیڑ کے منتشر نہ ہونے کی صورت میں پولیس نے ہوائی فائرنگ کی جس میں تقریبا چار لوگ زخمی ہوگئے اس میں سے دو افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے جنہیں علاج دربھنگہ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ۔شدید طور پر زخمی ۲۳؍ سالہ وجے رام کی موت ہوگئی ہے جبکہ ۱۶؍سالہ سندریکا کماری کا علاج تا دم تحریر جاری ہے اوراس کے ران میں گولی لگی ہوئی ہے ۔ دیگر زخمیوں کا علاج نجی نرسنگ ہوم میں کرایا جارہا ہے۔ زبردست کشیدگی کے مد نظرڈی ایم ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ اور ایس ایس پی ستیہ ویر سنگھ لائف جیکٹ اور ہیلمٹ پہن کر موقع پر کیمپ کرتے دیکھے گئے ہیں ۔ اعلی حکام حالات پر قابو پانے کی ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہیں ۔ پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہے اور لوگوں میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے ۔ در اصل بہیرا بلاک کا ہاوی ڈیہہ گاؤں پسماندہ مسلم برادری راعین طبقہ کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہاں کے قبرستان کا معاملہ لمبے عرصہ سے متنازعہ بنا ہوا ہے۔ گذشتہ 7؍ مئی اتوار کوگاؤں کے ایک 60 سالہ شخص کا انتقال ہو گیا۔ان کی تدفین کیلئے مذکورہ قبرستان میں قبر کھوداجا رہا تھا تبھی برادران وطن نے جبرا قبر کھودنے سے روک دیا جس کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا۔ہنگامہ کے بعد گاؤں کے سرکردہ لوگ دربھنگہ ہیڈ کواٹر آئے ڈی ایم ایس ایس پی سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں وہ کامیاب نہیں ہوئے ۔ بعد میں سب ڈویزن انتظامیہ کی مدد سے لاش کو دفنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس پر بھی بات نہیں بنی ۔ انتظامیہ نے صبح تک انتظار کرنے کو کہا چنانچہ آج صبح زبردست سیکوریٹی کے بیچ انتظامیہ نے قبر کھودوایا اور تدفین کروائی ۔ اس سے اکثریتی طبقہ کے لوگ مشتعل ہوگئے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بھیڑ نے پولیس کی کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑمچادی اور فساد کنٹرول گاڑی کو آگ کے حوالہ کردیا ۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کیلئے لاٹھی چارج ، آنسو گیس کے گولے داغے اور پھر ہوائی فائرنگ کی جس سے تقریبا چار لوگ زخمی بتائے جاتے ہیں۔ زخمیوں میں ایک لڑکے کی موت ہوگئی ہے بقیہ کا علاج چل رہا ہے ۔ کشیدگی ختم کرنے اورحالات معمول پر لانے کیلئے ڈی ایم ایس ایس پی ہر سطح پر جدو جہدکررہے ہیں ۔ ادھر ہاوی ڈیہہ کے اقلیتوں کی مانیں تو دو بیگھا تین کٹھا سولہ دھور زمین قبرستان کے نام سے رجسٹرڈ ہے (کھاتا نمبر 604؍کھسرہ نیا 750اور پرانا 366)پر مسلمانوں کا قبضہ ہے۔اس زمین پر بلاک انتظامیہ نے پچھلے دنوں مٹی بھرائی کا کام کروایاتھا اور مٹی بھرے جانے کے بعد اسے انچل انتظامیہ نے چالاکی سے دو حصے میں بانٹ دیا جس میں آدھا شمشان اور آدھا قبرستان باقی رکھا گیا اور اس آدھے حصہ میں سے بھی صرف آدھے حصہ میں چہار دیواری کروائی گئی باقی بچی آدھی زمین خالی پڑی تھی جس کی چہار دیواری کا کام جب ایک طبقہ کے لوگوں نے شروع کیا تو برادران وطن نے اسے روک دیا تب سے یہ معاملہ سنگین بنا ہوتا تھا اورکل گذشتہ دن جب گاؤں کے ایک ضعیف کی موت ہوئی اور ان کی تدفین کا معاملہ سامنے آیا تب اکثریتی طبقہ کے لوگوں نے چہار دیواری والے قبرستان میں بھی دفنانے سے روک دیا تھا ۔جس کے بعد پولیس انتظامیہ نے اپنی نگرانی میں تدفین کروایا اور اسی دوران مشتعل بھیڑ نے پولیس کے خلاف محاذ کھول دیا ۔

About the author

Taasir Newspaper