اردو | हिन्दी | English
193 Views
Politics

بی جے پی خوش تو ہوسکتی ہے مگر فخر صرف ممتا کا حق ہے

Mamata-Banerjee
Written by Taasir Newspaper

ابھی صرف بارہ بجے ہیں ہماری مجبوری ہے کہ ہمارے لکھنے کا وقت یہی ہے ۔ہر چند کہ ابھی صرف رجحان آرہے ہیں نتائج نہیں ۔ابھی بہت وقت باقی ہے اور کچھ الٹ پلٹ ہو سکتی ہے ۔لیکن اتنا معلوم ہوگیا ہے کہ زمین زمین ہی رہی اور آسمان آسمان۔بی جے پی کو پانچ ریاستوں میں سے ایک آسام مل گئی ہے ۔اسکے بارے میں پہلے سے کہا جارہا تھا کہ کانگریس کا ہی ایک گروپ اتراکھنڈ کی طرح کانگریس سے ٹوٹ کر بی جے پی کو مل گیا ہے ۔اوربی جے پی کے صدر امت شاہ اس میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ مولانا بدرالدین اجمل اور کانگریس کا محاذنہ بنے۔یہ بات دو مہینے پہلے معلوم ہوچکی تھی کہ مولانا اجمل اور شری شاہ کے درمیان ڈیل ہوگئی ہے ۔مولانا بدرالدین بے شک عالم دین ہے دار العلوم دیوبند کے فاضل ہیں ۔لیکن آسام کے مسلمانوں میں اگر سب سے بڑے نہیں تو چند بڑوں میں ایک وہ ہیں جنکا کاروبارصر ف ہندوستان میں نہیں آدھی دنیا میں پھیلا ہوا ہے ۔وہ عود کے عطر کے اور پرفیوم کے ایسے ہی بادشاہ ہیں جیسے کبھی حنا کے عطر کے اصغر علی محمد علی ہوا کرتے تھے ۔اتنے بڑے کاروباری مرکزی حکومت سے الگ رہ کر نہ کاروبار کو زندہ رکھ سکتے ہیں اور نہ خود چین سے رہ سکتے ہیں ۔
وہ اور ان کے بھائی آسام سے ہی پارلیمنٹ کے ممبر ہیں ۔اور برسوں سے وہ سیاست میں رہنے پر اس لئے مجبورہیں کہ بڑے کاروباروالوں کو سیاست اور حکومت سے تعلق رکھناانکی مجبوری ہوتی ہے ۔انہیں ایکس پورٹ اور امپورٹ کے لئے قدم قدم پر حکومت کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے ۔لکھنو والوں کے لئے انکی مشکل سمجھنا اس لئے آسان ہے کہ وہ اخبارات پڑھ چکے ہیں کہ لکھنو کے مشہور ’’ٹنڈے کے کباب‘‘جو کبھی چوک میں تحسین کی مسجدکے نیچے ایک گپھا میں ہوا کرتے تھے اور اب نہ صرف پورے لکھنؤمیں بلکہ دوسرے شہروں اور ملکوں میں بھی مل رہے ہیں ا ن پر انکم ٹیکس بچانے پر50لاکھ روپے کا ٹیکس نہ دینے کا مقدمہ قائم ہو ا ہے ۔یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ مرحوم ٹنڈے نے تو سنی بھی نہ ہوگی اور صرف دس برس پہلے تک انکے خاندان کے کسی فرد نے شاید اپنے گھرمیں دیکھی بھی نہ ہو۔
یہ مسئلہ مولانا کاہے کہ وہ نہ صوبائی حکومت کو ناراض کر سکتے ہیں اور نہ مرکزی حکومت کو انہوں نے کہا تویہی تھاکہ وہ اگر کسی کو حمایت دیں گے تو کانگریس کو دیں گے ،بی جے پی کو نہیں۔ لیکن انتظام ایسا کردیا کہ بی جے پی کو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے ۔آسام میں انکی پارٹی کے 18ایم ایل اے تھے ۔اس بار مولانا پہلے سے کہہ رہے تھے کہ حکومت اسکی بنے گی جسکی ہم چاہیں گے ۔انھوں نے اعداد وشمار کے بعد بتایا تھا کہ انہیں 35سیٹوں پر ضرور کامیابی ملے گی ۔اور یہ ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ آسام میں 40سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان جیت سکتے یا جتا سکتے ہیں ۔مگر مولانا نے 71امید وار کھڑے کردئے ۔یعنی جہاں وہ خود یا کوئی مسلمان جیت نہیں سکتا تھا وہاں بھی اپنے امید وار کھڑے کردئے اور ہندوؤں کو بھی ٹکٹ دیدئے ۔مقصد صرف یہ تھا کہ ایک مسلمان بھی کانگریس کو ووٹ نہ دے ۔اور امت شاہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان انہیں ووٹ دیدیں بلکہ صرف یہ چاہتے تھے کہ کانگریس کو مسلمان ووٹ نہ ملیں ۔اور پورے الیکشن میں مولانا محمود اسعد مدنی کا انکے ساتھ نظر نہ آنا اسکا ثبوت ہے کہ محمود میاں اپنا دامن آلودہ کرنا نہیں چاہتے تھے ۔
پانچ صوبوں کے الیکشن اس لیڈر کے لئے جس نے 2014میں سارے ملک میں مخالفوں کو جھاڑو سے بٹور کر کوڑے دان میں ڈال دیا ہو صرف ایک آسام کے الیکشن کی کامیابی خوشی کی بات تو ہے فخر کی اس لئے نہیں کہ اس میں کانگریس کے کپڑے کا پیوند بھی ہے ۔اورحکومت کو خوش رکھنے کی ضرورت کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی مولاناکی درپردہ مدد بھی ۔اس الیکشن سے پہلے بھی مولانا کی جدوجہد ہم نے دیکھی ہے ۔لیکن اس بار وہ ہر دن ہیلی کاپٹر پر نظر آئے ۔ہو سکتا ہے کہ مولانا نے ہی کروڑوں روپے اس پر خرچ کرنا ضروری سمجھے ہوں ۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جسے انکی نظر عنایت کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو اس نے 1.5لاکھ روپے گھنٹہ کرایہ کا ہیلی کاپٹر دروازہ پر لا کر کھڑا کردیا ہو ؟بہر حال کانگریس جس نے بہار میں سنبھالا لیا تھا اتر کھنڈ میں ایک طاقتور حکومت سے اپنے کو باعزت طریقہ سے بچایاتھا وہ آسام ،بنگال ،تمل ناڈو اور کیرالا میں اوپر جانے کے بجائے نیچے اتر گئی جسکا بہت برااثر پنجاب اور اترپردیش پر پڑے گا ۔
کانگریس کا یہ سمجھنا کہ وہ جس صوبہ میں جسکے ساتھ چاہے پیار کا رشتہ قائم کرلے اور دوسر ت صوبہ میں جس سے چاہے دشمنی کرلے کوئی کچھ نہیں کہے گا ۔بہت مہنگاپڑگیا ہے۔ کانگریس1885کی پارٹی ہے ۔ہر بڑے تعلقہ داراور بہت بڑے زمین دار اور صنعت کار کی یہ تاریخ ہے کہ آپس میں پھوٹ پڑ جاتی ہے ۔اور اب کانگریس ہر جگہ پھوٹ کا شکار ہے ۔ مسٹر راہل گاندھی نے پر شانت کشور کو پنجاب اور اتر پردیش کے الیکشن کا جو ٹھیکہ دیا ہے وہ اسی پھوٹ کی وجہ سے دیا ہے کہ وہ ثالث کا کردار ادا کریں ۔لیکن اگر انکی فتوحات کی کہانیاں سچ ہیں تو اسکی وجہ شاید یہ ہوگی کہ 2014میں نریندر مودی کا انتخاب آر ایس ایس کا تھا جسکی پکڑ اتنی مضبوط ہے کہ سب سے بڑے کہے جانے والے ایڈوانی جی روٹھ کر گھر بیٹھ رہے مگر دو دن کے بعد ہی سیدھے ہوگئے ۔وہاں P.Kنے جو کہاہوگا وہ سب نے مانا ہوگا ۔یہی بہار میں تھا ۔جسکا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ لالو جی نتیش بابو اور راہل گاندھی نے اس طرح الیکشن لڑا جیسے تین سگے بھائی مشترکہ دشمن سے لڑتے ہیں اور مودی محاذ میں چار چہرے تھے اور چاروں ایک دوسرے کو ہرا رہے تھے وہاں بھی P.Kنے اگر ہنر دکھایا تو کیا کمال؟امتحان تو کانگریس کی ناؤ کو پار کرانا ہے جسکی ایک خبر آج ہی اخبار وں کی زینت ہے کہ وہ ٹھیکہ کا بیعانہ واپس کر کے بھاگ جانا چاہتے ہیں ۔اور شاید یہی ہوگا ۔
رہی بات بی جے پی کی تو اسے اس الیکشن سے سیکڑوں کروڑ خرچ کرکے صرف آسام ملا ۔ ممتا بنرجی کے لئے بی جے پی نے کیا کیا کہا اور اسکے خلاف کیا نہیں کیا؟لیکن وہ صرف جیتی نہیں بلکہ ہر مخالف کی بولتی برسوں کے لئے بند کردی ۔کیرالا میں ہر کسی کی زبان پر ہے کہ بی جے پی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی اور جتنا روپیہ پھونکا اس کی کوئی حد نہیں لیکن حاصل صرف اتنا کہ کھاتہ کھل گیا ۔اور ایسا ہی تمل ناڈو میں ہوا جس نے ثابت کردیا کہ 2014سے وہ جو اتر نا شروع ہوئی ہے وہ سلسلہ جاری ہے ۔رہا خوش ہونا اور جشن منانا تو وہ کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے واقعہ پر منایاجاسکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں نیشنل پارٹیاں دو ہیں دونوں کی حالت پتلی ہے ۔ایک کی زیادہ دوسری کی کم ۔
اب صرف یہ دیکھنا ہے کہ اتر پردیش میں مولانا بدرالدین اجمل بن کر کون کون معاہدہ کرتا ہے اور کس کس کے دروازے پر ہیلی کاپٹر کھڑا ہوتا ہے سودا ناجائزنہیں ہے ۔ لیکن یہ نہیں ہے کہ ووٹ کمل کو دو بلکہ یہ ہے کہ مسلمان کاووٹ مسلمان کو دو نتیجہ کے ذمہ دار مسلمان ہی کیوں ہوں ۔رہی محاذ کی بات تو ہرمسلم پارٹی محاذ بنا سکتی ہے بس ایک ہندو اور ایک سکھ کو ساتھ لے لو پارٹی سیکولر بھی ہوگی اور نیشنل بھی ۔اور فرقہ پرستی کا الزام بھی نہیں لگا ۔امید ہے کہ آنے والے مہینے ایسے ہی معاہدوں میں گذریں گے ۔

About the author

Taasir Newspaper