اردو | हिन्दी | English
137 Views
Deen

حدیث

سیدنا ابراہیم (فرزند مبارک ) کو جب سانس چھوڑ رہے تھے حضور نے اپنی گود میں اٹھایا اور زبان مبارک سے فرمایا’’اے ابراہیم حکم الٰہی کے سامنے ہم تیرے کس کام آسکتے ہیں؟‘‘(نبی کریم ﷺ) اسلامی تاریخ : حضرت خالد بن ولیدؓ کا اخلاص صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہر عمل میں اخلاص نیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے عہدے قربان کردیا کرتے تھے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کی معزولی ان کے اخلاص کی بہترین مثال ہے، جب حضرت عمرؓ نے ملکی انتظام اور بعض دوسری مصلحتوں کی وجہ سے انہیں معزول کردیا اور ان کی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو امیر بنادیا ، تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے لوگوں سے فرمایا : تم پر امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے اس شخص کو امیر بنایا ہے جس کو رسول اللہﷺ نے ’’آمین الامت‘‘ کا لقب دیا ہے۔ یہ کہہ کر امارت کو ان کے حوالے کردیا، اس اخلاص اور وفاداری کو دیکھ کر حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔‘‘ حضرت خالدؓ زندگی بھر شہادت کی آرزو کرتے رہے؛ مگر شہادت مقدر میں نہیں تھی، جب ان کے انتقال کا وقت آیا تو بستر پر لیٹے ہوئے فرمایا : جب میں انتقال کرجاؤں تو میرا گھوڑا اور میرے ہتھیاروں کو اللہ کے لیے وقف کردینا۔ ملک شام کے حمص نامی شہر میں ۲۱ ھ ؁ میں ان کا انتقال ہوا۔حضور ﷺ کا معجزہ : حضرت فاطمہؓ کے متعلق پیشین گوئیمرض الوفات میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو یہ خبر دی کہ میری وفات کے بعد میرے اہل و عیال میں سب سے پہلے تو آکر مجھ سے ملے گی (چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی پیشین گوئی کے مطابق سب سے پہلے حضرت فاطمہؓ کی وفات ہوئی)۔

About the author

Taasir Newspaper