اردو | हिन्दी | English
243 Views
Politics

خاتون سے چھیڑچھاڑکامعاملہ:پریس کانفرنس سے آپ ممبر اسمبلی موہنیا گرفتار

Arvind-Kejriwal
Written by Taasir Newspaper
آٹھویں ’’آپ‘‘ ممبراسمبلی کی گرفتاری، کجریوال نے کہا، مودی نے ایمرجنسی لگائی

نئی دہلی، 25جون؍(آئی این ایس انڈیا) عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی دنیش موہنیا کو آج دہلی پولیس نے چھیڑ چھاڑ اور جنسی تشدد کے الزام میں اس وقت بڑے ہی ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا جب وہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس کو لے کر وزیر اعلی اروند کجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی پر دہلی میں ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا الزام لگایا۔دہلی جل بورڈ کے نائب صدر موہنیا کو ایک پولیس افسر نے دن میں تقریبا 12:10بجے اس وقت پکڑ کر کھینچ لیا جب وہ جنوبی دہلی کے خان پور میں واقع اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔جوائنٹ پولیس کمشنر(جنوب مشرقی)آر پی اپادھیائے نے بتایا کہ موہنیا کو دفعہ 323(جان بوجھ کر نقصان پہنچانا)، 506(فوجداری دھمکی )، 509خواتین کے ساتھ چھیڑچھاڑ کے ارادے سے کی گئی حرکت) 354(خواتین کے ساتھ مارپیٹ یا زور زبردستی کرنا )، 354 اے(جنسی ہراساں )، 354بی (خاتون کو عریاں کرنے کے ارادے سے طاقت کا استعمال کرنا یا مار پیٹ کرنا)اور 354سی(غلط نگاہ سے دیکھنا)کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔سنگم وہار علاقے سے رکن اسمبلی موہنیا کی گرفتاری کے بعد کجریوال نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیاکہ مودی نے دہلی میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔دہلی کی عوام نے جن کومنتخب کیاان کی گرفتاری کی جا رہی ہے، چھاپہ مارا جا رہا ہے، دہشت زدہ کیا جا رہا ہے، فرضی کیس درج کئے جا رہے ہیں۔ایک اور ٹوئٹ میں کجریوال نے کہا کہ دنیش موہنیا کو تمام ٹی وی کیمروں کے سامنے پریس کانفرنس میں گرفتار کیا گیا۔مودی کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟۔فروری، 2015میں دہلی میں آپ حکومت بننے کے بعد سے دہلی پولیس کی طرف سے گرفتار کئے گئے موہنیا آٹھویں آپ ممبر اسمبلی ہیں۔ممبر اسمبلی پر 23جون کو نیب سرائے تھانے میں خاتون کے ایک گروپ کی شکایت کے بعد نیب سرائے پولیس تھانے میں موہنیا کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 323، 506اور 509کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس نے کل مجسٹریٹ کے سامنے دو اور شکایت کنندگان کے پیش ہونے کے بعد موہنیا کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 354، 354 اے، 354اور 354سی شامل کر دی اور شکایت کنندگان کا بیان تعزیرات کی دفعہ 164کے تحت درج کیا گیا۔اپنے بیان میں خاتون نے کہاکہ 22جون کو وہ پانی کے مسئلے کو لے کر شکایت درج کرانے پہنچی تھی اور اس دوران کہا سنی ہونے پر موہنیا نے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔انہوں نے الزام لگایا تھا کہ موہنیا اور ان کے ساتھیوں نے ان کے ساتھ نازیباسلوک کیا اور انہیں دھمکایا۔موہنیا نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیادقر ار دیتے ہوئے انہیں مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ میں پولیس کی تحقیقات میں تعاون کے لئے تیار ہوں لیکن میرے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔وہیں تغلق آباد علاقے میں کل 60سالہ شخص کو مبینہ طور پر تھپڑ مارنے کے لئے گووندپوری تھانے میں بھی موہنیا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper