اردو | हिन्दी | English
345 Views
Deen

خاندان :تہذیب کی اولین آماجگاہ

Family
Written by Taasir Newspaper

(15مئی: خاندانوں کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)

خاندان انسان کی پرورش کی سب سے پہلی سیڑھی ہوتاہے۔یہ خدائی قانون ہے کہ انسان ایک خاندان میں آنکھ کھولتاہے،جبکہ متعددمخلوقات ایسی بھی ہیں جو بغیر کسی خاندان کے پرورش پاتی ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کے بعد جنت جیسے مقام پر قیام عطا ہوا لیکن بغیر خاندان کے وہاں بھی آپ علیہ السلام کا دل نہ لگا اورآپ نے بار الہ میں تنہائی کی شکایت کی جس کے نتیجے کے طور پر آپ کوایک خاندان کی صحبت میسر آئی اور ہماری اماں حواکاساتھ حضرت آدم علیہ السلام کو مرحمت ہواجس سے پھر نسل انسانی کی بڑھوتری بھی ممکن ہوئی۔زمین پر اترنے کے بعد ہر سال ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوتے اسی لیے حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت میں سگے بہن بھائیوں کا نکاح جائز تھا کیونکہ اس کے بغیرنسل انسانی کا چلنا ممکن ہی نہ تھا تاہم بعد کی آنے والی شریعتوں میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔چنانچہ پہلے سال کی بیٹی کے ساتھ اگلے سال کے بیٹے کا اور اگلے سال کی بیٹی کے ساتھ پہلے سال کے بیٹے کا نکاح کر دیاجاتا اور یوں اس کرہ ارض پر قبیلہ بنی آدم میں خاندانوں کا آغاز ہوااور انسان کی نسل آگے کو چلنے لگی۔انسان کی تاسیس کا یہی نظریہ درست اور صحیح ہے اور وحی سے ثابت ہے اور اب تو حیاتیاتی علوم کی تحقیقات بھی اسی نظریے کی حامی ہیں اور اسی کو مستند مانتی ہیں اس کے علاوہ انسان کی تاسیس کے جتنے بھی نظریے ہیں وہ مرقع جہالت اور کوتاہ نظری پر مبنی ہیں۔
اﷲ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں سورۃ نساء کے اندرفرمایا کہ ’’لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایااور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں دنیا میں پھیلا دیے ‘‘۔یہ گویا انسانی خاندانوں کی ابتدا کا پس منظر بیان کیاگیاکہ کس طرح ایک آدم علیہ السلام سے اﷲ تعالی نے اپنی شان تخلیقی سے پوری دنیاکو انسانوں سے بھر دیاہے۔یہ سلسلہ جس طرح ماضی میں ہردور ،ہروقت اور ہر قسم کے حالات میں جاری رہا اسی طرح آج بھی ہے اور اسی طرح آخری انسان کی پیدائش تک جاری رہے گا کہ یہی قدرت خداوندی ہے اور یہی منشائے ربانی ہے۔اﷲ تعالی خاندان کی ابتداماں باپ سے کرتا ہے دوجانیں باہم مل کر ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں پھر انکے ہاں اولاد جیسی نعمت پیدا ہوتی ہے جہاں سے بہن اور بھائی کے رشتے جنم لیتے ہیں،یہ بہن بھائی بڑے ہوکرجب شادیاں کرلیتے ہیں تو بہنوئی،داماداور بہوجیسے سسرالی رشتے داریاں جنم لے لیتی ہیں اور خاندان اپنی وسعتوں کو چھونے لگتاہے یہاں تک کہ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں خوشبو کی حقیقت کے وہ استعارے ہیں جن سے انسان کاباغیچہ مہک اٹھتاہے اوروہ اپنی لہلہاتی فصل کو دیکھ کر پھولا نہیں سماتا ہے۔دادا،دادی اور نانانانی پیاراور محبت کے وہ پیمانے ہیں جن میں الفت ومحبت کے جام چھلکنے لگتے ہیں اوردنیا کی کسی لغت کادامن اس چھلکتے ہوئے جام کی آسودگی و تراوٹ کو اپنے اندر سمونے سے قاصر ہے۔
اﷲتعالی نے سورۃ الحجرات میں میں بھی خاندانوں کا ذکرکیا اور فرمایا کہ ’’لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔درحقیقت اﷲ تعالی کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ تقوی والا ہے یقیناََ اﷲ تعالی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘خاندان بعض اوقات تکبر اور فخروغرور کی علامت ہوتا اور بعض اوقات اسکے برعکس بھی ہوتا ہے ،قرآن مجید نے اسکا تدارک کیا ہے کہ برہمن خاندان اس لیے عزت والا نہیں ہے کہ وہ برہمن ہے اورشودر اس لیے نیچ نہیں ہو سکتا کہ اس نے کسی شودر کے گھر میں جنم لیاہے ،یہ خالصتاََ اﷲ تعالی کے فیصلے ہیں کہ کس نے کس کے ہاں پیدا ہونا ہے ،کوئی بچہ اپنی مرضی سے کسی ہاں وارد ہو سکتا ہے اور نہ کوئی والدین اپنی مرضی سے بچوں کا انتخاب کر سکتے ہیں پس جس خدا نے اپنی مرضی سے خاندانوں کی تقسیم کی ہے اس کا حکم ہے کہ خاندان کسی عزوشرف کی بنیاد نہیں ہو سکتے بلکہ یہ صرف پہچان کے لیے ہی ہیں کہ جب ایک ہی نام کے متعدد افراد ہوں گے تو وہ اپنے خاندان، قبیلے یا نسل کی بنیاد پر پہچانے جائیں گے۔خاندانی تفاخر دور جہالت کی یادتازہ کرتا ہے جب کہ عزت کا معیارصرف تقوی ہے کہ کوئی اپنے رب سے کس قدر قریب تر ہے۔اگر بلا ل حبشی رضی اﷲ عنہ میں تقوی موجود ہے تو وہ خاندانی کہتری کے باوجود عزت ووقار میں ابو جہل سے کہیں بڑھ کرہیں جس میں شاید دنیا بھر کی خاندانی وجاہت سمٹ کر جمع ہو چکی ہے۔
آپ نے فرمایا کہ’’ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے ساتھ اچھاہے اور میں بھی اپنے گھروالوں کے ساتھ اچھا ہوں‘‘گویا انسان کا بہتر یابدترہونادراصل اسکے گھروالوں کے ساتھ رویے پرمنحصرہے ،دوستوں کے ساتھ،افسر کے ساتھ اور دکان والوں کے ساتھ تو سبھی بہتر ہوتے ہیں لیکن اپنا خاندان،اپنے بچے،اپنی بیوی،اپنے والدین اور اپنے سسرال کے ساتھ کون اچھاہے؟؟یہ اصل سوال ہے۔ایک بار حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھاجو عمر میں ابھی کم سن تھیں انہوں نے تماشا دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا،آپ نے انہیں جھڑکنے یا منع کرنے کی بجائے اور باپ یا بھائی سے یہ تقاضا کرنے کی بجائے آپ نے خود انکی یہ خواہش پوری کی اورحجاب کے باعث دروازے میں آگے کھڑے ہو گئے اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھاآپ کے کندھے سے تماشا دیکھتی رہیں،کافی دیر گزر چکنے کے بعد آپ نے دریافت کیا کہ کیا تماشا دیکھ لیا؟؟بی بی نے جواب دیا کہ نہیں ابھی اور بھی دیکھنا ہے،ظاہر ہے اس عمر میں دل کہاں بھرتا ہے۔یہ سب سے بڑے انسان اس وقت تک کھڑے رہے جب تک کہ بی بی کا دل نہ بھر گیا۔بی بی فاطمہ خاتون جنت سے آپ کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جب بھی وہ تشریف لاتیں تو آپ انکے اٹھ کھڑے ہوتے اور ان کے ماتھے پر بوسہ بھی دیتے اور حسنین کریمین شفیقین محترمین تو آپ و کو جان سے عزیزتر تھے،آپ انکو اپنے کندھوں کی سواری کراتے تھے اور انہیں جنت کے نوجوانوں کے سرداربھی قرار دیا۔
غزوہ حنین کے موقع پر کم و بیش چھ ہزار افراد غلام بنائے گئے تھے،اس موقع پرآپ کی رضاعی بہن کو لایا گیا انہوں نے آپ سے ملاقات کی اور عرض کیاکہ بچپن میں آپ نے انکی کمر پر دندی کاٹی تھی جس کا نشان آج بھی وہاں پر موجود ہے ،اس بہن نے ان قیدیوں میں سے چند کی سفارش کی جنہیں محسن نسوان نے آزاد کر دیا جب یہ بہن باہر تشریف لائیں تو چھ کے چھ ہزار قیدیوں کے رشتہ دار منت سماجت کرنے لگے کہ خدارا ہمارے قیدیوں کو بھی چھڑالاؤ،یہ بہن اپنے عظیم بھائی کے پاس پھر حاضر ہو گئیں اور کل قیدیوں کی رہائی کی بابت سفارش کر ڈالی تب اس بھائی کی شان ملاحظہ ہو کہ کمال شفقت و مہربانی سے کل قیدیوں کو رہائی عطا کر دی ،کیسا شاندار بھائی اور کتنی ہی محبت والی بہن ،یہ آسمان شاید پھر کبھی نہ دیکھ سکے۔یہ رضاعی خاندانی محبت کی ایک مثال ہے۔
خاندان کی پرورش اﷲ تعالی کے نزدیک بہت عمدہ عمل ہے آپ نے بیٹیوں کی پرورش پر جنت کی خوشخبری دی ہے،صالح اولاد کو صدقہ جاریہ قرار دیا،حافظ قرآن و حافظہ قرآن کووالدین کی شفاعت کا مژدہ سنایا ،شہید کی ماں کے دامن کو خدا کی رحمت سے بھر بھر دیااورسخت تاکید کی اپنی اولاد کو اﷲ تعالی کا فرمانبرادار بنائیں اور انہیں سات سال کی عمر سے نماز کی تلقین شروع کر دیں اور دس سال کی عمر میں ان پر سختی کرنے لگیں تاکہ نماز کے معاملے میں وہ سستی سے باز آجائیں۔ہم میں سے ہر کوئی گلہ بان ہے اور اسکے گلے کے بارے میں ہم سے سوال ہوگا۔ہمارا گلہ ہمارا خاندان ہے ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ ہمارے خاندان میں غیرشرعی رسوم و رواج جگہ تونہیں پارہے؟؟ہمارے خاندان میں دولت کے بل بوتے پر ایسی روایات تو جنم نہیں لے رہیں جنہیں مقابلۃ غریب رشتہ دارگھرانوں کو پوراکرنا مشکل ہو جائے؟؟ہمارے خاندان کا رویہ قطع رحمی کا باعث تو نہیں بن رہا؟؟ہمارے گھر میں سکرین کا استعمال کیا خدا اور اسکے رسول کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے؟؟اورکیا ہم اپنے خاندان کو دنیا کے رنگ میں رنگ رہے ہیں یا آخرت کا طلب گار بنا کر قرب خداوندی کا باعث بن رہے ہیں؟؟
یورپ اپنی سیکولرسوچ کے باعث آج اپنے خاندانی نظام کو تباہ کر بیٹھا ہے اور اسکی بہت سی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ آزادی نسواں کے نام پرآزادی زنا ہے،اب عمائدین یورپ اپنی پشتوں اورنسلوں کی بقا کے لیے مجبور ہیں کہ خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے سال بھر میں ایک دن اس مقصد کے لیے منائیں تاکہ سیلاب،زلزلوں اور طوفانوں میں وہاں کے لوگ اپنے والدین اور بزرگوں کو حالات کے سپردکرکے اپنے کتوں اور بلیوں کے ساتھ بھاگنے کے رویے سے باز آجائیں۔ لیکن جب تک مشرق و ایشیا میں انبیاء علیھم السلام کا آغاز کردہ ’’نکاح‘’‘کاادارہ اپنے جملہ حدودوقیود کے ساتھ موجود ہے،دینی و مذہبی شعورکے باعث یہاں کے گھروں میں دن کاآغازکسی بڑے کی آواز سے بیداری کے بعد شروع ہوتاہے اوردن گھرکی بڑی بزرک خاتون کی کہانی یالوری سے اختتام پزیرہوتاہے۔انسانیت بلآخرانبیاء علیھم السلام کی تعلیمات کی طرف ضرورپلٹے گی اورہرچڑھتاہواسورج خاندان کی عظمت و برتری کا سورج ہوگااور خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کسی ایک دن کے منانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

About the author

Taasir Newspaper