اردو | हिन्दी | English
291 Views
Deen

خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ علیہ:ہندوستان میں اشاعت اسلام کے قافلۂ سالار

استحکامِ اسلام کے لئے ہندوستان میں خواجہ غریب نوازکی دعوتی خدمات

ہندوستان عہدقدیم سے مسلمانوں کامسکن رہاہے۔صحابۂ کرام ، تابعین،ا ورتبع تابعین کے قافلے اسلام کے فروغ واستحکام کے لیے ہند کی سرزمین پر تشریف لاتے رہے۔اسلام کے سب سے پہلے پیغمبر اور دنیاکے سب سے پہلے انسان اسی سرزمین پرجنت سے تشریف لائے۔ساتھ ہی کائنات کی جان ،وجہِ تخلیقِ کائنات ، کارخان�ۂ قدرت کے عظیم شاہکار مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا نور بھی پیشانی آدم کے ساتھ سب سے پہلے ہندوستان آیا۔ یہاں مراد موجودہ ہندوستان نہیں بلکہ وہ ہندہے جس کی سرحدیں پاکستان، افغانستان، بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش،میانمار(برما)،سری لنکااور مالد یپ تک وسیع تھیں۔مولانا عبدالرزاق بھترالوی تحریر فرماتے ہیں:’’حضرت آدم علیہ السلام سراندیپ(سری لنکا)میں اورحضرت حوا ’’جدّہ‘‘میں اتارے گئے۔‘‘(تذکرۃ الا نبیاء: ص ۶۰ )حسان الہند مولانا سید غلام علی آزاد بلگرامی(م:۱۲۰۰ھ)رقم طراز ہیں: ’’حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے ہندوستان میں جواہرا ت اور کانوں کا وجود ہے۔کسی نے ہندوستان کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’اس کے سمندرموتی ہیں،اس کے پہاڑ یاقوت ہیں،اس کے درخت عود اور پتے عطر ہیں۔‘‘(شمامۃالعنبر: ص ۶۴،طبع جائس ) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہندوستان کی زمین اس لیے عمدہ اور ہری بھری ہے اور عود قرنفل وغیرہ خوشبوئیں اس لیے وہاں پر پیدا ہوتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام جب اس زمین پر آئے تو ان کے جسم پر جنّتی درخت کے پتے تھے۔وہ پتے ہواسے اُڑکرجس درخت پرپہنچے وہ ہمیشہ کے لیے خوشبودار ہوگیا۔(تفسیر نعیمی، جلد۱ ، ص ۲۸۴ ) مولانا سید غلام علی آزاد بلگرامی نے اپنے اشعار میں بھی ہندوستا ن کاذکر کیاہے۔جس میں مذکورہ نکتہ کی وضاحت ہوتی ہے ۔ترجمہ:بنانے والے نے آدم علیہ السلام کے اندراپنا نور رکھ دیا، روشن ستارے کی طرح چمکتا ہوا۔ہندوستان ہمارے جد امجد کی جائے نزول اور قیام گاہ ہے۔یہ صحیح قول ہے اوراس کی سند مضبوط ہے تو ہندوستان کی سر زمین سب سے پہلے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ سلم سے ضیا بار ہوئی جو سب عظمت والوں سے بہتر ہیں‘‘۔(شمامۃ العنبر: ص۸۹ ، طبع جائس) ڈاکٹر اقبال نے اسی نکتے کی وضاحت کچھ اس طرح کی:
معلوم ہوا کہ ہندوستان سے ہمارا رشتہ عہد صحابہ،مجاہد اسلام محمد بن قاسم اور مغلیہ حکومت سے نہیں ہے بلکہ یہ تو ہمارے باپ کی سرزمین ہے۔اسلام کی بنیاد اور اساس کا رشتہ ہندوستان کی سرزمین سے اتنا مضبوط ہے کہ ہمیں اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے شیو، وشنو،شنکر اور پاروَتی کو اسلامی پیغمبر کا درجہ دینے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں اپنے آپ کو ہندوستانی ثابت کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات وتاریخ کی دھجیاں اڑانے کی ضرورت نہیں۔اپنے ہم وطنوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی ناراض کرنے کی بھی حاجت نہیں۔شنکر،شیو،وشنو،پاروَتی اور دوسرے ہندودیوی و دیوتاؤ ں کو پیغمبربناکر،اپنے ماں باپ تسلیم کرکے،اپنے آپ کو ہندوستانی ثابت کر کے کیا فائدہ؟ ہمارے ہندوستانی ہونے کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ ہمارے جد امجداور دنیاکے سب سے پہلے انسان اسی سرزمین پرجنت سے تشریف لائیں۔ آئیے اسلامی تاریخ کی روشنی میں اسلام اور ہندوستان کا تعلق کس قدر مضبوط ہے، جاننے کی کوشش کریں۔ہندوستان پرکئی مجاہدین نے فوج کشی کی مگر غزوۂ ہندکایہ ذوق محض کشور کشائی کے جذبے سے نہیں تھا بلکہ انہوں نے جہادِ ہندکے لیے پیش رفت ارشاد نبوی کی تکمیل کے لیے کی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے دوگروہوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھاہے۔ایک وہ گروہ جو ہندوستان میں جہاد کرے گااور دوسرا وہ گروہ جو حضرت ابن مریم کا ساتھ دے گا۔(سلطان الہند خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ،ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی)مذکورہ روایتوں سے قارئین کرام پر ہند وستان کی اہمیت یقیناواضح ہوچکی ہوگی،بھلا وہ ملک جہاں سب سے پہلے آپ ﷺ کا نور جلوہ گر ہوا،وہ ملک جہاں پہلے نبی اتارے گئے ہواور جس سے حضور ﷺ اس قدر محبت کرتے ہو وہ مقدس سرزمین اسلام کی دعوت وتبلیغ سے کیسے محروم رہ سکتی تھی،یوں تو دور رسالت ہی میں یہاں اسلام کی شمع روشن ہو چکی تھی۔مسلم فاتحین وسلاطین نے طاقت وقوت کے زور پر ہندوستان میں شمع اسلام کو روشن کیا۔تاج وتخت کے مالک بنے اور شاہانہ طمطراق کے جلوے دکھا کررخصت ہوگئے اور ان کے ساتھ ہی شمع اسلام ٹمٹماکر ماند پڑگئی،مگر رسول اللہﷺ کی نگاہِ کرم نے ہند کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ ہند میں علم حدیث کو عام کرنے کے لیے کبھی حضور ﷺ نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کو ہندبھیجاتو کبھی سرکار معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کو اسلامی بنیادوں کو مستحکم وتقویت فراہم کرنے کے لیے بھیجا ،اسی لیے آپ کونائب النبی، عطائے رسول اور ہندالولی کہاں جاتا ہے۔درحقیقت قدرت نے ہندوستان کی فتح اور یہاں اسلامی اقتدار کاقیام ایسے فرزند توحید کے نام لکھ دیاتھاجس نے للہیت،دربانیت،عشق خدا،ذوق اتباع سنت ، حب رسول ،دل سوزی ،بلند ہمتی،تازگی فکر،نور بصیرت، فراست ایمانی،حقیقت پسندی، اعتقاد صحیح،عمل صالح،وسعت قلب ونظراور اخلاص وایثار کی متاع گراں بہاسے شمع اسلام کو بقاکی تابندگی عطاکی۔جسے دنیا قطب الاقطاب،معین الملۃ والحق،خواجۂ خواجگاں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے نام سے جانتی ہے۔ہم ہندوستانیوں کو بھی چاہئے کہ رسول اکرمﷺ کی نگاہ خاص کے فیوض وبرکات کو حاصل کرتے ہوئے مقصد خواجہ پر عمل کریں،دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیں۔بزرگان دین سے محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ان کے مشن کو عام کیا جائے۔ اللہ پاک ہمیں اسلاف کے دامن سے وابستہ ہونے اور دینی خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین – یو این این

About the author

Taasir Newspaper