اردو | हिन्दी | English
1801 Views
Technology

دانت پیلے کیوں ہوتے ہیں، چھٹکارہ پانے کا طریقہ

health
Written by Taasir Newspaper

ایسی کیا چیز ہے جس سے آپ کی مسکراہٹ بالکل ہولی وڈ کے اداکاروں کی ماند ہو جائے یا بعض اوقات ایسی مسکراہٹ عام افراد کی بھی ہوتی ہے۔جی ہاں چمکتے سفید دانت۔جو نہ صرف خوش ذوقی کی علامت ہیں بلکہ انسانی نفیسات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔لیکن قدرتی طور پر تمام افراد کے دانت سفید نہیں ہوتے اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہمیشہ کافی پینے سے ہی دانتوں کی رنگت پیلی پڑ جاتی ہے۔ہم نے دانتوں کے ایک ڈاکٹر سے پیلے دانتوں کی وجوہات اور ان سے چھٹکارہ کا طریقہ پوچھا۔
پیلے دانتوں کی جنیاتی یا موراثی وجہ
جرنل کونسل برائے کالج آف ڈینٹس سپین کے ڈاکٹر آسکر کاسترو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہر شخص کے دانتوں کی رنگت اْس کی اپنی ہوتی ہے۔ پیدائش کے وقت جین میں موجود اہم عنصر دانتوں کے رنگت کو واضح کرتے ہیں۔‘
ڈینٹل ڈیسمورفیا: خوبصورت مسکراہٹ کا جنون
ڈاکٹر کاسترو کے مطابق بعض اوقات پیدائشی بیماریاں بھی ہوتی ہیں جن سے انیمل یا دانتوں کی مینا کاری میں نقص ہوتا ہے اور اس وجہ سے دانت پیلے یا بعض اوقات تو بھورے بھی ہو جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’یہ ایسی بیماری ہے جو والدین سے بچوں مورثیت میں ملتی ہے۔‘ڈاکٹر کاسترو: ’اس کے علاوہ تھارائیڈ ہارمومز میں مسائل بھی دانتوں کی رنگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے دانتوں پر کوئی دھبہ آ جاتا ہے اور اْن کا رنگ بدل جاتا ہے۔‘
دانتوں پر کھانے پینے کے اثرات
بعض خوراک اور مشروبات میں رنگ ہوتے ہیں جو دانتوں کے سطح پر موجود باریک سوراخوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جیسے کافی اور چائے۔ڈاکٹر کاسترو کی مطابق ریڈ وائن یا کولا مشروبات کے علاوہ سبز چائے یا گرین ٹی میں بھی پگمینٹس ہوتے جو دانت پیلے کرتا ہے۔
دانت سفید رکھنے کے عملی مشورے
ایسی خوراک بھی ہیں جن میں قدرتی طور پر رنگ کاٹ یا انٹی آکسیڈینٹ پگمنٹ ہوتے ہیں۔ جیسے گاجر، ٹماٹر یا پالک وغیرہ۔ ڈاکٹر کاسترو نے بتایا کہ بعض مقامات کا پانی بھی دانتوں کو پیلا کر سکتا ہے ’پانی میں فلورائیڈ کی وافر مقدار سے دانتوں پر داغ آ جاتے ہیں۔‘
ادویات اور علاج
ڈینسٹ کا کہنا ہے کہ بعض انٹی بائیوٹک ادویات جیسے ٹیٹراسیلائن دانت کے بننے میں خلل ڈالتی ہیں اور وہ دانت کو دھاری دار بنا دیتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ بعض مصنوعات جیسے ماؤتھ واش کے استعمال سے بھی دانت پیلے ہو سکتے ہیں۔دانت میں فیلنگ بھی اْس کی رنگت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ دانت کے اندر موجود پٹھے کو ختم کر دینے سے بھی اْس کی رنگت ماند پڑ جاتی ہے۔منہ میںِ خون کے رساؤ سے سے دانت کی رنگت متاثر ہوتی ہے۔
عمر کے بڑھنے کے ساتھ دانتوں کی حفاظت
عمر میں اضافہ بھی دانتوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے دانت پیلے ہونے لگتے ہیں۔ڈاکٹر کاسترو کے مطابق عمر کے ساتھ دانت پیلا ہونا معمول کی بات ہے کیونکہ پیدائش کے بعد ایسے کئی عوامل ہوتے ہیں جو دانتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں لیکن یہ بھی اہم ہے کہ ہم اْن کا خیال کیسے لکھتے ہیں اور انھیں کتنا صاف رکھتے ہیں۔
دانت صاف کرنا کا طریقہ کار
دانتوں کی مکمل صفائی بہت ضروری ہے۔ ہم وقت کو تو نہیں روک سکتے لیکن دانتوں کی مناسب دیکھ بحال اور پگمنٹس والی خوراک کے استعمال میں کمی سے اْنھیں محفوظ بنا سکتے ہیں۔کئی گھریلو ٹوٹکے بھی دانتوں کو محفوظ بنانے اور سفید رکھنے میں مددگار ہیں لیکن اگر آپ پیلے پڑتے دانتوں کی وجوہات جاننا چاہتے تو کسی ماہر کے پاس جانا ضروری ہے۔ڈاکٹر کاسترو کہتے ہیں کہ گھریلو ٹوٹکے مفید ہیں لیکن دانتوں کو چمکدار بنانے کے لیے ٹیلی ویڑن پر آنے والے اشتہارات جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔
گھریلو اور بیوٹی سیلون کے خطرات
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ’ کسی بھی دوسری چیز کے بجائے ڈاکٹر کے پاس جانا بہترین ہے تاکہ مسئلے کی وجہ معلوم ہو سکے۔‘گھریلو ٹوٹکے میں سوڈے اور لیموں کو استعمال کیا جاتا ہے ڈاکٹر کاسترو کہتے ہیں کہ اس ٹوٹکے کو استعمال کرتے ہوئے بہت احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ اس میں تیزاب ہوتا ہے یہ بلکہ ایسا ہے جیسے ریگ مال سے دانتوں کو رگڑا جائے۔
دانت سفید بنانے والے ٹوٹھ پیسٹ
ڈاکٹر کاسترو کا کہنا ہے کہ رنگت کا جھانسے دینے والے طریقوں میں ٹوٹھ پیسٹ میں بنفشہ ذرات موجود ہوتے ہیں جو دانت میں سرایت کر جاتے ہیں۔ماہرین نے دانت صاف ہونے کی خبط سے خبردار کیا ہے۔ڈاکٹر کاسترو کا کہنا ہے کہ ’مریض ہمیشہ دانتوں کی رنگت کے مسائل لے کر آتے اْن کے دماغ میں یہی ہوتا ہے کہ دانت کا سفید ہونا ہی صحت کی علامت ہے۔‘انھوں نے کہا کہ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ اصلی کیا ہے اور نقلی کیا۔
گریٹ بیریئر ریف کورل بلیچنگ سے شدید متاثر
آسٹریلیا میں کیے جانے والے ایک وسیع فضائی اور زیر سمندر جائزے کے مطابق آسٹریلیا کے گریٹ بیریئر ریف کا 93 فیصد حصہ کورل بلیچنگ سے متاثر ہوا ہے۔کورل ریف سمندر کے اندر مونگے یا مرجان کی رنگ برنگی چٹانیں ہوتی ہیں، جب کہ بلیچنگ کے عمل میں ماحول کی تپش کے باعث ریف اپنی رنگت کھو دیتے ہیں۔خیال رہے کہ اس قبل بھی تنبیہ جاری کی جا چکی تھی کہ ریف بدترین کورل بلیچنگ کے عمل سے گزر رہے ہیں۔آسٹریلیا کی نیشنل کورل بلیچنگ ٹاسک فورس کے پروفیسر ٹیری ہیوز نے بی بی سی کو بتایا کہ عالمی تپش اور کورل بلیچنگ کے مابین تعلق ’بہت واضح ہے۔‘پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث کورل کو رنگت دینے والی ایلجی یا کائی سوکھ جاتی ہے۔ اگر صورت حال واپس معمول پہ نہ آئی تو یہ کورل ریف ختم ہو سکتے ہیں۔ٹاسک فورس کی جانب سے کیے جانے والے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ آسٹریلیا کی ریاست کوینز لینڈ میں 2300 کلومیٹر پر محیط ریف کا شمالی حصہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ پروفیسر ہیوز کے مطابق ریف کا محض سات فیصد حصہ بلیچنگ سے بچا ہوا ہے۔سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے اور بلیچنگ کے عمل کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ موسمیاتی مظہر ال نینیو کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ World copy right BBC Image  caption ServiceImage captionتین مرتبہ بلیچنگ کے عمل کا شکار ہونے کے باعث کورلز کی خصوصیات اور اقسام میں پہلے ہی تبدیلی آ چکی ہے۔اس تحقیق کے دوران ہلکے طیاروں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے 900 ریفوں کا انفرادی طور پر معائنہ کیا گیا جبکہ تفصیلی فضائی جائزے کے ساتھ سکْوبا غوطہ خوروں کی ایک ٹیم کی جانب سے بھی زیر سمندر جائزہ لیا گیا۔پروفیسر ہیوز کہتے ہیں: ’میں پیدائشی طور پر خوش امید واقع ہوا ہوں، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ گریٹ بیریئر ریف کے تحفظ کے لیے ہمارے پاس بہت زیادہ وقت نہیں بچا۔ اگر ہم نے عالمی تپش روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے تو صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔’تین مرتبہ بلیچنگ کے عمل کا شکار ہونے کے باعث کورلز کی خصوصیات اور اقسام میں پہلے ہی تبدیلی آ چکی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1998 اور سنہ 2002 کے مقابلے میں حالیہ بلیچنگ کا عمل سب سے زیادہ سنگین ہے۔ پروفیسر ہیوز نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ اس بار محض سات فیصد ریف بلیچنگ کے عمل سے محفوظ رہی ہے۔ گذشتہ دو مواقع پر یہ تناسب تقریباً 40 فیصد کے قریب تھا۔’اگر یہ عمل ہر پانچ سے دس سال میں دہرایا جانے لگا تو مناسب تعداد میں کورلز کی افزائش نہیں ہو سکے گی۔‘نیشنل کورل بلیچنگ ٹاسک فورس کے مطابق آسٹریلیا کے گریٹ بیریئر ریف کی سیاحت سے سالانہ 3.9 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے جبکہ 70 ہزار لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔کوینز لینڈ کی سیاحتی صنعت کی کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈینیئل شوینڈ کہتے ہیں: ’شکر ہے کہ ریف کے کئی حصے اب بھی بہترین حالت میں ہیں۔ تاہم ہم کورل بلیچنگ کے عمل کو نظرنداز نہیں کر سکتے اور کسی قسم کے اقدامات کیے بغیر ان کی اصل حالت میں واپسی کی امید نہیں کرسکتے۔‘دنیا بھر میں عمل پذیر ہونے والا اب تک کا بدترین بلیچنگ کا عمل آسٹریلیا کی مغربی ساحلی پٹی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔آسٹریلیا کا محکمہ ماحولیات اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ ریف کے تحفظ کے لیے ریاست اور وفاقی حکومت کی جانب سے اگلی ایک دہائی میں دو ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper