اردو | हिन्दी | English
172 Views
Deen

دروغ گوئی قرآن و حدیث کی روشنی میں

شرف الدین عبد الرحمن تیلیا پوکھر،کپیلیشور،مدھوبنی،بہار
اسلام محبت و اخوت کامذہب ہے وہ معاشرے ایسی تمام بُرائیوں اور خرابیوں کا قلہ قمعہ کرتا ہے جس سے فساد رونما ہوتا ہے اور معاشرے کی فضاپراگندہ ہوتی ہے لہذا دروغ گوئی یعنی جھوٹ جو کہ تمام بُرائیوں کی جر ہے اسے اسلام قطعی طور پر ناجائز قراردیتا ہے اور لوگوں کو ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کرتا ہے،دروغ گوئی کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ،ایک قولی دوسرا فعلی ۔قولی کی مثال سورہ صف کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالی نے منافقوں سے خطابکرتے ہوئے ارشاد فرمایا ؛کہ تم وہ باتیں کیوں کرتے ہوجنہیں تم خود نہیں کرتے؛فعلی کی مثال عہد نبوی کی وہ خریدوفروخت ہے جسمیں ایک تاجر نے اپنے بھیگے غلے کو خشک غلوں سے ڈھانک رکھا تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر کی تھی ،بنیادی طور پر صدق وکذب کا تعلق زبان سے ہے اور قوت گویائی ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے ،قوت نطق تلوار کی کاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے ،ایک شخص اپنی زبان کی کشش سے بڑے بڑے سرکش اور ظالم کو زیر کرلیا کرتا ہے ،اُس کا صحیح استعمال انسان کو دنیا و آخرت میں محترم ومکرم بنا دیتا ہے جبکہ اس کا غلط استعمال دونوں جہاں میں ذلت و رسوائی کا سبب بنتا ہے،ارشاد نبوی ہے ؛من یضمن لی ما بین لحیہ وما بین رجلیہ اضمن لہ الجنتہ؛بُخاری ، جھوٹ ایمان کی منافی ہے اللہ کے رسول سے پوچھا گیا کہ کیا مسلما جھوٹا ہوسکتا ہے؟تو آپ ﷺ نے فرمایا ،ہر گز نہیں ۔لہذا مذہب اسلام اپنے پیروں کا روں کو سچے لوگوں کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ؛یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ وکونو ا مع الصادقین: ایک حدیث کے اندر آپﷺ نے سچائی کی فضیلت اور جھوٹ کی ہولناکی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :ان الصدق یھدی الی البر وان البر الی یھدی الی الجنتہ ،ان الکذب فجور وان الفجوریھدی الی النار؛(مسلم) بلا شبہ سچائی نیکی جنت کی طرف رھنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے ،کذب بیانی گیاہ ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتی ہے،ایک موقع سے اللہ کے نبی نے جھوٹ کے متعلق ارشاد فرمایا ؛افری الفری ان یری الرجل عینیہ ما تریا؛(بخاری)کہ آدمی اپنی دونوں آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو ان دونوں آنکھوں نے نہیں دیکھی ہے ،دروغ گوئی کی قرآن و حدیث سے تردید کے بعد اب ہم ذیل میں اسکے دنیوی واخروی نقصانات کا بھی تذکرہ کئے دیتے ہیں تاکہ چرب زبانوں کے لئے کوئی دلیل نہ رہے ۔1۔دنیوی نقصانات ؛اول تو جھوٹ اپنے پیروں پر نہیں چلتا ایک جھوٹ بولنے کے لئے بہت سے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور اگر کہیں وہ بات کھل جاتی ہے تو خجالت و ندامت کی گہری کھائی میں گرنا پڑتا ہے ،اس کا کردار مجروح ہوتا ہے ،اسکی شخصیت داغدار ہوتی ہے ،اسکے تعلقات خراب ہوتے ہیں ،لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے،اس سے فساد جنم لیتا ہے ،بنتی چیز بگڑجاتی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جھوٹا شخص کسی کا دوست نہیں بن سکتا ،نہ قوم کا سچارہنما بن سکتا ہے اور نہ حکمرانی کے منصب لے لئے موزوں ہوسکتا ہے،جھوٹ والے کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اسکے کے منھ سے بدبونکلتی ہے ،رحمت کے فرشتے اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں ،حدیث رسول ہے ؛اذاکذب العبدتباعد عبد عنہ اماک میکا من نتن ما جاء بہ؛(ترمذی)حتی کہ بسا اوقات جھوٹ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے جیسا کے مشہور ومعروف ھیکہ ایک چرواہا محض اپنی دروغ کے سبب بھیڑیئے کا لقمہ بن گیا ۔اخروی نقصانات ؛قانون الہی کہ وہ جھوٹے و ناشکر انسان کوہدایت نہیں دیتا ؛ان اللہ لا یھدی من ھو کاذب کفار؛ جھوٹ پرستی کے مساوی ہے ؛فاجتنبواالرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزورع؛جھوٹے شخص کو منافق میں شمار کیا جاتا ہے ارشاد ربانی ہے؛ان المُنافقین لکاذبون؛اللہ کے رسول نے منافقوں کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی بتائی ھیکہ ؛اذا حدث کذب ؛(متفق علیہ )اللہﷺ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنے والا پکا مومن نہیں ہو سکتا ارشاد نبوی ہے؛لایجتمع الکفروالایمان فی قلب امراء ولایجتمع الصدق والکذب جمیعاً (مسنداحمد)یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹے شخص کو سخت سزادینے کا وعدہ کررکھاہے اور اسے اپنی جہنم میں ڈالنے کی دھمکی دی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے واللذین کفروا وکذبوں باٰےٰتنا اولئک اصحاب النارہم فیہا خالدون(سورۃ بقرہ۔۳۹)اور ایک جگہ ارشاد ہے کدائب اٰلِ فرعون واللذین من قبلہم کذبوں باٰےٰتنا فاخذہم اللہ شدیدالعقاب(ال عمران۔۱۱) جولوگوں کو ہنسانے کیلئے جھوٹ بولتاہے اس پر بھی بڑے افسوں اور ملامت کی بات ہے (ترمذی) لیکن ہائے افسوس آج غیر مسلم کو توچھوڑئیے مسلمان بھی ان نصوص شرعیہ کو پس پست ڈال رکھاہے، آج جھوٹ چہاردانگ عالم میں پوری طرح چھایاہواہے سچائی جو مؤمن کا طرح امتیاز تھا آج جھوٹ اس کا مقدربن گیاہے۔یہی نہیں بلکہ ہرشخص پتھرکی لکیرکی طرح اپنے ذہن میں یہ بات رچااور بسا لیا ہے کہ جھوٹ کے بغیر ہماراکاروبار نہیں چل سکتا، اس کے بغیر ہمیں ہرجگہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑیگا یا یہ کہ اس بغیر زندگی ہمارے لئے بوجھ بن جائے گی، یہی وجہ کہ آج آقاہویاغلام، امیرہوغریب، عالم ہوجاہل، پاگل ہو یاعاقل، ضعیف ہو طاقتور، مردہویاعورت الغرض تمام لوگ اس ہمام میں ننگے نظرآرہے ہیں کاش کہ یہ لوگ نبی ﷺ کی اس حدیث پہ دھیان دیتے کہ لاےؤمن العبدحتی یترک الکذب المزاحہ والمرء وان کان صادقاً(مسنداحمد) کہ کوئی بندہ مکمل مؤمن نہیں ہوسکتایہاں تک کہ ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ دے۔

About the author

Taasir Newspaper