اردو | हिन्दी | English
156 Views
Politics

دلت مسلمانوں اورعیسائیوں کو بھی ایس سی،ایس ٹی کا درجہ ملنا چاہئے:وزیر اعلیٰ

Nitish
Written by Taasir Newspaper

وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو پیریار انٹرنیشنل امریکہ کی جانب سے سماجی انصاف کیلئے 2015 کے ویر منی ایوارڈ سے نوازا گیا

پٹنہ 09 اپریل (طارق حسن): وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 14 ویں لوک سبھا میں دلت مسلمانوں کو ریزرویشن دینے سے متعلق ظاہر کئے گئے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ جس طرح دلت بودھ اور دلت سکھ کو ریزرویشن کا فائدہ ملا ہے اسی طرح دلت مسلمان اور دلت عیسائی کو بھی ریزرویشن کا فائدہ ملنا چاہئے۔ آج سنیچر کو بہار قانون ساز کونسل کی انیکسی میں امریکہ کے پیریار انٹرنیشنل انسٹی چیوٹ کے زیر اہتمام منعقد اس سال کے ویرامنی ایوارڈ فار سوشل جسٹس سے نوازے جانے کے بعد وزیراعلیٰ نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا۔ واضح ہوکہ پیریار انٹرنیشنل کے ذریعہ سماجی انصاف کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دینے کیلئے ہر سال ویرامنی ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذات ، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقہ کے لوگ کسی بھی مذہب میں ہوسکتے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر کسی کو ریزرویشن کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذات کی تعداد بڑھتی ہے تو ریزرویشن کوٹہ کا دائرہ بھی بڑھے گا جیسے تمل ناڈومیں 69 فیصد ریزرویشن ہے۔اس کیلئے مضبوط پیروی کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریزرویشن کے معاملے میں منڈل کمیشن کے تناظر میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے جو قابل قبول ہے لیکن ریزرویشن پر گفتگو ہونی چاہئے (باقی صفحہ 7 پر)اور
جو آج کوٹہ طے کیا گیا ہے اسے بڑھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون موجودہ حالات کے تناظر میں بنتا ہے۔ بعد میں اسے وقت کے تقاضے کے مطابق بدلا بھی کہا جاتا ہے جیسا کہ 1915کے اکسائز ایکٹ میں ،کو بہار میں شراب بندی لاگو کرنے کیلئے ترمیم کی گئی۔ 1915 کے ایکٹ کی ترمیم کو بہار اسمبلی اور بہار قانون ساز کونسل میں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ ساتھ ہی سبھی ممبران کے ذریعہ شراب نہ پینے اور نہ پینے دینے کا حلف لیا گیا۔ ضرورت پڑنے پر جسے ہم نے 1915 کے قانون میں ترمیم کی ہے اسی طرح ریزرویشن کا دائرہ 50 فیصد سے زیادہ بڑھانے کیلئے آئین میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری شعبے میں ہی کیوں پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ریزرویشن دیا جانا چاہئے۔ آج کے اس اقتصادی دور میں اگر پرائیویٹ سیکٹروں میں رویزرویشن نہیں دیا جاتا ہے تو یہ سماجی انصاف کامذاق ہوگا۔ اگر انصاف نہیں ہے تو جمہوریت کامیاب نہیں ہوگی۔ واضح ہوکہ اتوار کو دہلی میں ہورہے جے ڈی یو کی ورکنگ کمیٹی کے جلاس میں نتیش کمار کو پارٹی کے قومی صدر کی کمان سونپی جانی ہے۔ اس کے ایک دن قبل ریزرویشن جیسے سنجیدہ موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے وزیر اعلیٰ نے قومی سطح پر اپنی دھماکیدار سیاسی دستک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گاندھی جی سے سبق لے کر اس مسئلہ کو دس سال پہلے ہی اٹھایا تھا کہ مذہب تبدیل کرنے سے ذات نہیں بدلتی۔ دلت مسلمان اور عیسائیوں کو ایس سی ایس ٹی کا درجہ ملنا چاہئے کوئی ضروری نہیں کہ صرف ہندو مذہب کے ماننے والوں کو ہی ایس ایس ٹی کا درجہ ملے۔ وقت کے ساتھ بودھ اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کو یہ درجہ دے دیا گیا لیکن بڑی تعداد میں اسلام کو ماننے والوں اور عیسائیوں کو اس سے محروم رکھا گیا۔ پیریار انٹر نیشنل انسٹی چیوٹ کے ذریعہ ویرامنی ایوارڈ سے نوازے جانے کے بعد منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سب سے پہلے سبھی کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے انسٹی چیوٹ کو انعام کیلئے ان کاانتخاب کئے جانے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ ایوارڈ بہار کے عوام کی طرف سے قبول کرتا ہوں ۔ انہوں نے پیریار یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور چیئرمین دروڈ کھڑگم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ بذات خود ایوارڈ دینے کیلئے تمل ناڈو سے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویرامنی بہار بار بار آتے رہیں اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 1925 میں دروڈ کھڑگم اور آر ایس ایس دونوں کا قیام عمل میں آیا تھا یہ دونوں الگ الگ نظریات کے حامل تھے۔ کے ویرامنی جس نظریات کے معتقد ہیں اسی تناظر میں مجھے اس کیلئے منتخب کیا گیاہے۔ اس کیلئے میں ان کا ممنون ہوں۔ میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا اس سلسلے میں کے سی تیاگی کے ذریعہ مجھے جانکاری دی گئی تھی ساتھ ہی پیریار انٹرنیشنل کا خط ملا تھا۔ ویسے یہ بات صحیح ہے کہ میں ایوارڈ سے دور بھاگتا ہوں ، میں صرف کام کرنے میں یقین کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا بنیادی اصول ہے انصاف کے ساتھ ترقی۔ ہم صرف ترقی کی بات نہیں کرتے مگر ترقی کا فائدہ آخری آدمی تک جائے یہ ہمارا بنیادی اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی ریاست ہے جہاں مرد اور خواتین کے درمیان مساوات قائم ہے۔ لوہیا جی نے کہا تھا کہ تھا ’نرناری ایک سمان‘اسی کے مطابق بہار میں خواتین کو لوکل بڈیز میں 50 فیصد ریزرویشن ،پرائمری ٹیچر میں 50 فیصد ریزرویشن کے ساتھ ساتھ دیگر سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد ریزرویشن کا فائدہ دیا گیا ہے۔ یہ 7 عزائم میں سے ایک عزم تھا جسے ہم نے دو مہینے کے اندر لاگو کردیا۔ آج سماج میں باہمی خیرسگالی کا ماحول قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کیلئے رائٹ ٹو پبلک سروس لاگو کیا تھا جس کے تحت لوگ اپنے مختلف طرح کے سرٹی فیکٹ خود بناسکتے ہیں یہ ان کا حق ہے۔ ہم نے اب پبلک گریوانسسز ریڈریسل قانون بنادیا ہے۔ جسے پانچ جون، جس تاریخ کو جئے پرکاش نارائن کے ذریعہ تحریک کی شروعات کی گئی تھی اس ایکٹ کی شروعات کی جائے گی اور 6 جون سے سبھی افراد کو اس سہولت کا فائدہ ملنے لگے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں انصاف اور مساوات پر مبنی ترقی ہورہی ہے ،بہار میں کوئی کل کارخانے نہیں ہیں پھر بھی ہماری شرح نمو 2 عدد میں ہے۔ ہم عوام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ جے این یو کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج لوگوں کی زبان پر تالا لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، ترقی کے نام پر ووٹ مانگا گیا تھا لیکن لوگوں کو لو جہاد، گوماتا اور آج کل بھارت کی جئے جیسے مدعوں سے بہلایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو روزگار کا وعدہ کیا تھا اس کا کیا ہوگا، ان کے ذریعہ کوئی وعدہ پورا نہیں کیا گیا صرف نعرہ بنائے گئے انہوں نے کہا کہ اسٹینڈ اپ انڈیا منصوبہ کچھ ہی دنوں میں ہوجائے گا سیٹ ڈاؤن انڈیا یا سلیپ ڈاؤن انڈیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سبھی بہار کو آگے بڑھائیں اور خوبصورت بنائیں کہ بہار ملک کے تمام لوگوں کو اور اچھا لگنے لگے ، انہوں نے کہا کہ ہم پبلیسیٹی سے دور بھاگتے ہیں ،ہمیں اپنے کام میں یقین ہے آپ کا تعاون ملتا رہا ہے اور بہار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

About the author

Taasir Newspaper