اردو | हिन्दी | English
147 Views
Deen Politics

دہشت گردی سے اسلام کا کوئ تعلق نہی

3-4-16-politic-1
Written by Taasir Newspaper

دہشت وبربریت سے جوڑ کر امن عالم کے علمبردار دین کو ہورہی ہے بدنام کرنے کی سازش:امام حرم

پٹنہ 02 اپریل(امتیاز کریم؍ م ن ع): امن اور سلامتی اسلام کے مزاج میں شامل ہے۔ جو لوگ دہشت گردی پھیلاتے ہیں ناحق لوگوں کا قتل کرتے ہیں ، ظلم کرتے ہیں وہ مسلمان قطعی نہیں ہیں۔ اس طرح کے تشدد اور مظالم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 1400سال کی تاریخ گواہ ہے جہاں کہیں بھی اسلامی حکومت قائم رہی ہے وہ امن اور سلامتی کامرکز رہا ہے۔ یہ الفاظ ہیں امام حرم شیخ صالح بن محمد بن ابراہیم آل طالب کے۔ موصوف آج پٹنہ میں منعقد ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ پریس کانفرنس کا اہتمام توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کشن گنج کے ذریعہ کیا گیاتھا۔ اسلام اور امن عالم کے حوالہ سے خطاب کرتے ہوئے امام حرم نے کہا کہ نبی کریم ؐکی وساطت سے جو اسلام ہمیں نصیب ہوا ہے اسے آج مختلف شکلوں میں بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے آئینہ سے دیکھا اور دکھایاجارہا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان وہی ہے جس سے دنیا کے تمام لوگ خواہ ان کا دین کوئی بھی ہو، ان کا رنگ ، ان کی نسل جو بھی ہو ، محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عربیہ کے ذریعہ امن کے سفیر کے طور پر ہندوستان بھیجے گئے ہیں۔ دنیا پرامن ہو ، لوگوں کو امن ،سلامتی، آزادی ، عدل ،مساوات اور محبت کے ساتھ جینا کا حق ملے ، ہمارا ملک روز اول سے ہی اس کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب وہ جگہ ہے جس نے یہ طے کر رکھا ہے کہ پوری دنیا میں امن وسلامتی کو قائم کرنا ہے۔ ویسا ہی امن وسلامتی جس کی تعلیمات قرآن وحدیث کے حوالہ سے ہمیں حاصل ہے۔ اس ضمن میں سعودی حکومت کے ذریعہ کی جارہی دیرینہ کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے امام حرم نے کہا کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں قرآن پاک اور اس کے ترجمہ کی اشاعت ہوتی ہے اور پوری دنیا میں اسے تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کے ساتھ کہاکہ دنیا کے تمام لوگ ایک جگہ جمع ہوجائیں اور اپنے اپنے ڈھنگ سے امن بحال کرنے کی کوشش کریں تو بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ وسائل کی طاقت سے امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے ہی امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ (باقی صفحہ 7پر)
موصوف نے کہا کہ سعودی عرب اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہی پوری انسانی برادری کی مدد کرتا ہے اور اللہ نے اسے اس کا شرف بھی عطا کیا ہے۔ انہوں نے اللہ کا ہزارہا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک پروردگار نے سعودی عرب کو امن اور سلامتی کا پیامبر بنایا ہے۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے امام حرم نے کہا کہ نبی کریمؐ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد سب سے پہلے وہاں کے لوگوں کیلئے ایک دوسرے کی سلامتی کی گارنٹی کو اولیت دی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ جب مسلمان ہر طرح سے طاقتور رہے تب بھی انہیں امن وآشتی کا حکم دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں محض جملوں کے ذریعہ ہی امن اور سلامتی کے قیام کا حکم نہیں دیا گیا ہے بلکہ اسے شریعت کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ امام حرم نے کہا کہ علمائے کرام کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام بلاتفریق دین ومذہب اور رنگ ونسل، پانچ چیزوں کی حفاظت کی گارنٹی دیتا ہے اور وہ مندرجہ ذیل ہے: ۔
1۔ انسان کی جان کی حفاظت
2۔ انسان کی عقل کی حفاظت
3۔ انسان کے مال ودولت کی حفاظت
4۔انسان کی عزت وآبرو کی حفاظت
5۔ انسان کے دین و مذہب کی حفاظت، خواہ وہ جو بھی ہو
اسلام کے نام کو دہشت گردی سے جوڑے جانے کی حرکت کو نازیبا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام کی نظر میں کسی انسان کا قتل حرام ہے۔ جنگ کے حالات میں بھی عورتوں اور بچوں کو قتل نہیں کرنے کا حکم ہے۔ ہاں قصاص کا حکم ضرور ہے۔ وہ بھی ایسی حالت میں کسی معصوم کے ناحق قتل کا الزام ثابت ہوجائے۔ اپنے تقریباََ ایک گھنٹے کے پرمغز خطاب میں جبر کے حوالہ سے امام حرم نے کہاکہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں صاف صاف یہ بات کہی گئی ہے کہ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک میں آج بھی غیر مسلموں کی عبادت گاہیں موجود اور سب کے حقوق محفوظ ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمان پر ظلم کیا جائے تو وہ ظلم برداشت کرنے کیلئے تیار ہوجائے ، اس کا وہ دفاع نہیں کرے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق ، اپنے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کیلئے سبھی مذاہب میں دفاعی اقدام کرنے کی گنجائش ہے۔ دنیا کے موجودہ پریشان کن صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے امام حرم نے کہا کہ آج دنیا میں ٹکنالوجی نے خوب ترقی کی ہے ۔ہر قسم کے وسائل ہمیں دستیاب ہیں۔ فوجی طاقتیں موجود ہیں۔ لیکن دوسری طرف دیکھیں تو پورا عالم جنگ جیسے حالات سے دوچار ہے۔ تمام سہولیات اور وسائل کے باوجود انسان کی پریشانی دور نہیں ہوپارہی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف طاقت سے ہی امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ ظلم اور ستم دور ہوسکتا ہے تو بس اسلامی تعلیمات پر عمل کے ذریعہ ہی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب ایک مقام پر جمع ہوکر یہ اعلان کریں کہ دہشت گردی سے اسلام کا کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے اسلام پوری طرح دہشت گردی سے پاک ہے۔ایک سوال کے جواب میں امام حرم نے دہشت گردی کے خاتمہ کی سمت میں سعودی حکومت کے ذریعہ کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں سعودی حکومت کی کوششوں کا اعتراف پوری دنیا نے کیا ہے۔ ہم ان تمام ممالک کے ساتھ ہیں جو دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی تاریخ پرانی ہے لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اسے آج کسی دین سے جوڑ کر دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان اگرکسی کو ہوا ہے وہ تومسلمان ہیں۔ پوری دنیا سے دہشت گردی کے خاتمہ اور امن وسلامتی کی دعاؤں کے ساتھ امام حرم کا خطاب اختتام پذیر ہوا۔اس سے قبل ’وندے ماترم‘ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالہ سے پوچھے گئے سوالات کو منتظمین کے ذریعہ یہ کہہ کر ٹال دیا گیاکہ یہ ہمارے موضوع کے دائرے سے باہر کے سوالات ہیں۔اپنے ختتامی کلمات میں امام حرم نے ہندوستان کی حکومت ریاست بہار کی حکومت کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ وزرا، اعلیٰ حکام ،اخباری نمائندوں ، ہندوستانی عوام کے ساتھ ساتھ ان تمام اداروں ، تنظیموں اور شخصیتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے یکم اپریل کو گاندھی میدان میں توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام امن کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ ان کا پورا خطاب عربی زبان میں تھا اور جستہ جستہ اس کاترجمہ اردو میں کیا جارہا تھا ۔ امام حرم کے خطاب سے قبل وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں امام حرم کا تہہ دل سے استقبال کیا گیا تھا اور انہیں دوبارہ بہار آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ کے ذریعہ یہ بھی گذارش کی گئی تھی کہ امام حرم پوری دنیا ، پورے ہندوستان اور اس کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر بہار میں امن ،سلامتی اور خوشحالی کیلئے دعا فرمائیں۔ واضح ہوکہ امام حرم شریف شیخ صالح بن محمد حسب پروگرام تین روز قبل ہی ہندوستان تشریف لانے والے تھے اور ملک کے مختلف اہم مقامات میں منعقد پروگرام میں شریک ہونے والے تھے۔ انھیں پروگرام میں پٹنہ کے گاندھی میدان میں یکم اپریل کومنعقد امن کانفرنس بھی شامل تھی، جو انتہائی تذبذب کے عالم میں کل اختتام پذیر ہوگئی۔ امن کانفرنس میں امام حرم کی عدم شرکت سے بہار اور مضافات کے صوبوں کے لاکھوں مسلمانوں کو بڑا صدمہ پہنچا۔ توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذمہ داروں کو بھی حد درجہ پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ کل دیر رات ویزا ملتے ہی امام حرم ہندوستان کیلئے روانہ ہوگئے۔ پٹنہ ہوائی اڈے پر آج صبح ان کا شایان شان استقبال کیا گیا۔آج سہ پہر 3.30 بجے سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان منعقد پرہجوم پریس کانفرنس میں موصوف نے وہیں باتیں کہیں جو یکم اپریل کو گاندھی میدان میں منعقد امن کانفرنس میں کہی جانی تھیں۔ پریس کانفرنس میں اخبار نویسوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں عمائدین شہر اور توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذمہ دار شریک تھے۔ اطلاع کے مطابق امام حرم پانچ اپریل کو دارالعلوم دیو بند ،6 اپریل کو حیدرآباد، 7 اپریل کو بنگلور 8 اپریل کومیسور اور 9 اپریل کو کیرالہ تشریف لے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ 8 اپریل کو میسور میں نماز جمعہ پڑھائیں گے اور اسی دن بنگلور میں ’’عظمت صحابہ‘‘ کے موضوع پر منعقد ایک عظیم الشان کانفرنس سے خطاب فرمائیں گے۔

About the author

Taasir Newspaper