اردو | हिन्दी | English
146 Views
Sports

دہلی کے پاس امیدیں برقرار رکھنے کا موقع:ظہیرخان

Zaheer-Khan
Written by Taasir Newspaper

وشاکھا پٹنم، 16 مئی (یو این آئی) گزشتہ میچ میں بڑے فرق سے شکست کے درد کو بھلاتے ہوئے دہلی ڈئیر ڈیولس منگل کو یہاں ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی رائزنگ پنے سپرجائنٹس کے خلاف جیت درج کرکے امیدیں برقرار رکھنے کے ارادے سے اترے گی۔دہلی نے ممبئی کے خلاف 80 رنز سے گزشتہ مقابلے میں شکست کھائی تھی اور وہ ٹیبل میں چوتھے سے پانچویں نمبر پر کھسک گئی تھی۔آئی پی ایل نو کے اس آخری پڑاؤ پر آکر آخری چار میں کوالیفائی کرنے کی جنگ تیز ہو گئی ہے اور دہلی 11 میچوں میں چھ جیت اور پانچ ہار کے ساتھ فی الحال مشکل صورت حال میں ہے ۔لیکن اگر ظہیر خان کی کپتان والی یہ ٹیم اپنے باقی میچوں میں جیت درج کرتی ہے تو اس کے پاس ابھی بھی موقع بنا ہوا ہے ۔آئی پی ایل میں نئی رائزنگ پنے سپرجائنٹس کو اس کے کپتان مہندر سنگھ دھونی پورے ٹورنامنٹ میں اٹھانے کی کوشش ہی کرتے رہ گئے اور ٹیم اپنے 12 میچوں میں تین ہی جیت سکی۔وہ خطاب کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے لیکن ان باقی میچوں میں جیت درج کرکے ساکھ برقرار رکھنے کے لئے اترے گی۔تاہم اسی کے ساتھ پنے باقی ٹیموں کا کھیل بگاڑ سکتی ہے اور دہلی کو اس بات کو دھیان رکھنا ہوگا۔ویسے دہلی اس بات کو خوب جانتی ہوگی کیونکہ پنے پانچ مئی کو ہوئے مقابلے میں سات وکٹوں سے شکست دے چکی ہے ۔اس میچ میں دہلی 162 کا تسلی بخش اسکور تک کا دفاع نہیں کر سکی تھی۔دہلی کو دوڑ میں بنے رہنے کے لئے ہر حال میں پنے کے الٹ پھیر سے بچنا ہوگا اور ماضی کی غلطیوں سے سبق لیتے ہوئے اپنی گیند بازی اور بلے بازی میں جامع اصلاحات کرنا ہوں گی ۔ظہیر نے ممبئی کے خلاف کراری شکست کے لئے گیند بازوں کو مجرم سمجھا تھا جس میں اسپنروں نے سب سے زیادہ مایوس کیا اور اضافی اسپنر شہباز ندیم کو گیند دینا مہنگا پڑ گیا۔ندیم 42 رن اور جنوبی افریقہ کے اسپنر عمران طاہر 59 رنز لٹاکر شکست کی اہم وجہ بنے ۔اکیلے کرس مورس 34 رنز پر دو وکٹ لے کر کامیاب رہے ۔تیز گیند باز اور کپتان ظہیر نے اگرچہ اپنے چار اوور میں 23 رن دے کر سب سے زیادہ درست گیند بازی کی۔گیند بازوں کی اس مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے ٹیم ٹیبل میں ایک مقام لڑھکي تو بلے بازوں نے بھی 207 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے کی کوئی ہمت نہیں دکھائی اور جیسے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے ۔دہلی کی پوری ٹیم 126 کے معمولی اسکور پر 20 اوور ختم ہونے سے پہلے ہی پویلین لوٹ گئی۔گزشتہ میچوں کی طرح اوپنر کوئنٹن ڈی کاک اس بار پھر بلے سے کچھ ہمت دکھانے میں کامیاب رہے اور 40 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔لیکن باقی بلے بازوں سے انہیں کوئی تعاون نہیں ملا اور ٹیم کے سات کھلاڑی دہائی کے ہندسے تک بھی نہیں پہنچ سکے ۔کاک (381 رنز) ٹیم کے بہترین اسکورر ہیں۔ان کے بعد سنجو سیمسن (261) اور کرو نانائر (222) ہیں۔گزشتہ میچ میں سنجو چھ اور نائر آٹھ رنز پر آؤٹ ہو گئے تھے اور ان کے بعد ٹیم کے پاس کوئی اور اسکورر نہیں تھا۔دہلی کی یہ بڑی کمزوری ہے کہ وہ اپنے اوپننگ تین یا چار بلے بازوں پر ہی رن بنانے کیلئے منحصر ہے ۔جے پی ڈومنی مڈل آرڈر میں توقعات پر کھرے نہیں اتر پا رہے ہیں تو رشبھ پنت کی کارکردگی میں بھی تسلسل کی کمی ہے ۔
دہلی کے لیے آگے آنے والے اس کے میچ کافی اہم ہونے والے ہیں اور اسے کافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے جبکہ ان کی حریف ٹیم پنے کے پاس اب کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے اور وہ یقینی ہی میدان پر مکمل بے خوفی کے ساتھ کھیلنے اترے گی۔پنے پہلے بھی دہلی کو شکست دے چکی ہے اور اسے اس بات کا بھی فائدہ ملے گا۔اہم کھلاڑیوں کی چوٹوں اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی کارکردگی نہیں کر پانے کا شکار رہی پنے کے پاس اجنکیا رہانے ، جارج بیلی، روی چندرن اشون، کپتان دھونی جیسے قابل کھلاڑی ہیں۔پنے کوبارش سے متاثرہ گزشتہ میچ میں کولکتہ نائٹ رائڈرس نے شکست دی تھی۔اس میچ میں بھی پنے نے کافی جلدی وکٹ گنوائے ۔گزشتہ 12 میچوں میں 419 رنز بنا کر ٹیم کے بہترین اسکورر رہے رہانے گزشتہ دو میچوں میں دو اور صفر کی اننگز ہی کھیل سکے ہیں تو عثمان خواجہ بھی کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل سکے ہیں۔مڈل آرڈر میں دھونی کے بیٹ سے بھی کچھ خاص رن نہیں نکلے ہیں۔لیکن گیند بازوں میں تین میچوں میں ہی ایڈم جپا آٹھ وکٹ لے کر سب سے کامیاب ثابت ہوئے ہیں تو اشوک ڈنڈا اور تشارا پریرا بھی اچھا کھیل رہے ہیں اور دہلی کو ان کھلاڑیوں سے محتاط رہنا ہوگا۔

About the author

Taasir Newspaper