اردو | हिन्दी | English
144 Views
Politics

راجیہ سبھا ممبران کے نظریات اور تصورات میں تنوع اور وسعت پیداکرتی ہے

Narendra-Modi
Written by Taasir Newspaper

وزیراعظم کا راجیہ سبھا کے سبکدوش ہونے والے ممبران کی الوداعی تقریب سے خطاب

نئی دہلی،13۔مئی(یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں ایوان کی رکنیت سے سبکدوش ہونے والے ممبران کی الوداعی تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک وقو م نے آج ایوان کی رکنیت سے سبکدوش ہونے والے معزز ممبران کے علم وتجربات سے زبردست حاصل کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا اپنے ممبران کے نظریات اور تصورات میں تنوع اور وسعت پیداکرتی ہے ۔ اوران کے تجربات انہیں علمی طور سے آسودہ بناتے ہیں۔اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنی ا س امید کا اظہار بھی کیا کہ آج سبکدوش ہونے والے ممبران کے علوم اورتجربات ملک وقوم کو ہمیشہ فائدہ پہنچاتے رہیں گے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ آج راجیہ سبھا کی رکنیت سے سبکددش ہونے والے ممبران متعدد اہم فیصلے لئے جانے کے عمل میں شامل رہے ہیں۔ کاش یہ ممبران ان دو فیصلو ں کے عمل میں بھی شامل ہوتے ، جو ملک وقوم کے لئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوں گے ، ان میں سے ایک فیصلہ جی ایس ٹی بل کے بارے میں ہے اوردوسرا کمپنسیٹری افارسٹشین فنڈ بل کے بارے میں ہے جس سے حاصل ہونے والا سرمایہ ریاستی سرکار وں کو جنگلات کے فروغ کے منصوبوں کے لئے فراہم کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کو ایک ایسا فائدہ حاصل ہے جو لوک سبھا کو نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اس ایوان میں اپنے ممبران کو وداع بھی کرتے ہیں اور ان کا خیر مقدم بھی کرتے ہیں ، یہ خوش نصیبی لوک سبھا کو حاصل نہیں ہے ۔اس موقع پر پیش کی جانے والی نیک خواہشات سبکدوش ہونے والے ممبرا ن کی سبکدوشی پرنہیں ہے بلکہ انہیں زیادہ فعال بنانے کا حوصلہ اور طاقت دیتی ہیں۔ میں بھی ان تمام ممبران کے تئیں ممنون ہوں جنہوں نے گزشتہ چھ برس کے دوران دو سرکاروں کے دو ر اقتدار میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ،اپنے فرائض کی ادائیگی کی اورملک وقوم کے مفاد میں لئے جانے والے اہم فیصلوں میں اپنے علم ، اپنے تجربات اور اپنے علاقوں کی خصوصی ضروریات سے ہم سب کو مستفید کیا۔ دونوں سرکاروں نے آپ سے فائدہ حاصل کیا ہے ۔جب ہم یہاں آتے ہیں تو ہمارے خیالات کی ایک حد ہوتی ہے ۔ یہا ں ملک کے ہرگوشے سے ہر پس منظر کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر تبادلہ خیال کرنے سے ہماری سوچ کا دائر ہ بھی وسیع ہوجاتا ہے اور اس ایوان میںآنے سے پہلے ہماری جو شخصیت ہوتی ہے اس میں اس ایوان سے رخصتی کے وقت بہت کچھ تبدیلیاں ہوچکی ہوتی ہیں اور یہی تبدیلیاں ہمار ی قوم کی پونجی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میرے خیال سے اس ایوان نے ہمیں بڑا بنانے میں ہمارے تحصیل علم اور ہمارے ویڑن کو وسعت دینے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اس سلسلے میں ا س ایوان کے سبھی ساتھیوں کا کردار بڑا اہم ہے ۔ میری نیک خواہشات آپ سب کے لئے ہمیشہ رہتی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔اس ایوان سے رخصت ہونے کے بعد بھی یہ سرکارآپ کی خاطر کام کرنے کے لئے اسی طر ح مستعد رہے گی جتنا اس ایوان کی رکن کی حیثیت سے اس کا حق بنتا ہے ۔ جہاں تک سرکار کا مسئلہ ہے ، یہاں سے جانے کے بعد بھی آپ کا حق ویسا ہی بنا رہے گا۔ میں چاہوں گا کہ آپ اپنے اس حق کا بھرپورفائدہ اٹھائیں اور سماج کی خدمت کے لئے آپ کی طاقت اورآپ کی خدمات دستیاب رہیں۔اس ایو ا ن میں لئے گئے متعد د فیصلوں میں آپ کا تعاون دستیاب رہا ہے ۔ آج آپ کورخصت کرتے وقت جب ان دنوں کے فیصلوں پر نظر ڈالی جائے تو اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے آپ کی موجودگی میں آپ کی شراکت دار ی سے اور مشوروں سے ہوئے ہیں۔ یقیناًبہت اہم فیصلے لئے گئے ہیں۔آپ حضرات اس ایوان میں اپنی ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔
آپ کی ریاست کے مفادات بھی آپ کی اولیں ترجیح ہوتے ہیں اور ہونی بھی چاہئے ۔ تاہم دو باتوں کا شکوہ آپ کے دلوں میں ہوگا۔اگر ملک وقوم کے نظریے سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ ک موجودگی میں دو ایسے فیصلے ہوپاتے جن سے آپ کی ریاست اور اس کے لوگ آپ پر ہمیشہ فخر کرتی۔ان میں سے ایک فیصلہ جی ایس ٹی بل سے متعلق ہے ،جو بہار سے یہاں آنے والوں کے لئے انتہائی فائدہ مند ہے ۔ جی ایس ٹی سے بہار اور اتر پردیش کو بھرپور فائدہ حاصل ہونے والا تھا۔ ایک یا دو ریاستوں کو چھوڑ کر سبھی صوبوں کو بھر پورفائدہ حاصل ہونے والا تھا۔اس لئے اس ایوان کے ممبران کی یہ ذمہ داری تھی کہ ان دو اہم فیصلوں کے عمل میں بھی آپ شامل ہوتے ۔ خیر اب آپ کوموقع نہیں ملا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے جو حضرات اس ایوان میں رکن کی حیثیت سے واپس آئیں گے ان کو یہ موقع ضرور ملے گا اور آپ جس ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں اس کی فلاح کا ایک اہم کام آپ کے ہاتھوں انجام پائے گا۔میرے خیال سے دوسرا اہم کام سی اے ایم پی اے کا ہے اگر ہم نے اس بار اس کے بارے میں فیصلہ کرلیا ہوتا تو ریاستوں کوسی اے یم پی اے سے 42 ہزار کروڑ روپے کا خطیر سرمایہ حاصل ہوجاتا جن میں ہر ریاست کو تقریباََ دو دو ، تین تین ہزار کروڑ روپے حاصل ہوجاتے ۔ یہ رقم کم نہیں ہوتی۔یہ سرمایہ جنگلات کے فروغ کے لئے حاصل ہونے والا تھا اور برسات کے موسم میں یہ سرمایہ سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتا تھا۔لیکن شائد اس بار یہ فیصلہ نہیں ہوپایا۔برسات کا موسم رخصت ہوجائے گا۔ چار چھ مہینے اور انتظار کرنا پڑے گا لیکن افسوس کہ ریاستوں کی فلاح کا ایک سیدھا سادہ کام نہیں ہوسکا۔میں مانتا ہوں کہ آپ جہاں بھی ہوں گے ہمیں اپنی نیک خواہشات دیتے رہیں گے ۔ کوششیں کرتے رہیں تاکہ ریاستوں کو فائدہ پہنچانے والا کام اس ایوان میں ممکن ہوسکے ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی طاقت اورآپ کے تجربات اس سلسلے میں بہت کام آئیں گے ۔میں ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے آج سبکدوش ہونے والے سبھی ممبران کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور آپ کے تعاون کے لئے سرکار کی جانب سے آپ کے تئیں انتہائی ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔

About the author

Taasir Newspaper