اردو | हिन्दी | English
189 Views
Politics

راہل پر چل سکتا ہے ہتک عزت کا مقدمہ

rahul ganhi
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی،19جولائی؍(آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے آج کہا کہ راہل گاندھی کو ایک تنظیم کی عوامی طور پر مذمت نہیں کرنی چاہئے تھی اور اگر انہوں نے افسوس نہیں ظاہرکیا تو انہیں ہتک عزت کیس میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔راہل نے مہاتما گاندھی کے قتل کے لئے آر ایس ایس کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس آر ایف نریمن کی بنچ نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ یہ تاریخی طور پر درست ہو سکتا ہے لیکن حقیقت یا بیان لوگوں کی بھلائی کے لئے ہونا چاہئے،آپ عوامی طور پر مذمت نہیں کر سکتے۔بنچ نے کہا کہ آزادی کو دبایا یا کچلا نہیں گیا ہے،توہین آمیز بیان پر لگام لگایا گیا ہے۔مصنفین، لیڈران، ناقدین یا اپوزیشن کیا کہتے ہیں، تم میں اس کو برداشت کرنے کی عظیم صلاحیت ہونا چاہئے۔بنچ نے راہل کی تقریر پر سوال اٹھائے اور حیرت کا اظہار کیا کہ انہوں نے غلط تاریخی حقیقت کا اقتباس دے کر تقریر کیوں کی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ انہوں نے اپنے ضمیر سے کام لیا ہے اور راہل گاندھی کو معاملے میں مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔بنچ نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ درخواست گزار کے الزام آئی پی سی کی دفعہ 499(ہتک عزت )کے تحت آتے ہیں یا نہیں، فیصلہ ہو چکا ہے،اگر آپ نے افسوس نہیں جتایا تو آپ کو مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔اس نے یہ بھی کہا کہ قانون کا مقصد لوگوں کو فریادی بنانا نہیں ہے،قانون کا مقصد ہے کہ لوگ قانون پر عمل کریں،افراتفری کے بجائے امن اور ہم آہنگی کا ماحول ہو۔ راہل کی جانب سے سینئر وکیل ہرین راول پیش ہوئے جنہوں نے کہا کہ تقریر میں جو بھی کہا گیا وہ سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر کہا گیا اور پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر کہا گیا۔راول نے کہا کہ وہ براہ راست آر ایس ایس کا ذکر نہیں کر رہے تھے۔بنچ نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو پڑھنے کے بعد کہا کہ اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ناتھورام گوڈسے آر ایس ایس کا کارکن تھا۔بنچ نے کہا کہ گوڈسے نے گاندھی کو مارا اورآر ایس ایس نے گاندھی کو مارا، دونوں الگ الگ بات ہے۔اس نے کہا کہ آپ اس سے کافی آگے بڑھ گئے اور آپ عوامی طور پر مذمت نہیں کر سکتے۔جسٹس مشرا نے کہا کہ تاریخ پرائیویسی کا سب سے بڑا دشمن ہے،بہت سالوں سے کوشش ہو رہی ہے کہ تاریخی طور پر اہم شخصیات کی زندگی میں داخل اسے نیا طول و عرض دیا جائے۔ڈی ایم ڈی کے لیڈر اور اداکار اے وجے کانت کی طرف سے دائر پٹیشن میں ایک حالیہ فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ حکومت کی تنقید ایک بات ہے اور تاریخی شخصیات کی تنقید دوسری بات ہے۔وجے کانت نے عرضی میں اپنے اور دیگر کے خلاف دائر مقدمات کو چیلنج کیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو نوٹس جاری کیا ہے۔اس کے بعد راول نے دو ہفتے کے التواء کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سینئر وکیل کپل سبل اس معاملے میں جرح کریں گے اور آج وہ دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے جواب دائر کرنے کی بھی مانگ کی۔بہر حال بنچ نے التواء دینے کی سفارش سے انکار کر دیا اور کیس کی سماعت 27جولائی طے کی اور کہا کہ معاملے کو اور ملتوی نہیں کیاجائے گا۔
راہل نے گزشتہ سال مئی میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاکر ان کے خلاف دائر مجرمانہ ہتک عزت کے معاملے کو مسترد کرنے کی مانگ کی تھی۔معاملہ مہاراشٹر کے تھانے ضلع کے بھیونڈی میں مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے زیر التوا ہے۔سپریم کورٹ نے مجسٹریٹ کی عدالت میں کیس کی سماعت پر عبوری روک لگا دی تھی۔راہل نے اس سے پہلے اپنے بیان پر افسوس جتانے کے سپریم کورٹ کے مشورہ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ مقدمہ لڑیں گے۔کورٹ نے معاملے کو بند کرنے کے لئے انہیں افسوس ظاہرکرنے کا مشورہ دیا تھا۔دفعہ کے تحت ہتک عزت کے جرم میں دو سال جیل تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ آر ایس ایس کی بھیونڈی یونٹ کے سیکریٹری راجیش کٹے نے الزام لگایا تھا کہ راہل نے 6 مارچ 2015کو سونالے میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے گاندھی جی کا قتل کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ کانگریس لیڈر نے اپنی تقریر میں سنگھ کی تصویر کو خراب کرنے کی کوشش کی۔شکایت کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت نے کارروائی شروع کی اور راہل کو نوٹس جاری کرکے پیش ہونے کو کہا۔راہل کو اس سال 6 جنوری کو نچلی عدالت نے پیش ہونے کے لئے سمن جاری کیا۔کانگریس لیڈر نے ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ انہیں پیشی سے چھوٹ دی جائے اور شکایت کو منسوخ کر دیا جائے۔استغاثہ نے عرضی کی مخالفت کی تھی اور کہا کہ راہل اپنے کیس میں جرح کر سکتے ہیں اور مجسٹریٹ کے سامنے سماعت کے دوران ثبوت دے سکتے ہیں۔ہائی کورٹ نے عرضی کو مسترد کر دیا تھا اوراپنے حکم پرالتواء دینے سے انکار کر دیا۔اس نے کانگریس لیڈر کو اجازت دی کہ حکم کے خلاف وہ سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔گزشتہ سال مئی میں انہوں نے سپریم کورٹ سے اپنے بیان کے معاملے میں درج مجرمانہ مقدمے کو منسوخ کرنے کی مانگ کی تھی۔

About the author

Taasir Newspaper