اردو | हिन्दी | English
586 Views
Deen

رمضان اور تلاوت قرآن

Ramadan
Written by Taasir Newspaper

مقدس ماہ رمضان کی مبارکباد قبول فرمائیں۔ جیسا کہ رواج ہے ہم لوگ اس مہینے میں کتاب اللہ شریف کی تلاوت کا خاص اہتمام کرتے ہیں لیکن ہمارے اکثر بہن بھائی دانستہ اور نادانستہ طور پر حقیقی معنوں میں کلام اللہ شریف کی تلاوت میں کچھ ضروری اور بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرکے ثواب کے بجائے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ حضرات کو میری بات ناگوار گزرے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم لوگ کلام اللہ شریف کا صحیح حق ادا نہیں کرپاتے۔ اگر ہم لوگ تھوڑی سی احتیاط اور ذرا سی محنت کرکے تلاوت کے بنیادی اصولوں کے تحت تلاوت کریں تو مزہ دوبالا ہوجائے۔ میں نے اپنی کم علمی اور انتہائی بے بضاعتی کے باوجود اس موضوع پر قلم اٹھانے کی جسارت کی ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ میری خطاؤں کو درگزر فرما دے اور میری یہ حقیر سی کوشش قبول فرمالے۔
(1) کلام اللہ کی نہایت ٹھہر ٹھہر کر سکون اور دلجمعی کے ساتھ تلاوت کریں، جیسا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے، وَرَتِلِ القرآن تَر تیلاً ۔ (المزمل) ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھو۔‘‘
(2) کلام اللہ کے حروف کوان کے صحیح مخرج سے ادا کریں۔
(3) لحنِ جلی اور لحنِ خفی سے پرہیز کریں۔کسی عربی حرف کی اصلی آواز کی جگہ دوسرے عربی حرف کی آواز نکالنے کو لحنِ جلی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’ث‘‘ کہ جگہ س یا ’’ح‘‘ کی جگہ ’’ہ‘‘ پڑھنا لحنِ جلی ہے اور لحنِ جلی کو بزرگوں نے حرام قرار دیا ہے، پڑھنے سننے اور پڑھانے والے سب گنہگار ہوں گے۔
عربی طرز ادا کو چھوڑ کر یا عربی لہجے کی خلاف ورزی کرکے کسی اور لہجے یا طرز میں تلاوت کرنے کو لحنِ خفی کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی جگہ ’’را‘‘ کو پُر کرکے یعنی موٹی کرکے پڑھنا ہے۔ وہاں را کو موٹی نہ کرنا لحنِ خفی ہے۔ لحنِ خفی مکروہ ہے۔
رموز اوقاف:
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہر زبان کی بول چال میں بولنے والے کہیں ٹھہرتے ہیں، کہیں نہیں ٹھہرتے، کہیں زیادہ ٹھہرا جاتا ہے کہیں کم۔ اس سے بولنے والے کا صحیح مطلب سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ چنانچہ قرآن پاک کی آیتوں کا صحیح مطلب سمجھانے کے لئے ہمارے بزرگوں نے کچھ نشانیاں (علامتیں) مقرر کردی ہیں۔ ان نشانیوں کو رموز اوقاف کہا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے ان میں سے ضروری ضروری علامتیں یہاں بیان کی جارہی ہیں:
8ں یا ۵: جہاں بات پوری ہوجاتی ہے وہاں دائرہ یا ۵کا ہندسہ یعنی پان کی شکل کا نشان بنا ہوتا ہے۔ یہ دائرہ یا نشان اس بات کی علامت ہے کہ آیت پوری ہوگئی۔ اس وجہ سے خود اس دائرہ کو بھی آیت کہا جاتا ہے۔ جہاں یہ دائرہ ہو، وہاں سانس توڑ کر ٹھہرجانا بہتر ہے۔
م : یہ میم وقف لازم کی علامت ہے۔ جہاں میم بنا ہوا ہو وہاں ضرور ٹھہرنا ہے۔ اگر نہ ٹھہرا جائے تو سخت اندیشہ ہے کہ آیت کا مطلب کچھ سے کچھ ہوجائے گا اور پڑھنے والا گنہگار ہوگا۔
ط: یہ وقف مطلق کی علامت ہے۔ اس علامت پر نہ ٹھہرنے میں کہیں کہیں مطلب بدل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے ط کی علامت پر ٹھہرجانا بہتر ہے۔
ج: یہ وقف جائز کی علامت ہے۔ اس علامت پر نہ ٹھہرنا جائز ہے لیکن ٹھہرجانا بہتر۔
لا: یہ علامت کہیں تو دائرہ کے اوپر 8ں لا اور کہیں دائرہ کے اندر 8ں لا بنی ہوتی ہے۔ اورکہیں بغیر دائرے کے صرف لا لکھا ہوتا ہے۔ جہاں کہیں دائرہ کے اوپر یا اندر لا لکھا ہوتا ہے تو عام بول چال میں اس کو ’’آیت لا‘‘ کہتے ہیں۔ یہاں پڑھنے والے کو اختیار ہے کہ چاہے تو ٹھہرے یا نہ ٹھہرے۔
جہاں کہیں دائرہ کے بغیر ’’لا‘‘ لکھا ہوتا ہے وہاں ہرگز ٹھہرنا نہیں چاہیے۔ اگر ٹھہر جائیں گے تو معنی بدل جانے کا اندیشہ ہے۔
سکتہ: یہاں بغیر سانس توڑے ذرا سا ٹھہر جانا بہتر ہے کئی بزرگوں کے نزدیک جتنا ’’سکتہ‘‘ پر ٹھہرو اس سے کچھ زیادہ ’’وقفہ‘‘ پر بغیر سانس توڑے ہوئے ٹھہرو۔
معانقہ یا مع:کہیں کہیں تین نقطے . . . دو نیچے اور ایک اوپربنے ہوتے ہیں اور ایک یا کئی الفاظ کے بعد اسی طرح تین نقطے . . . دوبارہ بنے ہوتے ہیں۔ دو جگہوں پر اس قسم کے تین نقطوں کو معانقہ کہا جاتا ہے۔ اکثر حاشیہ پر معانقہ یا ’’مع‘‘ لکھا ہوتا ہے۔ یہ نقطے آیت کو تین حصوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو جگہ پر جو تین نقطے بنے ہوئے ہیں ان میں سے کسی ایک جگہ کے تین نقطوں پر ٹھہرنا ہے۔ اور دوسری جگہ کے تین نقطوں پر نہیں ٹھہرنا ہے۔ جیسے سورۃ قدر (انا انزلنا) کے آخر میں اَمر کے بعد معانقہ ہے اس کے بعد دوسرا لفظ ’’سَلاَمٌ‘‘ ہے۔ پھر معانقہ ہے ۔
تلاوت کے تین اہم فائدے:
(1) دِل کا زنگ دور ہوتا ہے (2) اللہ پاک کی محبت میں ترقی ہوتی ہے(3) ہر ہر حرف پر دَس نیکیاں ملتی ہیں۔
تلاوت کے دو اہم آداب:
(1) پڑھنے والا دل میں یہ خیال کرے کہ اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ ’’سناؤ کیا پڑھتے ہو‘‘۔
(2) سننے والا دل میں یہ خیال کرے کہ احکم الحاکمین اور محسنِ اعظم کا کلام پڑھا جارہا ہے۔ اس لیے نہایت عظمت و محبت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

About the author

Taasir Newspaper