اردو | हिन्दी | English
337 Views
Deen

رمضان ماہِ خیروبرکت کا آغاز

Ramadan-Mubarak
Written by Taasir Newspaper

رمضان المبارک پھر آپہونچا ہے اگرچہ مادی نگاہوں سے اس ماہ رحمت اور دوسرے مہینوں میں کوئی خاص امتیاز محسوس نہیں ہوتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ماہ اور دوسرے مہینوں میں نمایاں فرق ہے۔ اتنا نمایاں کہ اگر وہ ہم پر ظاہر ہوجائے تو بلاشبہ ہم بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے خاص بندوں کی طرح سال بھر نہایت بے چینی سے اس کے منتظر رہا کریں۔ جیسا کہ خودحضور پاک علیہ السلام نہایت اشتیاق کے ساتھ منتظر رہا کرتے تھے۔
محدثین کا بیان ہے کہ نبی کریم جب رجب کا چاند دیکھتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے کہ ’’اے اللہ ہمارے رجب وشعبان کو ہمارے لئے مبارک کر اور رمضان تک ہمیں پہونچادے۔ اور جب شعبان کی ابتداء ہوتی تو رسول پاک کثرت سے روزے رکھنا شروع فرمادیتے۔ حضر ت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ ’’حضور پاک رمضان المبارک کے علاوہ تمام مہینوں سے زیادہ روزے صرف شعبان میں رکھتے تھے بلکہ کبھی تو پورا ماہ روزوں میں گزارتے تھے‘‘
دراصل روزہ میں جسمانی ومادی کثافتوں سے دور رہنے اور روحانی لطافتوں کے حاصل کرنے کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے چنانچہ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ
’’تمہارے پاس رمضان کا مبارک مہینہ آیا جس کے روزے تمہارے اوپر فرض کئے گئے اس میں آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ نیز سرکش وشیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں‘‘
جیسا کہ مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کو رمضان المبارک کا اشتیاق نیز اس کی رحمتوں وبرکتوں کاسال بھر انتظار رہا کرتا تھا ، کیوں نہ رہے رمضان المبارک کا مہینہ تاریخ اسلام اور شریعت محمدی دونوں میں اہمیت کا حامل ہے اسی ماہ میں وحی الٰہی کا سلسلہ شروع ہوا۔ نوعِ انسانی کے پاس زندگی کا آخری لیکن مکمل نظام آیا اور زمین والوں کے لئے آسمانی ہدایت کے دروازے کھل گئے، اسی ماہ میں پیغمبر اسلام غارِ حرا میں معتکف تھے کہ آپ پر قرآن حکیم کی پہلی آیت نازل ہوئی اور ہر ایک امتی کا سینہ علم ومعرفت کا گنجینہ بن گیا کائنات کے سربستہ راز اس پر منکشف ہونے لگے۔ جمالِ حقیقت کا اسے مشاہدہ ہوا ۔ اسی لئے رمضان المبارک میں ہر مسلمان قرآن کی تلاوت سے خاص شغفت رکھتا ہے اور کم از کم ایک بار تو اکثر مسلمان اس مہینہ میں قرآن پاک ختم کرلیتے ہیں یہ گویا اس عمل کی نقل ہے کہ رسول اللہ حضرت جبرئیل کے ساتھ اسی ماہ میں قرآن مجید کا دورہ کرتے تھے۔
اس کے علاوہ رمضان میں روزے بھی رکھے جاتے ہیں اور اللہ کے بندے موسم کی شدت کی پرواہ کئے بغیر صبح کے آغاز سے غروب آفتاب تک نہ ایک دانہ منہ میں ڈالتے ہیں اور نہ ایک قطرہ پانی پیتے ہیں، اسی مناسبت سے اس ماہ کو صبر کا مہینہ کہا جاتا ہے۔
اسلام میں عبادتیں اور بھی ہیں لیکن رمضان کی طرح طویل مشقت اور پورا ایک ماہ دن بھر کھانے پینے اور دیگر شہوات سے اجتناب آسان نہیں، اسے وہی کرسکتا ہے جسے اس عمل سے پوری رغبت ہو اور جس میں اپنے مالک حقیقی کے احکام بجا لانے کا غیر معمولی جذبہ بھی پایا جاتا ہو، اس طرح یہ مہینہ مسلمانوں کو حکم الٰہی کی مسلسل پابندی کا عادی بناتا ہے اور راہ حق میں ہر قسم کی مشکلیں جھیلنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی روزہ دار سے خصوصی معاملہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ :
’’روزہ میرے لئے ہے اس کا بدلہ میں ہی دوں گا‘‘
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں یہ مبارک مہینہ ملے اور وہ اس میں روزہ رکھ کر اور قرآن حکیم کی تلاوت کرکے خود کو الطافِ الٰہی کا مستحق بنالیں خاص طور پر روزے کے فوائد کسی سے پوشیدہ نہیں نہ اس بار میں طول طویل تفصیل کی ضرورت ہے۔
بس یہ سمجھ لیجئے کہ رمضان کے روزے ایک مسلمان میں دنیا کی آلودگیوں سے محفوظ رہنے کا بہتر سلیقہ پیدا کرتے ہیں جس نے توفیق الٰہی کے طفیل اس ماہ کو اللہ اور اس کے رسول پاک کی ہدایت کے مطابق پاکیزگی ، خدا ترسی اور پرہیزگاری کے ساتھ اپنی جان کو اطاعت خداوندی کے لئے تیار کرلیا وہ قابل مبارکباد ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ایک رمضان دوسرے رمضان تک کی غلطیوں کا کفارہ ہے جس نے اس میں پوری توجہ کے ساتھ خدائے بزرگ وبرتر کو یاد کیا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہوگئے کیونکہ روزہ کی برکت سے اور اس فیضان الٰہی کی تاثیر سے جو نزول قرآن کی نسبت سے اس ماہ میں زمین پر نازل ہوتا رہتا ہے گناہوں کی فضا باقی نہیں رہتی شیطانی عمل دخل ختم ہوجاتا ہے اور فرمانبرداری کی کیفیات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اس سال پھر مسلمانوں کو اس سعادت کے حصول کا موقع ملا ہے جسے ہاتھ سے جانے نہ دیں کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں جس کی بنیاد صرف سانس کے آنے جانے پر ہو۔ اس کے استحکام کی ذمہ داری کون لے سکتا ہے کبھی کبھی بادِ مخالف کے ایک جھونکے سے شمع حیات گل ہوجاتی ہے پھر آج کل تو زندگی کی ناپائیداری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس خیروبرکت کے زمانے کو غفلت میں ہرگز ضائع نہ کیا جائے بلکہ اس کے ذریعہ دنیا وآخرت میں سرخروئی کا سامان کیا جائے۔

About the author

Taasir Newspaper