اردو | हिन्दी | English
205 Views
Deen

روزہ کی فرضیت کا بنیادی مقصد شجر تقویٰ کی آبیاری ہے

Roza
Written by Taasir Newspaper

افسوس!آج اُمت کواپنے رسول کے آنسوؤں کاکچھ خیال نہیں رہا۔علامہ محمدشاکر علی نوری صاحبیوکے میں سنّی دعوت اسلامی کے اکیسویں سالانہ اجتماع میں مفکراسلام، داعی کبیراور کئی جید علمائے کرام کے انقلاب آفرین خطاباتماہِ رمضان ہر سال جلوہ فگن ہوتا ہے اور امت مسلمہ اس ماہ کی سعادتوں اور برکتوں سے بقدرِ توفیق فیضیاب بھی ہوتی ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس ماہ کو ایمان و احتساب کے تقاضوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سالہا سال روزہ رکھنے کے باوجود بھی ہماری زندگیوں میں وہ تبدیلی پیدا نہیں ہوتی جس کا تقاضا یہ ماہ مبارک کرتا ہے۔ جس کی وجہ یا تو ہماری غفلت ہے یا اس ماہِ مبارک کے اعمال سے ناواقفیت، جبکہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تمہارا روزہ تمہیں جھوٹ اور دوسری برائیوں سے باز نہیں رکھتا تو اللہ کو تمہارے بھوکے اور پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ان فکری کلمات کااظہارسواداعظم اہلسنّت وجماعت کی عالمگیرتحریک سنّی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام۲۹؍مئی بروزاتوار۲۰۱۶ء کو یونائیٹیڈ کنگڈم (UK)میں منعقدہ تین روزہ اکیسویں سالانہ سنّی اجتماع میں مفکراسلام حضرت علامہ قمرالزماں خاں اعظمی صاحب نے کیا۔آپ نے فرمایاکہ ماہِ رمضان در اصل ایک روحانی تربیت کا مہینہ ہے جس میں انسان ان تمام خصائلِ حمیدہ سے آراستہ ہوجاتا ہے جو شجر تقویٰ کے برگ و بار کی حیثیت رکھتے ہیں اور روزہ کی فرضیت کا بنیادی مقصد ہی شجر تقویٰ کی آبیاری ہے۔روزہ امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام سے پہلے بھی تمام انبیائے کرام کی امتوں پر فرض تھا اس لئے کہ روحانی اور اخلاقی تربیت کے لئے روزہ بہت ضروری ہے۔ بعض مذاہب روحانی ارتقا کے لئے رہبانیت یعنی ترکِ دنیا اور ترکِ لذات کی تعلیم دیتے ہیں ،لیکن رہبانیت ایک طرح سے ’فرار عن الحیات‘ ہے جب کہ اسلام زندگی کا مذہب ہے اورپورے عالمِ انسانی کا مذہب ہے۔ البتہ ارتقائے روحانی کے لئے ماہِ رمضان عطا فرمایا گیا تاکہ امت مسلمہ اس ماہ مبارک میں روزہ رکھ کر زندگی بھر رہبانیت کے ذریعہ روحانی منازل طے کرنے والوں سے زیادہ بلند روحانی مقام حاصل کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن عظیم نے لیلۃ القدر کو ہزار مہینے کی راتوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا فرمانِ گرامی ہے کہ اس ماہ کا اول رحمت، وسط مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے۔ رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کی ترتیب میں ایک فطری ربط پایا جاتا ہے۔علامہ اعظمی صاحب نے آمد ماہ رمضان کے حوالے سے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ آنے والامہینہ بڑاہی مقدس ومکرم ہے لہٰذااس میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کااہتمام کریں،کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کریں،ایک دوسرے کی مدد کریں اور ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی کوشش کریں۔داعی کبیر حضرت علامہ محمدشاکر علی نوری صاحب(امیرسنّی دعوت اسلامی) نے ’’حضور کے آنسواور اُمت کی فکر‘‘کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ آقا علیہ السلام ہر ایک کے محسن ومددگار ہیں،نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی اپنادُکھ درداورفرمایاد لے کر حضورکی بارگاہ میں حاضر آتے۔حتیٰ کے حالت نماز میں حضورجب بچے کے رونے کی آوازکو سنتے تو قرأ ت مختصر کردیتے اور فرماتے اپنے بچوں کاخیال رکھو۔ایک مرتبہ حضورنے حضرت علی سے فرمایا:اے علی!آپ کی وجہ سے کسی ایک کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمھارے حق میں مجھے سوسُرخ اونٹوں سے زیادہ پسندہے۔اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے:ترجمہ:بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔(سورۂ توبہ،آیت ۱۲۸،پ۹)اس آیت کے حوالے سے علامہ محمدشاکرعلی نوری صاحب نے فرمایاکہ حضورکواپنی اُمت کی بے حد فکرہے،اُمت کے لیے آپرات رات بھر سجدے کرتے،گریہ وزاری کرتے ،دعائیں مانگتے اور اُمت کے حوالے سے ہمشہ فکرمند رہتے۔مولاناموصوف نے حدیث پاک کاحوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ حضوراور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ محوگفتگوتھے کہ بجلی کڑکنے لگی،حضورافسردہ ہوگئے ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے استفسار پرآپنے بتایاکہ مجھے آسمان سے پتھروں کے نزول والے عذاب کی یاد آگئی تھی۔ایک مرتبہ ایک یہودی کاجنازہ گزرا،اسے دیکھ کرآقاعلیہ السلام نم دیدہ ہوگئے اور فرمایاکہ کاش!یہ اسلام پرانتقال کرتاتوآج جہنمی نہیں بلکہ جنتی بن کر روانہ ہوتا۔یعنی کہ حضوراُمت کے حوالے سے بے حدرحم دل،مشفق ،مہربان اور فکرمند ہے۔تاریخ کائنات میں محبت کی کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی جیسی محبت شہنشاہِ کونین نے اپنی گنہگار امت سے کی ہے۔ نگار خانۂ قدرت کے عظیم شاہکار غم خوارِ امت مصطفےٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی درد،کرب، زخموں اور غموں کا بار سہہ لیا مگر ہماری بھیگی پلکوں، ڈبڈبائی آنکھوں کا بوجھ ان سے برداشت نہ ہوسکا۔ امت کے غم میں آپ ہر وقت نڈھال اور بارگاہِ خداوندی میں امت کی بخشش کے خواہاں نظر آتے ۔ کبھی غار حرا میں سجدہ ریز ہیں تو کبھی غارِ ثور میں، کبھی ہجرۂ عائشہ میں امت کے غم میں محوِ گریہ ہیں تو کبھی کعبۃ اللہ ومسجد نبوی میں۔ غرضیکہ جب سارا زمانہ سوجاتا مصطفےٰ پیارے ہمارے لیے جاگتے۔
امیرسنّی دعوت اسلامی نے انقلابی گفتگوکرتے ہوئے فرمایاکہ آج ہم سب کے آنسوؤں کاخیال کرتے ہیں مگر ہمیں اُمت کے غم میں نکلنے والے رسول اعظمکے آنسوؤں کاکچھ خیال نہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حضورکی فکرسے استفادہ کرتے ہوئے رسول اللہکی بھولی بھالی اُمت کابھلاچاہو،اُمت مسلمہ کی فلاح وبہبود کے لیے منصوبے بناؤاور آقا علیہ السلام کے ایک ایک اُمتی کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرو۔جب حضورہماری ہر پریشانی وعمل سے باخبر ہیں تو ہمارے گناہوں سے کیوں کر بے خبر ہوں گے۔کیاگزرتی ہوگی ان کے قلب مبارک پر جب وہ ہمارے گناہوں کو ملاحظہ کرتے ہوگے۔

About the author

Taasir Newspaper