اردو | हिन्दी | English
280 Views
Politics

ریل بجٹ اب عام بجٹ کا حصہ ہوگا

arun-jetly
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی 21 ستمبر (یو این آئی) حکومت آئندہ مالی سال سے بجٹ کاپورا عمل 31 مارچ سے پہلے مکمل کر لے گی۔ ریل بجٹ بھی اب الگ سے پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ عام بجٹ کا ہی حصہ ہو گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی آج یہاں ایک میٹنگ میں ریل بجٹ کو عام بجٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی کے ساتھ اب ریل بجٹ پیش کرنے کی 1924 سے جاری قدیم ترین روایت ختم ہو گئی۔کابینہ نے آئندہ بجٹ سے منصوبہ بند اور غیر منصوبہ خرچ کا انتظام بھی الگ الگ رکھنے کا سلسلہ ختم کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت نظریاتی طور پر اس بات کے حق میں ہے کہ اگلے مالی سال بجٹ کے پورے عمل کو مئی کے بجائے 31 مارچ سے پہلے مکمل کر لیا جائے تاکہ بجٹ کے تقاضوں پر یکم اپریل سے عمل شروع کیا جا سکے ۔ ابتک کے عمل میں بجٹ مئی میں منظور ہو پاتا ہے اور اس کے تقاضوں پر مؤثر طریقے سے عمل شروع کرتے کرتے ستمبر کا مہینہ آجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے عمل کو 31 مارچ سے پہلے مکمل کرنے کے لئے حکومت پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس بھی پہلے بلانا چاہتی ہے لیکن اگلے سال کے شروع میں کچھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے اس کی تاریخ کا فیصلہ الیکشن پروگرام کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اگلے سال سے عام بجٹ میں ہی ریلوے کی تفصیلات کو بھی شامل کیا جائے گا اور بجٹ دستاویزات میں منسلکہ کے طور پر ریل بجٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کے بعد ریلوے کے وزیر پریس کانفرنس میں اگلے مالی سال کیلئے ریلوے کی بجٹ تجاویز کی معلومات عام کریں گے ۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے ریلوے کے وزیر یا وزارت کے حقوق اور خود مختاری کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ریلوے کی پالیسیوں اور منصوبوں پر وزارت کا کنٹرول جوں کی توں رہے گا. البتہ اس کے سر سے بہت سارے بوجھ کم ہو جائیں گے ۔ ملازمین کی تنخواہوں / پنشن الاؤنس وغیرہ کے لئے مرکزی اہلکاروں کیلئے متحد انتظامات ہوگی اور ریلوے کی آمدنی پر اس کا بوجھ نہیں ہو گا۔ قابل ذکر ہے کہ ریلوے کے وزیر نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں بتایا تھا کہ انہوں نے وزیر خزانہ کو خط لکھ کر ریل بجٹ کو عام بجٹ میں موجود کرنے کی درخواست کی ہے ۔ ریلوے کی وزارت مسافر کرایوں اور مال بھاڑوں کے تعین کے لئے ایک خود مختار مقتدرہ بنانے کا عمل پہلے ہی شروع کر چکی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد آنے والے وقت میں حکومت کے لئے ریلوے کو نقل و حمل کی ایک مشترکہ وزارت میں ضم کرنا آسان ہو جائے گا۔

About the author

Tariq Hasan