اردو | हिन्दी | English
299 Views
Sports

زمبابوے میں دھونی کپتان ،رہانے نائب کپتان

Mahendra-Singh-Dhoni
Written by Taasir Newspaper

ممبئی، 23 مئی (یواین آئی) ہندوستان کے محدود اووروں کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اگلے ماہ ہونے والے زمبابوے کے ون ڈے اور ٹوئنٹی -20 دورے میں 16 رکنی نوجوان ٹیم انڈیا کی کپتانی سنبھالیں گے جبکہ اجنکیا رہانے کو ویسٹ انڈیز کے ٹیسٹ کے دورے کے لیے نائب کپتان بنایا گیا ہے ۔ ودربھ کے ابھرتے ہوئے بلے باز فیض فضل کو زمبابوے کے دورے کے لیے ٹیم میں جگہ ملی ہے جبکہ ممبئی کے تیز گیند باز شاردل ٹھاکر ٹیسٹ ٹیم میں نیا چہرہ ہوں گے ۔ہندوستان کو جون کے زمبابوے کے دورے میں تین ایک روزہ میچ اور تین ٹوئنٹی -20 بین الاقوامی میچ کھیلنے ہیں۔ اس کے بعد ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم وراٹ کوہلی کی کپتانی میں جولائی۔ اگست میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرے گی جہاں وہ چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔ قومی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین سندیپ پاٹل اور ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے نئے سیکرٹری اجے شرکے نے آج یہاں سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ کے بعد زمبابوے کے محدود اووروں کے دورے اور ویسٹ انڈیز کے ٹیسٹ کے دورے کے لیے ٹیموں کا اعلان کیا۔ سلیکٹروں نے زمبابوے کے دورے کے لیے جو 16 رکنی ٹیم کا انتخاب کیا ہے وہ ون ڈے اور ٹوئنٹی -20 دونوں کے لئے ایک جیسی ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے 17 رکنی ٹیم کو منتخب کیا ہے ۔ سینئر بلے بازوں وراٹ کوہلی، روہت شرما اور شکھر دھون کو زمبابوے دورے میں آرام دیا گیا ہے ۔ فیض فضل، یجویندر چہل اور جینت یادو محدود اووروں کی ٹیم کے نئے چہرے ہیں لیکن ٹوئنٹی -20 ورلڈ کپ ٹیم کے کھلاڑی اور آئی پی ایل میں ساڑھے آٹھ کروڑ کی قیمت حاصل کرنے والے آل راؤنڈر پون نیگی کو ٹوئنٹی -20 ٹیم سے باہر کر دیا گیا ہے ۔ہندوستان کو زمبابوے کے دورے میں11، 13 اور 15 جون کو تین ون ڈے اور18، 20 اور 22 جون کو تین ٹوئنٹی -20 میچ کھیلنے ہیں اور یہ تمام میچ ہرارے میں کھیلے جائیں گے ۔گزشتہ دو مرتبہ زمبابوے دورے کے دوران دھونی کو آرام ملتا رہا تھا لیکن اس بار وہ ٹیم کی کپتاني سنبھال رہے ہیں۔ اس ٹیم میں پانچ نئے کھلاڑی شامل ہیں۔ٹیم انڈیا کو اس سیشن میں 17 ٹیسٹ کھیلنے ہیں جسے دیکھتے ہوئے سلیکٹروں نے وراٹ، روہت، شکھر، روندرجڈیجہ، روی چندرن اشون، رویندر جڈیجہ، بھونیشور کمار، ایشانت شرما، اجنکیا رہانے ،ہاردک پانڈیا اور امیش یادو کو آرام دیا ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper