اردو | हिन्दी | English
164 Views
Sports

ساکشی نے دلایا بھارت کو پہلااولمپک میڈل

sakshi
Written by Tariq Hasan

ریو ڈی جنیرو، 18 اگست (یو این آئی)ہندوستان کی خاتون پہلوان ساکشی ملک (58 کلوگرام) نے شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے بدھ کو ریو اولمپک کے کشتی مقابلہ میں کانسہ کا تمغہ جیت کر ملک کو ریو اولمپک کا پہلا تمغہ دلا دیا۔ہندوستان کو ان کھیلوں میں تمغہ کا انتظار آخر 12 ویں دن جاکر ختم ہوا اور اس کارنامے کو انجام دیا۔ہریانہ کی شیرنی ساکشی ملک نے ، جنہوں نے 0-5 سے پچھڑنے کے بعد کرشماتی طور پرواپسی کرتے ہوئے کرغستان کی ایسلو تنبے کووا کو 8-5 سے دھول چٹائی۔ساکشی اس طرح اولمپک میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون پہلوان بن گئیں۔ساکشی نے کانسہ کا تمغہ جیتنے میں وہی کارنامہ انجام دیا جوسشیل کمار نے 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں ریپچیز میں کانسہ کا تمغہ جیت کر اور 2012 کے لندن اولمپک میں یوگیشور دت نے ریپچیز میں ہی کانسہ کا تمغہ جیت کردیا تھا۔مجموعی طور سے دیکھا جائے تو ساکشی ہندوستانی اولمپک کی تاریخ میں کانسہ کا تمغہ جیتنے والی تیسری خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔ کرنم ملیشوری نے 2000 میں سڈنی اولمپکس کے ویٹ لفٹنگ مقابلے میں کانسہ کا تمغہ جیتا تھا جبکہ بیڈمنٹن اسٹار سائنا نھوال نے 2012 میں لندن اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیتا تھا۔ ساکشی اولمپک کی تاریخ میں کشتی میں تمغہ جیتنے والی چوتھی ہندوستانی کھلاڑی بن گئی ہیں ۔ اے ڈی جادھو نے 1952 کے اولمپک میں کانسہ کا تمغہ جیتا تھا جبکہ سشیل نے 2008 کے بیجنگ میں کانسہ کا تمغہ اور 2012 کے لندن اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ یوگیشور دت نے لندن میں ہی کانسہ کا تمغہ حاصل کیا تھا۔یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس کا ہندوستان کو گزشتہ 12 دنوں سے بیتابی سے انتظار تھا اورساکشی نے ناقابل یقین قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو پہلاتمغہ دلایا۔ہندوستانی پہلوان کوارٹر فائنل میں ہار گئی تھیں لیکن ان کی حریف روسی جمناسٹ کے فائنل میں پہنچنے کی وجہ سے ساکشی کوریپچیز میں اترنے کا موقع ملا۔ریپچیز میں ساکشی نے منگولیا کی اورخوم بروورز کو 12-3 سے مات دے کر کانسہ کے تمغہ والے مقابلے میں جگہ بنا لی۔ساکشی کانسہ تمغہ سے ایک قدم کی دوری پر تھیں اور ہندوستانی وقت کے مطابق رات ڈھائی بجے کے قریب ہوئے اس مقابلے پر پورے ملک کی نگاہ لگی ہوئی تھی۔ ساکشی کا مقابلہ کرغستان کی تنبے کووا سے تھا۔پہلے راؤنڈ میں پیسیو پوائنٹس سے شروعات کی اور پھر 2 پوائنٹس لے کر اپنی برتری کو 3-0 پہنچا دیا۔ پہلے راؤنڈ کے اختتام پر ساکشی0-5 سے پیچھے ہو گئی تھیں۔ ”کم بیک کوین ”کہی جانے والی ساکشی نے اپنے نام کی شہرت کے مطابق دوسرے راؤنڈ میں زبردست واپسی کرتے ہوئے ساراکھیل پلٹ دیا۔ انہوں نے دو پوائنٹس لے کر اسکور 2-5 کیا اور پھر دو پوائنٹس حاصل کر کے اسکور 4-5 کر دیا۔ساکشی کا حوصلہ بلند ہو چکا تھا اور انہوں نے اسکور 5-5 سے برابرکر دیا۔ ہندوستانی پہلوان نے غضب کے داؤ پیچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو پوائنٹس لے کر 7-5 کی برتری حاصل کر لی اور پھر 8-5 سے مقابلہ اور کانسہ کا تمغہ جیت لیا۔ساکشی کے میڈل جیتتے ہی ہندوستانی کوچ نے میٹ پر دوڑ کر ساکشی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ ساکشی نے پھر ترنگا لے کر میدان پر چکر لگایا اور ہندوستانی حامیوں کی حوصلہ افزائی کا شکریہ ادا کیا۔ میڈل تقسیم تقریب میں جب ساکشی کے گلے میں کانسہ کا تمغہ پہنایا گیا تو ان کے چہرے کی دمک دیکھنے کے لائق تھی۔ وہ بار بار اپنے ہاتھوں میں تمغے کو لے کر دیکھ رہی تھی۔ جیسے کہ انہیں یقین نہ آرہا ہو ۔ صدر پرنب مکھرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور ہم وطنوں نے ریو اولمپکس میں ہندوستان کو کانسہ کی شکل میں پہلا تمغہ دلانے والی خاتون پہلوان ساکشی ملک کو ان کو اس تاریخی کامیابی کے لئے مبارک باد پیش کی ہے ۔ صدر پرنب مکھرجی نے 23 سالہ ساکشی کی اس شاندار کامیابی پر ٹویٹ کرکے کہا، ساکشی ملک کو تمغہ جیتنے پر مبارک باد۔ انہوں نے ملک کو فخرکرنے کا موقع فراہم کیا ہے ”۔وہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی تاریخ بنانے پرساکشی کو مبارکباد پیش کی۔ مسٹر مودی نے اپنے پیغام میں کہا”ساکشی ملک نے تاریخ رقم ہے . کانسہ کا تمغہ جیتنے پر انہیں مبارک باد۔ پورا ملک آج خوشیاں منا رہا ہے ۔ صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور مرکزی وزیر کھیل وجے گوئل نے ساکشی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا، ”آپ کو یہ جیت مبارک ہو۔ آپ نے ریو میں ہندوستان کے لئے پہلا تمغہ جیتا”۔بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے ریو اولمپک کھیلوں میں 58کلو زمرہ کے فری اسٹائل کشتی مقابلے میں تمغہ جیتنے والی ہندوستانی خاتون پہلوان ساکشی ملک کو مبارکباد اور ان کے بہتر مستقبل کی دعا دی۔وزیر اعلی نے کہا کہ ساکشی ملک اولمپک میں کانسے کا تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون پہلوان ہیں۔انہوں نے کشتی کی تاریخ میں نیا باب درج کیا ہے جس پرہر ہندوستان کو فخر ہے ۔مسٹر کمار نے کہا کہ ان کی دعا ہے کہ ساکشی ملک ترقی کی بلندیوں پر پہنچیں اور ہندوستان کا نام روشن کریں۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ہندوستانی خاتون پہلوان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا،”مبارک باد ساکشی ملک۔ آپ نے پورے ملک کو فخر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے ”۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی ساکشی کو جیت کی مبارکباد پیش کی۔ وزیر خارجہ نے کہا، ”ساکشی ملک ۔ شاباش، ہندوستان کو تم پر ناز ہے ”۔امورخارجہ کے وزیر مملکت جنرل وی کے سنگھ نے ریو اولمپکس میں کانسہ کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا،” انتظار کی گھڑی ختم ہوئی، ساکشی نے ہمیں فخر کرنے کا موقع دیا۔ خواتین کشتی میں ہمارا پہلا تمغہ”۔وزیر مملکت اور سابق نشانہ باز میجر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا، ”آپ کو فتح کے لئے مبارک باد، ہندوستان کی بیٹی ہمیں آپ پر فخر ہے ۔ بہت خوب ”۔اولمپک کی تاریخ میں ہندوستان کو کشتی میں تین تمغہ دلا چکے دروناچاریہ اوارڈي کوچ کے مہابلی ستپال نے ساکشی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا،”ساکشی نے وہی کارنامہ انجام دیا جو 2008 کے بیجنگ اولپک میں سشیل کمار نے کیا تھا۔ ساکشی کا مظاہرہ شاندار تھا اور انہوں نے ملک کو سر اونچا کیا ہے ۔ اس شاندار کارکردگی کے لئے ساکشی کے والدین کوچ اور فیڈریشن سب کو مبارک باد”۔

About the author

Tariq Hasan