اردو | हिन्दी | English
148 Views
Politics

سب کا ساتھ سب کا وکاس مسلمانوں کے لئے کسی خواب سے کم نہیں

polit
Written by Taasir Newspaper

پیشکش………………………………….امتیاز کریم

مرکز میں بی جے پی کی حکومت کو لگ بھگ دو سال کا عرصہ ہونے جارہا ہے ، وعدے بھی خوب کئے گئے مگر دعویٰ صفر ۔ خصوصی طور پرمسلمانوں کے سلسلے میں دعویٰ کیا گیا کہ اب تک سیکولرزم کے نام پر مسلمانوں کو خوب بے وقوف بنایا گیا ۔ ملک کی آزادی کے بعد سے لے کر آج تک مسلمانوں کی جو پسماندگی تھی وہ آج بھی ہے مگر جب نریندر مودی نے دہلی کا تخت تاج سنبھالا تو انہوں نے بھی مسلمانوں کو کو ایک سے ایک سنہرے خواب دکھلائے اور ملک بھر میں نعرہ دیا کہ’’ سب کا ساتھ سب کا ویکاس‘‘مگر ہو کیا رہا ہے وہ ہم بھی دیکھ رہے ہیں ،آپ بھی دیکھ رہے ہیں اورحکومت بھی دیکھ رہی ہے ابھی حال ہی میں مرکزی وزارت آیوش نے ایک سنسنی خیز اعتراف کرتے ہوئے دائر شدہ ایک آر ٹی آئی کے جواب میں بتایا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق ہم مسلمانوں کو ریکروٹ نہیں کرتے ہیں حکومت کا یہ جواب اس وقت سامنے آیا جب انوسٹی گیٹو اسٹوری کے لئے ایماندارنہ صحافت کا حق اداکرتے ہوئے پشپ شرما نامی ایک صحافی نے ایک آرٹی آئی کے ذریعہ وزارت آیوش سے کئی مرتبہ یہ سوال کیا گیا تھا کہ گذشتہ سال کے عالمی یوگا دن میں ملک سے باہر بھیجے گئے یوگا ٹیچرز ٹرینر میں کتنے مسلمان تھے؟ وزارت آیوش نے اس جواب میں بتایا کہ اس پوسٹ کے لئے 711 مسلمانوں نے درخواست دی تھی لیکن کسی کو نا انٹرویو کے لئے بلایا گیا اور نہ ہی کسی کو بھرتی کیا گیا ، جبکہ 26 (تمام ہندو) یوگا ٹیچروں کو ملک کے باہر مذکورہ اسائنمنٹ کے لئے بھیجا گیا ۔ وزارت آیوش نے اپنے جواب میںیہ بھی انکشاف کیا کہ یوگا ٹیچرز ٹرینر کی آسامیوں کے لیے گزشتہ سال 2015 میں اکتوبر تک کل 3841 مسلمانوں نے درخواستیں دی تھی لیکن کسی مسلمان کا انتخاب نہیں ہوا ، وزارت آیوش نے مسلمانوں کو بھرتی نہ کی جانے کی یہ بات پیش کی کہ گورمنٹ کی پالیسی کے مطابق کسی مسلمان کو نہ بلایا گیا اور نہ ہی منتخب کیا گیا اور نہ ہی کسی کو باہر بھیجا گیا اگر ایسی بات تھی تو ویکنسی میں صاف لکھ دیا جاتا کے اس ویکنسی میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے تو پھر مسلمان درخواست نہیں دیتے ۔ ان حالات میں ہم کیسے سمجھیں کہ ملک میں سب کا ساتھ اور سب کا ویکاس ہورہا ہے یا ہوگا۔

About the author

Taasir Newspaper