اردو | हिन्दी | English
198 Views
Entertainment

سلمان خان خیر سگالی سفیر نامزد، سوشل میڈیا پر بحث

Salman-Khan
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی،24اپریل(پی ایس آئی ) معروف اداکار سلمان خان کو انڈین اولمپک ایسوسی ایشن نے ریو اولمپکس سنہ 2016 کے لیے ملک کا خیر سگالی سفیر منتخب کیا ہے جبکہ انڈیا کے لیے میڈل حاصل کرنے والے پہلوان یوگیشور دت نے اس کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی ہے۔نامہ نگار آدیش کمار گپت نے بتایا کہ باضابطہ اعلان کے لیے منعقد پروگرام کے دوران خوب بدنظمی نظر آئی۔پروگرام کے وقت بھارتی اولمپک بھون میں بھارتی مرد ہاکی ٹیم کے کپتان سردار سنگھ، خواتین ہاکی ٹیم کی کپتان رتو رانی، خاتون نشانہ باز اپور چینڈیلا، خاتون ٹیبل ٹینس کھلاڑی مونیکا بترا اور لندن اولمپکس میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والی ایتھلیٹ ایم سی میری کوم بھی موجود تھیں۔صحافی آدیش نے بتایا کہ کھیل کے ان اصلی ستاروں کے درمیان بالی وڈ ستارے سلمان خان ہی چھائے رہے۔ پروگرام کے آغاز کے لیے ڈھائی بجے کا وقت دیا گیا تھا لیکن سلمان خان اور بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیدار تقریباً دو گھنٹے دیر سے پہنچے۔جیسے ہی سلمان خان وہاں پہنچے تالیوں کی گونج میں ان سے تاخیر کا سبب پوچھا گیا تو انھوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا: ’آڈ اور ایون میں پھنس گیا تھا ۔‘خیال رہے کہ دہلی میں ان دنوں طاق اور جفت نمبروں والی گاڑیوں کو الگ الگ دن سڑک پر آنے کی اجازت ہے۔اس کے بعد انھوں نے کہا کہ بچپن میں انھوں نے سوئمنگ اور سائیکلنگ کی لیکن انھیں جلد ہی پتہ چل گیا کہ اس میں وہ کسی حد تک ہی جا سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کی محبت پا کر وہ یہاں تک پہنچ گئے ہیں لیکن اولمپکس کھیلوں کو خاطر خواہ ناظرین نہیں ملتے۔’ کرکٹ زیادہ کھیلا جاتا ہے اس لیے اسے زیادہ ناظرین ملتے ہیں اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اب اگر ایک چھتر ی کے نیچے یعنی اولمپکس میں سارے کھیل دیکھنے کو ملیں گے تو ناظرین بھی زیادہ ملیں گے۔‘ جب سلمان خان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ آئندہ بھی اس سے منسلک رہیں گے تو سلمان نے ایک بار پھر مذاقاً کہا کہ ’میں تو بعد میں بھی ساتھ رہنا چاہوں گا لیکن یہ ان دو حضرات پر منحصر ہے۔‘ان کا اشارہ انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر این رامچندرن اور جنرل سکریٹری راجیو مہتا کی طرف تھا۔انھوں نے کہا کہ جب مجھ جیسا کوئی آدمی اس میدان میں آتا ہے تو ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے کہ ’ہم دال، چاول اور روٹی یا پھر ایک دو وقت کی خوراک پر بہت اچھا کر رہے ہیں۔‘انھوں نے کہا، ’جس دن ہماری بنیادی سہولتیں پوری ہونے لگیں گی، اچھے ساز و سامان ہوں گے، کوچ ہوں گے تو جو غریب گھروں سے آتے ہیں انھیں سپورٹ ملے گا تبھی ہمیں زیادہ تمغے بھی ملیں گے۔‘گڈول ایمبیسڈر بننے پر انھوں نے کہا، ’میں تو بس پیچھے سے دھکا دے سکتا ہوں۔ ایک آدمی ہوتا ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ہمیں سہارا دے سکے۔‘اسی دوران بہت سے لوگوں نے پہلوان یوگیشور کی رائے کی حمایت کی ہے تو کچھ نے ان کی نیت پر سوال کیا ہے۔ایک ٹویٹ میں یوگیشور دت نے کہا تھا، ’پی ٹی اوشا، ملکھا سنگھ جیسے بڑے سپورٹس سٹار ہیں جنھوں نے مشکل وقت میں ملک کے لیے محنت کی۔ کھیل کے میدان میں اس سفیر نے کیا کیا؟‘اس کے جواب میں سلمان خان کے ایک مداح نے یوگیشور سے پوچھا، ’آپ کو سنہ 2012 میں ہریانہ کا صحت کا سفیر بنایا گیا تھا۔ آپ کوئی ڈاکٹر تھے کیا؟ آپ نے ایڈز کی دوا تیار کی تھی کیا؟‘بعض لوگوں نے ان پر جھوٹی شہرت حاصل کرنے کا الزام لگایا ہے تو بعض نے کہا کہ کھیل سے منسلک افراد کو ہی امبیسڈر بنایا جانا چاہیے۔

About the author

Taasir Newspaper