اردو | हिन्दी | English
172 Views
Politics

سنگھ اور شراب مکت سماج بنے

Nitish-Kumar
Written by Taasir Newspaper

وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخابی حلقہ وارانسی میں منعقد جنتا دل یو کے سیاسی کارکنوں کے اجلاس میں نتیش کمار کا اعلان

وارانسی 12 مئی (ایجنسی): بہار کے وزیر اعلیٰ اور جنتا دل یو کے سربراہ نتیش کمار نے وزیراعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ بنارس میں سنگھ مکت اور شراب مکت سماج بنانے کانعرہ دیا۔نتیش نے نیشنل انٹرکالج پنڈرا میں منعقد اترپردیش کے جنتا دل یو کارکنوں کے اجلاس میں بی جے پی جم کر حملے کئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اپنا کوئی بھی انتخابی وعدہ پورا نہیں کیا۔ بی جے پی کے بانیوں کا ملک کی آزادی میں کوئی رول نہیں تھا لیکن اب وہیں لوگ دیش بھکتی کے ٹھیکیدار بن کر لوگوں کو دیش بھکتی کاسبق پڑھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چمپارن ستیاگرہ کے 100 سال پورے ہونے پر بابائے قوم مہاتما گاندھی کو سچا خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شراب بندی نافذ کردی۔ جبکہ وزیراعظم نریندر مودی صرف مہاتما گاندھی کے چشمے کے ساتھ فوٹو کھینچوارہے ہیں۔ شراب پر پابندی پورے ملک میں نافذ ہونی چاہئے ۔ نتیش نے کہا کہ بی جے پی ایک ایسی پارٹی ہے جس کے قول اور فعل میں زبردست تضاد ہے۔ یہ لوگ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش کے لوگوں کو تو اب تک انہیں قائدے سے پہچان لینا چاہئے ۔انہوں نے بی جے پی انتخابات کے وقت بڑے بڑے وعدہ کرتی ہے مگر بعد میں اس سے مکر جاتی ہے۔ نتیش نے وزیراعظم کے حلقہ سے ہی بی جے پی کو چلنج کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ ملک کے اندر کالا دھن واپس لا کر ہر ہندستانی کے کھاتے میں کم سے کم 15-15 لاکھ روپئے جمع کرادیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ملک کے لوگ ابھی بھی کالے دھن کی واپسی کا انتظار کررہے ہیں۔ بہار کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ ریزلٹ آنے سے پہلے بی جے پی میں جشن کا ماحول تھا کیونکہ اس نے بہار کو اپنا حق مان رکھا تھا ، لوگوں نے بہار کے عظیم اتحاد کا مذاق اڑایا تھا لیکن جونتیجہ آیا وہ سب کے سامنے ہے۔ بہار کے لوگوں نے ان کے جھوٹ کا ساتھ نہیں دیا، انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کی بات کرنے والی اس پارٹی کے لوگ ترنگے کے نہیں بلکہ بھگوا کے طرف دار ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی طریقے سے ملک کا بھگوا کرن چاہتے ہیں ۔ اس پارٹی کا ملک کی آزادی میں کوئی رول نہیں تھا۔ بھگوا کے حمایتی جب ترنگے کی بات کرتے ہیں تو بڑی ہنسی آتی ہے۔ ان لوگوں نے جنگ آزادی میں تو حصہ ہی نہیں لیا اب لوگوں کو دیش بھکتی کا سبق پڑھارہے ہیں۔نتیش نے کہا کہ جے این یو اور حیدر آباد کے روہت ویمولا معاملے میں بی جے پی نے جواب کیوں نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی یونیورسٹیوں میں 200 فٹ سے اونچا ترنگالہرانے کی بات کہتی ہے۔ جبکہ وہ خود بھگوا جھنڈے کی حمایتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی گجرات ماڈل کی بات تو کرتی ہے مگر گجرات کی طرز پر پورے ملک میں شراب پر پابندی عائد کرنا نہیں چاہتی ہے۔ اترپردیش میںآئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ بی جے پی اترپردیش میں ترقی کی نہیں لو جہاد کی بات کرتی ہے۔ ان کو کسی بھی بات پر درد نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ لوگ کسی کے جذبات سے کھیلنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بتائیں کہ ملک میں شراب بندی نافذ ہونی چاہئے یا نہیں؟ اترپردیش کے ساتھ ساتھ جھارکھنڈ میں بھی شراب بندی کا مطالبہ تیز ہوگا ۔

About the author

Taasir Newspaper