اردو | हिन्दी | English
493 Views
Deen

سچا ئی اور دل کی صفا ئی

اللہ تبا رک و تعالیٰ کافر مان ہے ! یا ایہا الذین آمنو اتقو اللہ و قولو قولاسدید ا یصلح لکم اعمالکم و یغفر لکم ذنوبکم و من یطع اللہ و رسو لہ فقد فا زفو زا عظیما ( الاحزاب : ۷۰ ۔۷۱ ) ”اے ایمان والوں ! تم اللہ تعا لیٰ سے ڈر تے رہو اور با ت صاف سیدھی کیا کرو اس سے اللہ تعا لیٰ تمہا رے اعمال کو درست کر دے گا اور تمہا رے گنا ہ معا ف کر دے گا ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فر ما نبر دا ری کرتا ہے اس نے یقیناًبڑی کا میابی حا صل کر لی “نیزاللہ تبا رک و تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کو سچ بو لنے وا لوں میں شامل ہو نے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تبا رک و تعا لیٰ کا فرمان ہے ! یا ایہا الذین آمنوا اتقو اللہ و کونو امع الصا دقین ۔ ( سورہ تو بہ :۱۱۹) ”اے ایمان وا لو!تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں میں سے ہوجا ؤ ”۔ اور حدیث بھی دیکھئے و عن ابن مسعودؓ قال : قال رسو ل ﷺان الصدق یہدی الی البر و ان البر یہدی الی الجنہ و ان الر جل لیصدق حتی یکتب عند اللہ صدیقا ، و ان الکذب یہدی الی الفجور ، و ان الفجو ریہدی الی النار و ان الرجل لیکذب حتیٰ یکتب عند اللہ کذابا ۔ ( متفق علیہ ) ” حضرت ابن مسعودؓ سے روا یت ہے رسو ل اللہ ﷺ نے فر مایا ! بلا شبہ سچا ئی ، نیکی طرف رہنما ئی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنما ئی کرتی ہے اور یقیناًآدمی سچ بو لتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں صدیق ( راست باز ) لکھ دیا جا تا ہے اور بلا شبہ جھو ٹ نا فرمانی کی طرف رہنما ئی کرتا ہے اور نا فرمانی جہنم کی طرف رہنما ئی کرتی ہے اور یقیناًآدمی جھوٹ بو لتارہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں جھوٹ لکھ دیا جاتاہے ( بخا ری و مسلم ) ہم مسلمان ہیں ہما ری زند گی صد ق و صفا سے عبا رت ہو نی چا ہئے ہما ری زند گی کا ہر شعبہ ہما را ہر مشغلہ ہمارا ہر کام سچا ئی ، ایمانداری اور راست روی کہ اصول پر ہو نا چا ہئے یہ ہما رے اسلام کا تقاضہ ہے ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ آج مسلمان اور نا مسلمان میں کو ئی فرق نظر نہیں آتا ہے مسلمان بھی اتنے ہی جھو ٹے ، بد دیانت ،بے ایمان اور کاذب ہیں جتنے غیر مسلم ۔ حا لانکہ ایسا نہیں ہو نا چا ہئے تھا ۔ مسلمانوں کی حق پسندی ، صدا قت ، دیا نت اور امانت دا ری تو ضرب المثل تھیں تمام انبیاء کرام علیہم السلام ہمیشہ سچ بو لتے تھے اللہ تبا رک و تعا لیٰ نے مختلف انبیاء علیہم السلام کی یہ صفت یوں ذکر فر مائی : یو سف علیہ السلام : ان راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ( سو رہ یو سف : ۵۱) ابرا ہیم علیہ السلام : انہ کان صدیقا نبیا( مریم :۴۱) اسی طرح ادریس علیہ السلام کے با رے میں بھی فر مایا : انہ کان صدیقا نبیا ( سورہ مریم : ۵۶ ) اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کے با رے میں وجعلنا لہم لسان صدق علیا ( مریم :۵۰) اسماعیل علیہ السلام کے با رے میں : انہ کان صادق الوعد (مریم : ۵۴) اور جہاں تک امام الانبیا ء حضرت محمد ﷺ کا تعلق ہے تو آپ نبو ت ملنے سے پہلے ہی الصادق الامین ” کے القاب سے مشہو ر تھے ۔ اور اپنوں کے علا وہ غیروں نے بھی آپ کے با رے میں یہ گو اہی دی کہ ”ماجربنا علیک الا صدق ”ہم نے آ پ کو ہمیشہ سچ بو لتے ہوئے پایا ہے ”( صحیح البخاری و صیحح المسلم ) مگر افسوس مسلمان سب کچھ بھو ل گئے جھوٹ بو ل کے ایک دوسرے کی زمین کو ہرپ کر جانا اور جھو ٹ بو ل کے حرام کا ما ل کھانا جھوٹی گو اہی دینا اور مسلمان یہ چا ہتے ہیں کہ جھو ٹ بو ل کے زیا دہ سے زیا دہ دولت کما ئے ہما رے پاس بنگلہ ہو گا ڑی ہو بینک بیلینس وغیرہ ہو ، ایک دو سرے سے کینہ مگر برا ہو دنیا پرستی کا مسلمان ایسے دنیا میں غرق ہو ئے کہ سا رے اخلاق فاضلہ کو بھو ل بیٹھے دنیا کمانے کے لئے اس لئے اللہ نے انہیں معتوب گر دانا آج یہ دین عدوی کی کثرت کے با وجود ہر جگہ مظلوم اور نا پسندیدہ ہیں ۔ کتنے ہم رنگ عرب یا یہ عجم ہیں ہم لو گ ہر جگہ کشتۂ شمشیر ستم ہیں ہم لو گ اللہ تعا لیٰ کا فر مان ہے : ما یلفظو من قو ل الا لدیہ رقیب عتید ( سو رہ ق: ۱۸) ‘ انسان جو لفظ بھی بو لتا ہے تو اس کے پاس ہی ایک نگراں فر شتہ تیا ر ہو تا ہے ”نیز فر مایا ! یقیناًتیرا رب گھات میں ہے ہر ایک کے عمل کو دیکھتا ہے ( سورہ فجر :۱۴ ) اور فر مایا! وہ آنکھوں کی خیا نت کو اور سینوں میں چھپی با توں کوجانتا ہے (سور ہ مومن : ۱۹) اب بھی کچھ نہیں گیا اب بھی قرآن زندہ ہے اسلام با قی ہے اگر ہم قرآن اوراسلام کے ابدی اصولوں کی طرف رجعت کریں تو پھر اپنا کھو یا ہوا وقار حاصل کر سکتے ہیں ۔ اللہ کا حکم ہے کہ ”اے ایمان والو! اللہ کا تقو یٰ اختیا ر کرو اور صدا قت کی رو شن اختیا ر کرنے وا لوں کے ساتھ ہو جا ؤ ” ۔ سچ بو لنے والوں کو جنت کی بشارت بھی دی ہے ! اللہ تبا رک و تعالیٰ کا فرمان ہے : قال اللہ ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم لہم جنات تجری من تحتہا الا نہار خالدین فیہا ابد رضی اللہ عنہم و رضو اعنہ ذالک الفو ز العظیم ( الما ئدہ : ۱۱۹) ”اللہ فر مائے گا کہ آ ج وہ دن ہے جو سچوں کو ان کی سچا ئی ہی فا ئدہ دے گی ، ان کے لئے با غ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے ۔ اللہ ان سے خو ش ہیں اور وہ اللہ خو ش ہیں ۔ یہ بڑی کا میابی ہے ”سچا ئی سے دل کی صفا ئی حا صل ہو تی ہے سچا ئی ہمیں سچا اور شریف آدمی بنا تی ہے سچا ئی ہمیں جنت کا حقدا ر بنا تی ہے اور آخرت کی کا میابی کی ضامن ہے ۔ اللہ ہمیں تو فیق دے کہ ہم سچا ئی کا دامن تھا م لیں اور سچوں اور اچھوں کی روش پر چلیں ۔ یو این این

About the author

Taasir Newspaper