اردو | हिन्दी | English
674 Views
Sports

سیشن کے آخر میں ٹسٹ میں نمبر1بن سکتی ہے ٹیم انڈیا:دھونی

Mahendra-Singh-Dhoni
Written by Taasir Newspaper

لوڈرہل،29اگست؍(آئی این ایس انڈیا)ہندوستان کے ون ڈے ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ وراٹ کوہلی کی قیادت والی ہندوستان کی ٹیسٹ ٹیم گھریلو سیشن کے آخر میں کھیل کے طویل فارمیٹ میں ٹاپ رینکنگ پھر حاصل کر سکتی ہے جس میں ٹیم کو نیوزی لینڈ، انگلینڈ، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے خلاف 13ٹیسٹ کھیلنے ہیں۔دھونی کا خیال ہے کہ ٹیم کپتان کوہلی کی قیادت کے تحت بہترین تال میں آ رہی ہے اور تمام تیز گیند بازوں کے فٹ ہونے اور اچھی کارکردگی سے ٹیم آئندہ ٹیسٹ میچوں کے لئے بہترین پوزیشن میں ہے۔کل ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی 20انٹرنیشنل میچ کے بارش کی نذر ہونے کے بعد دھونی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم اچھی تال میں آ رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہماری ٹیم ٹی 20اور ون ڈے میچوں میں بہتر پوزیشن میں ہے لیکن ٹیسٹ میں ابھی ہماری ٹیم کے پاس بیٹنگ میں اچھا تجربہ ہے،اگر آپ نے توجہ دی ہو تو ایک یا دو تبدیلی کو چھوڑ کر گزشتہ ڈھائی سال سے ہماری بلے بازی یونٹ کی طرح ہے۔اس وجہ سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں،ٹیسٹ اہم شکل بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہمارے تمام تیز گیند باز اب فٹ ہیں اور وہ جس طرح کی بولنگ کر رہے ہیں وہ بہت اچھا ہے،ہمارے پاس 10فاسٹ بولر ہیں اور یہ بہت اچھا ہے،اب ہم کافی میچ کھیل رہے ہیں لہذا اگر ہم چاہتے ہیں تو ہم اپنے تیز گیند بازوں کوتبدیل کر سکتے ہیں۔دھونی کو خوشی ہے کہ قابلیت اب کارکردگی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ہندوستانی کپتان نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ وکٹ میں کافی تبدیلی ہوئی،یہ گزشتہ وکٹ کی مانند تھا۔گزشتہ میچ میں کھیلنے کے بعد گیند بازوں نے اس میچ کے لئے نئی حکمت عملی بنائی تھی،حکمت عملی کو عملی جامہ پہنایاگیا اور مجھے لگتا ہے کہ یہ شاندار رہا،اضافی اسپنر کھلانے کا فیصلہ بھی کامیاب رہا،مشرا نے کافی اچھی گیند بازی کی،مجھے لگتا ہے کہ مکمل بولنگ یونٹ نے انہیں 140رنزپر روکنے میں اہم کردار ادا کیا، یہ شاندار کوشش تھی۔دھونی نے دو ٹی 20بین الاقوامی میچوں کا انعقاد کرنے والے امریکہ کے اس اسٹیڈیم کی بھی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ سفر بہترین رہا،ہم کبھی بھی یہاں واپس آکر سیریز کھیل سکتے ہیں،بدقسمتی سے آج بارش اور طوفان آیا لیکن ویسے موسم اچھا تھا،یہ کرکٹ کے موافق ہے۔

About the author

Taasir Newspaper