اردو | हिन्दी | English
164 Views
Uncategorized

’شرعی قوانین میں عدالتی مداخلت ناقابل قبول‘

شاہی-امام
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی ، 17؍اپریل(سیدشمیم) شاہی امام مولاناسید احمدبخاری نے مسلم پرسنل لاء (شرعی قوانین) میں عدالتوں کی مداخلت کی کوشش پرناگواری ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ قرآن کریم ، حدیث اور شریعت پر کسی قسم کی بحث ناقابل قبول ہے کیونکہ ان امور کاتعلق مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے ہے اور ہندوستان کا دستور مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت دیتاہے۔آج یہاں جاری ایک بیان میں مولانابخاری نے سوال کیاکہ پرسنل لاء میں عدالتوں کو مداخلت کا موقعہ کون فراہم کررہاہے ؟۔ انہوں نے کہاکہ یہ وہی لوگ ہیں جو شرعی قوانین کونظر انداز کرکے نکاح، طلاق، نان ونفقہ، ترکہ اور میراث سے متعلق مقدمات خود ان عدالتوں میں لے جاتے ہیں اور عدالتوں کو مسلم پرسنل لاء (شرعی قوانین) میں مداخلت کا موقعہ فراہم کرتے ہیں۔مولانابخاری نے کہاکہ ہم خودہی عدالتوں کو مداخلت کرنے کا موقعہ دے رہے ہیں، عدالتیں زبردستی ہمارے پاس نہیں آرہی ہیں بلکہ ہم عدالتوں میں جار ہے ہیں۔شرعی قوانین میں مداخلت روکنے کا واحد اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ جگہ جگہ دارالقضاء قائم کئے جائیں جہاں مسلمان اپنے معاملات لے کر جائیں اور شریعت کی روشنی میں ان کے فیصلے کئے جائیں اور جن مقامات پردارالقضاء کانظم نہ ہو ں وہاں مستند مفتیان کرام سے فتویٰ حاصل کرکے اس کے مطابق اپنے معاملات حل کریں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم اس مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں توپھر مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا کوئی خطرہ پیدانہیں ہوگا۔یونیفارم سول کوڈکاشوشہ باربار اٹھاکر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے رویہ پراعتراض کرتے ہوئے مولانابخاری نے کہاکہ جب بھی یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ اٹھایاجاتاہے (باقی صفحہ 7 پر) تو صرف مسلمانوں
کو ہی کیوں نشانہ بنایاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ملک مختلف مذاہب ، مذہبی خاندانی روایات اور رسم ورواج پر مبنی عقائد پر عمل کرنے والوں کاہے لیکن یونیفارم سول کوڈ پر جب بھی کوئی بحث ہوتی ہے توصرف مسلمانوں سے ہی کیوں سوال کئے جاتے ہیں’’ آپ دیگر مذاہب کے لوگوں سے پوچھئے‘‘مسلمانوں کااس بارے میں واضح موقف ہے کہ مسلم پرسنل لاء کاتعلق قرآن وحدیث اور شریعت سے ہے اور اس پرکسی قسم کی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

About the author

Taasir Newspaper