اردو | हिन्दी | English
92 Views
Politics

شمالی بنگال میں ترنمول کانگریس کو سبقت حاصل ہوگی:ممتا

Mamta-Banerjee
Written by Taasir Newspaper

شمالی بنگال میں ترنمول کانگریس کو سبقت حاصل ہوگی:ممتا
کلکتہ 15اپریل(یو این آئی) شمالی بنگال کے پانچ اضلاع دارجلنگ، جلپائی گوڑی، شمالی دیناج پور ، جنوبی دیناج پور اور مالدہ کے 45اسمبلی حلقوں میں 17اپریل کو پولنگ ہونی ہے۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے اپوزیشن بالخصوص کانگریس اور بایاں محاذ اتحاد کو سب سے زیادہ جیت کی امید ہے۔مگر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس علاقے میں خصوصی طور پر مہم چلائی ہیں اور جیت کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ خیال رہے کہ دوسرے مرحلے میں کل 56سیٹوں پر 17اپریل کو پولنگ ہوگی۔شمالی بنگال کے پانچ اضلاع کے علاوہ بیر بھوم کے 11اسمبلی حلقے میں بھی 17اپریل کو پولنگ ہونی ہے۔ صنعت کاری، زراعت اور چائے باغات کیلئے موزوں ترین علاقہ ہونے کے باوجود یہ علاقہ سیاسی عدم استحکام شکا رہے ، علاحدہ ریاستوں کے قیام کی تحریک ، بند چائے باغات، چائے باغات ورکروں کی غذائی قلت کی وجہ سے یہ پورا علاقہ ہمیشہ سے سرخیوں میں رہا ہے۔ اس علاقے میں وزیر اعظم نریندر مودی، (باقی صفحہ 7 پر)کانگریس
صدر سونیا گاندھی ، سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتارام یچوری اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی انتخابی مہم چلاچکی ہیں۔ شمالی بنگال میں کل 54سیٹیں ہیں جس میں ترنمول کانگریس کے پاس 17سیٹیں ہیں، جب کہ بایاں محاذ کے پاس 16اور کانگریس کے پاس 16اور گورکھا جن مکتی مورچہ کے پاس تین سیٹیں ہیں۔اس اعداد و شمار کے اعتبار سے ترنمول کانگریس نے 2011میں کل 184سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی مگر اسے شمالی بنگال میں محض 17سیٹوں پر ہی کامیابی مل سکی۔ شمالی بنگال کے دوارس اور تیرائی علاقہ میں کل 20سیٹیں ہیں جس میں سے 13اسمبلی حلقوں میں سب سے بڑایشو چائے باغات ہیں۔اس علاقے میں کل 187چائے باغات ہیں جو اس علاقہ کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔جنوبی بنگال پر ممتا بنرجی کا دبدبہ قائم ہوچکا ہے مگر شمالی بنگال اب بھی ان کی پکر سے کافی دور ہے۔ان 20اسمبلی حلقے میں آدی واسی اور نیپالی ووٹروں کی تعداد 60فیصد کے قریب ہے ، قبائلی آبادی روایتی اعتبار سے بایاں محاذ کے قریب رہے ہیں۔ کئی نسلی گروہ اس علاقے میں علاحدہ ریاست کا مطالبہ کرہے ہیں جس میں کامتا پوری، راج بنشی، کریٹر کوچ بہار ، آدی واسی کونسل کے قیام کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔شمالی بنگال سی پی ایم کے انچارج اور سلی گو ڑی میونسپل کارپوریشن کے مےئر اشوک بھٹاچاریہ نے کہا کہ ممتا بنرجی اس علاقے کی جغرافیائی حیثیت کو سمجھنے میں ناکام رہی ہیں اس لیے وہ اب تک اس علاقے پر اپنا دبدبہ قائم نہیں رکھ سکیں ہیں ، یہاں 60سے زاید نسلی گروہ آباد ہیں جن کی اپنی علاحدہ شناخت ہے۔ بی جے پی نے اس علاقے میں اپنی پکڑ بنانے کیلئے چائے باغات کے ورکروں کے مسائل کے حل کیلئے دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا۔مرکزی وزیر نرملاسیتارمن نے باضابطہ اس علاقے کا دورہ کیا اور یہاں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش جس میں بند چائے باغات کو تحویل میں لینا بھی شامل ہے۔ مالدہ اور شمالی دیناج پور کانگریس کا گڑھ رہا ہے ، مالدہ کے دونوں پارلیمانی حلقے پر کانگریس کا قبضہ ہے ،مگر ترنمول کانگریس کی سپریمو ممتا بنرجی مالدہ کے کانگریس کے گڑھ میں سیندھ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ کانگریس کے ممبر اسمبلی اور غنی خان چودھری کے چھوٹے بھائی ابو ناصر خان چودھری ترنمول کانگریس میں شامل کیا جا چکا ہے۔ممتا بنرجی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی مالدہ سے کیا تھا۔کانگریس کا گڑھ ہونے کے باوجود یہ حلقہ غربت زدہ ہے ، یہاں بے شمار مسائل ہے، ہند بنگلہ دیش سرحد پر واقع آبادیوں کو کئی مسائل و مشکلات کا سامنا ہے ، جرائم کے واقعات میں اضافہ نے بھی یہاں کے لوگوں کی زندگی کو مشکل بنادیا ہے۔سی پی ایم کے ساتھ اتحاد نے کانگریس کی طاقت کو اضافہ کردیا ہے۔ شمالی بنگال پر کس کا دبدبہ قائم ہوگا اس کا اندازہ 19مئی کو ہی ہوگا مگر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنا دبدبہ قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں ایک بار پھر ان کی پارٹی کو سبقت حاصل ہوگی۔

About the author

Taasir Newspaper