اردو | हिन्दी | English
207 Views
Bihar News

شہاب الدین اور تیج پرتاپ کو نوٹس

sup
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی ؍پٹنہ 23ستمبر (تاثیر بیورو): صحافی راج دیو رنجن قتل کیس میں ان کی اہلیہ آشا رنجن کی عرضی پر سنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جمعہ کو سابق آرجے ڈی ایم پی محمد شہاب الدین اور بہار کے وزیر صحت تیج پرتاپ یادو کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سیاستدانوں اور جرائم پیشوں کے ساز باز پر تشویش ظاہر کی اور راج دیو کے اہل خاندان کو فوری سیکوریٹی مہیا کرانے کا حکم دیا۔ آشا رنجن نے اپنی عرضی میں قتل کیس کے ایک ملزم کو سیاسی تحفظ دینے کا الزام لگاتے ہوئے بہار کے وزیر صحت اور آرجے ڈی سپریمو لالو پرساد کے بیٹے تیج پرتاپ یادو اور آر جے ڈی کے سابق ایم پی محمد شہاب الدین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ عرضی پر سنوائی کرتے ہوئے جسٹس دیپک مشرا کی بنچ نے بہار سرکار ، محمد شہاب الدین اور دیگر کو نوٹس جاری کر کے جواب دینے کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ شہاب الدین سے خطرے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے آشا رنجن نے عدالت سے اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کی سیکوریٹی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس پر نوٹس لیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے فوری سیکوریٹی مہیا کرانے کا حکم دیا ۔ عرضی میں قتل کیس کا مقدمہ دہلی منتقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ جس پر سپریم کورٹ نے سیوان کے ایس پی سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے سی بی آئی کو بھی حکم دیا ہے کہ اگلی تاریخ کو جانچ سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ پیش کرے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 17 اکتوبر کو ہوگی۔ اس بیچ سپریم کورٹ کے نوٹس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر صحت تیج پرتاپ یادو نے کہا ہے کہ سیاستدانوں سے ہر روز سینکڑوں لوگ ملنے آتے ہیں کس کی پیشانی پر لکھا ہوتا ہے کہ وہ جرائم پیشہ ہے۔ تیج پرتاپ نے سپریم کورٹ کی حکم کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں لیکن الزام صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ کسی بھی پیشانی پر کچھ نہیں لکھا ہوتا ہے ایسے میں کوئی بھی کسی کے ساتھ فوٹو کھینچ لے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اسی بنیاد پر بی جے پی رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ بھی کئی جرائم پیشوں کی تصویریں سامنے آئی ہیں۔ ایسے معاملے میں بھید بھاؤ نہیں ہونا چاہئے۔

About the author

Tariq Hasan