اردو | हिन्दी | English
991 Views
Health

صحت عزیز ہے تو چند عادات چھوڑدیجئے

sehat-aziz-hai-to
Written by Tariq Hasan

*۔ عامر حسن
ہمارا دماغ ہمارے جسم کاوہ حصہ ہوتا ہے جب سب سے زیادہ محنت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کے سونے پر بھی دماغ سوتا نہیں ہے اور نہ وقفہ لیتا ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خود اس کی دیکھ بھال کریں لیکن ہمارا دماغ ہمارے جسم کاوہ حصہ ہوتا ہے جب سب سے زیادہ محنت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کے سونے پر بھی دماغ سوتا نہیں ہے اور نہ وقفہ لیتا ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خود اس کی دیکھ بھال کریں لیکن ہماری اپنی ہی چند عام عادات ہمارے دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہاں ہم ایسی ہی چند عادات کاذکر کررہے ہیں جو ہمارے دماغ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اگر آپ بھی ان عادات میں سے کسی عادت کاشکار ہیں تو فوراََ ترک کیجیے۔
ناشتہ چھوڑدینا :ہم سب جانتے ہیں کہ صبح کا ناشتہ ہمارے لیے کتنا اہم ہوتا لیکن اکثر لوگ اس جانب توجہ نہیں دیتے اور ناشتہ کیے بغیر ہی اپنے روزمرہ کے کام سر انجام دینے لگتے ہیں۔ سونے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک آپ کھائے پیئے بغیر رہتے ہیں اور اب آپ کے جسم کو غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے ، صبح کچھ نہ کھانے کی وجہ سے آپ کے دماغ کے خلیے کمزور ہونے لگتے ہیں۔ غنودگی اور چکر آنے کی شکایت بھی عام طور پر ناشتہ نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے ہی پیداہوتی ہے۔
اضافی کھانا : اضافی کھانا ویسے بھی بری عادت ہے لیکن ایک اور اہم بات جس کی جانب ہم اکثر توجہ نہیں دیتے وہ یہ کہ اضافی کھانا کھانے سے ہمارے جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے۔ یہ بری عادت ہماری شریانوں کو بھی سخت کرنے لگتی ہے جس کی وجہ سے دماغ کو شدیدنقصان پہنچنے لگتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اعتدال کے ساتھ کھایئے اور صحت مندزندگی گزاریے۔
چینی کا زیادہ استعمال :زیادہ چینی کااستعمال آپ کے جسم کو پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء کے جذب ہونے کے حوالے سے سخت بنادیتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے جسم کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے جتنی غذا کی ضرورت تھی اسے اتنی ہی مل رہی ہے نہ کہ اضافی ، جن لوگوں کو خیال ہے کہ وہ زیادہ کھاتے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ وہ چینی کااستعمال زیادہ کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو بھوکابنادیتی ہے۔ اور اضافی کھانے سے دماغ کوشدید نقصان پہنچتا ہے۔
تمباکونوشی : ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ تمباکونوشی ہمیں صرف نقصان پہنچاتی ہے لیکن ہم پھر بھی اس کی عادت میں بری طرح گرفتار ہوتے ہیں۔ تمباکونوشی ہمارے دماغی خلیوں کی قاتل ہے اور اس کی وجہ سے ہماری یادداشت مختصر اور کمزور ہونے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ تمباکونوشی الزائمر کی بیماری لاحق ہونے کا سبب بھی بنتی ہے۔
فضائی آلودگی : یقیناًیہ کوئی عادت نہیں ہے لیکن یہ بھی دماغی صحت کو تباہ کرنے والے اسباب میں سے ایک ہے۔ ہمارے دماغ کو مناسب طریقے سے کام کرنے کے لیے آکسیجن کی بھاری مقدار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی اسے فضائی آلودگی ماحول میں موجود آکسیجن کی مقدار کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
تبادلہ خیال کی کمی : مختلف وسائل اور امور پر تبادلہ خیال سے ہمارے دماغ کی افزائش ہوتی ہے اور ہمارے دماغ میں نئے آئیڈیاز بھی جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ تبادلہ خیال سے بیپناہ معلومات بھی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن لوگوں سے بات نہ کی جائے یاکم کی جائے تو دماغ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور یہ محدود ہونے کے علاوہ کسی بھی مسئلے پر زیادہ نہیں سوچ سکتا۔ بات نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے دماغ سکڑنے بھی لگتا ہے۔
سرکوڈھک کرسونا : ہمارے دماغ کو صرف اس وقت ہی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں بلکہ اس وقت بھی درکار ہوتی ہے جب ہمارا جسم سورہا ہوتا ہے۔ اکثرلوگوں کو سر پرتکیہ رکھ کریا پھر چادر یاکمبل سرتک اوڑھ کرسونے کی عادت ہوتی ہے۔ لیکن یہ عادت انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس صورت میں جسم کو ملنے والی آکسیجن میں رکاوٹ پیداہوتی ہے۔ دوسری جانب جسم میں داخل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے اور یہ بھی خطرناک ہے۔
بیماری کے دوران کام : کچھ لوگ طبیعت بہتر محسوس نہ کرتے ہوئے بھی مسلسل کام میں مگن رہتے ہیں جبکہ وہ حقیقت میں تھک چکے ہوتے ہیں۔ اس حالت میں بھی مستقل کام کرتے رہنا آپ کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اورضروری ہے کہ آپ تھوڑی کے لیے آرام کیجیے۔ آرام کرنے کے سے آپ ایک مرتبہ پھر توانائی اور چستی سے بھرپور ہوجاتے ہیں اور آپ کا دماغ بھی پہلے سے زیادہ فعال ہوجاتا ہے۔

About the author

Tariq Hasan