اردو | हिन्दी | English
172 Views
Indian

صدر جمہوریہ کا انتخاب17جولائی کو

election
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 7 جون (یو این آئی) ملک کے اعلی ترین آئینی عہدے صدر جمہوریہ کیلئے الیکشن 17 جولائی کو ہوگا اور اس کیلئے نوٹیفکیشن 14 جون کو جاری کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی معیاد کار 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے اور اس سے پہلے الیکشن کا عمل مکمل کیا جانا ہے ۔ نائب صدر کے عہدہ کے الیکشن کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیاجائے گا۔چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں صدارتی الیکشن کے پروگرام کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ووٹنگ 17 جولائی کو پارلیمنٹ ہاؤس، ریاستوں کی اسمبلیوں اور دہلی اور پوڈوچیری اسمبلیوں میں ہوگا۔ ووٹنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 20 جولائی کو ہوگی۔انہوں نے کہاکہ لوک سبھا کے جنرل سکریٹری انوپ مشرا صدارتی الیکشن میں الیکٹورل افسر ہوں گے جبکہ ریاستوں میں اسمبلی کے سینئر افسر معاون الیکٹورل افسر ہوں گے ۔ الیکشن کے لئے نوٹیفکیشن 14 جون کو جاری ہوگا جبکہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 28 جون ہوگی۔ پرچہ نامزدگی کی جانچ 29 جون کو کی جائے گی اور یکم جولائی تک نام واپس لئے جاسکیں گے ۔مسٹر زیدی نے بتایا کہ اِس سلسلے میں ووٹ ڈالنے کیلئے کمیشن اپنی جانب سے مخصوص قلم فراہم کرے گا۔ یہ قلم الیکٹر کو پولنگ اسٹیشن پر مجاز افسر کے ذریعے پیش کیاجائے گااوراسی وقت پیش کیاجائے گا، جب بیلٹ پیپر دیاجائے گا۔الیکٹروں کو اس بیلیٹ کو اسی مخصوص قلم سے مارک کرنا ہوگا اور اس کیلئے وہ کوئی دیگر قلم استعمال نہیں کریں گے ۔کسی دیگر قلم کے استعمال کے ذریعے کی گئی ووٹنگ، کاؤنٹنگ کے وقت ووٹ کوکالعدم بنا دے گی۔ووٹوں کی گنتی، نئی دہلی میں ریڑننگ افسر کی نگرانی میں منعقد ہوگی۔ کاؤنٹنگ مکمل ہونے کے بعد، ریٹرن آف الیکشن پرریٹرننگ افسر دستخط کرے گا، جس میں یہ اعلان ہوگا کہ کس امیدوار نے کوٹے کے تحت کامیابی حاصل کی ہے ۔ صدرجمہوریہ کے الیکشن کے نتائج کا رسمی اعلان کمیشن کے ذریعے کیاجائے گا۔کمیشن حکومت ہند کے سینئر افسروں کو معقول طریقے سے پولنگ کو یقینی بنانے کیلئے پولنگ کے مقامات پر بطورمشاہدیا آبزرورمقرر کرتا ہے ۔کمیشن نے صدرجمہوریہ ہند کے عہدے کیلئے مذکورہ، انتخابات کے تمام پہلوؤں پر احاطہ کرنے والا ایک کتابچہ بھی شائع کیا ہے اور اس اشاعت کا نسخہ 25روپے فی نسخے قیمت کی ادائیگی کے بعد مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں چیف الیکٹورل افسروں کے دفاتراور خود کمیشن کے سیل کاؤنٹرسے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔مسٹر زیدی نے کہا کہ ووٹنگ بیلٹ پیپر سے ہوگی اور کوئی بھی سیاسی پارٹی ووٹنگ کیلئے وھپ جاری نہیں کرسکتی۔امیدوار کیلئے پرچہ نامزدگی پر الیکٹورل کالج کی 50 سفارشوں اور 50 حامیوں کے دستخط کرانے لازمی ہوں گے ۔ الیکٹورل کالج کا کوئی رکن صرف ایک امیدوار کا سفارشی یا حامی ہوسکتا ہے ۔ پرچہ نامزدگی کے ساتھ 15 ہزار روپئے کی ضمانت کی رقم جمع کرانی ہوگی۔یہ پوچھے جانے پر کہ دہلی اسمبلی کے 21 اراکین کو ووٹ دینے کیلئے نااہل قرار دیئے جانے کے سلسلے میں الیکشن کمیشن میں معاملہ زیر التوا ہے ، ایسی صورت میں کیا یہ اراکین ووٹنگ میں حصہ لے سکیں گے ، مسٹر زیدی نے کہاکہ یہ ایک خیالی سوال ہے اور اس سلسلے میں مناسب وقت پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ صدارتی الیکشن ای وی ایم سے نہ کرائے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ صدارتی الیکشن بیلٹ پیپر سے ہی ہوتا ہے کیوں کہ موجودہ ای وی ایم میں متناسب نمائندگی نظام سے ووٹنگ کا بندوبست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مستقبل میں اسے اس قابل بنایا جائے گا۔صدارتی عہدہ کے الیکشن کے الیکٹورل کالج میں 776 ممبر پارلیمنٹ اور 4120 ممبر اسمبلی ہیں جن کے کُل ووٹوں کا ‘ویلو’ 10 لاکھ 98 ہزار 882 ہے ۔ الیکشن میں جیت کیلئے 5 لاکھ 49 ہزار 442 ووٹوں کی ضرورت ہے ۔آئین ہند کے آرٹیکل 324 مع صدارتی اور نائب صدر سے متعلق انتخابات ایکٹ 1952اور صدارتی اور نائب صدر کے انتخابات سے متعلق قواعد 1974 کے مطابق، صدرجمہوریہ ہند کے انتخاب کے انعقاد سے متعلق تمام تر عمل کی نگرانی ، ہدایت اور کنٹرول ، بھارت کے انتخابی کمیشن کے زیر اختیار ہے ۔انتخابی کمیشن کیلئے لازم ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ صدر جمہوریہ ہند کے عہدے کیلئے ، جو ملک کا اعلیٰ ترین انتخابی عمل سے پُر کیا جانے ولا عہدہ ہے ، انتخاب، منصفانہ اور آزادانہ طرز پر منعقد ہواورکمیشن اپنی اس آئینی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات کر رہا ہے ۔صدرجمہوریہ ہند کا انتخاب الیکٹورل کالج کے اراکین کے ذریعے عمل میں آتا ہے ، جو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین اور قومی خطہ راجدھانی دہلی اور مرکز کے زیر اختیار علاقے پڈوچیری سمیت تمام ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے منتخب اراکین پر مشتمل ہوتا ہے ۔(راجیہ سبھا یا لوک سبھا یا ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے نامزد اراکین، الیکٹورل کالج میں شامل نہیں کئے جاتے ۔ اسی لئے انہیں اس انتخاب میں شامل ہونے کا استحقاق حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح قانون سازکونسلوں کے اراکین بھی صدارتی انتخاب میں الیکٹرنہیں ہوتے )آئین ہند کا آرٹیکل 55(3)اس بات کا متقاضی ہے کہ انتخاب تناسب پر مبنی نمائندگی کے نظام کے ذریعے واحد قابل منتقلی ووٹ کے ذریعے منعقد ہوگااورالیکشن کیلئے ووٹنگ ، خفیہ بیلیٹ کے ذریعہ عمل میں آئے گی۔ اس نظام کے تحت الیکٹرکو امیدواروں کے نام میں سے ترجیحات طے کرنی پڑتی ہیں۔ یہ ترجیحات ہندستانی اعداد کی بین الاقوامی شکل میں، رومن شکل میں یا کسی دیگر منظور شدہ ہندستانی زبان کی شکل میں ہو سکتی ہیں۔ اپنی ترجیح کو صرف اعداد کی شکل میں ظاہر کرنا ہوتا ہے ۔ الیکٹر اپنی مرضی سے امیدواران کی تعداد کے مطابق اپنی ترجیحات کا تعین کرسکتا ہے ۔ اولین ترجیح کا تعین کرنابیلیٹ پیپر کے ویلِڈ یا مجاز ہونے کیلئے لازمی ہے ۔ دیگر ترجیحات متبادل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper