اردو | हिन्दी | English
156 Views
Indian

طلاق ثلاثہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں : نائیڈو

naidu
Written by Taasir Newspaper

حیدرآباد 30۔ اپریل (یواین آئی)اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ طلاق ثلاثہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں کیونکہ شریعت میں اس کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے گزشتہ کئی برسوں سے اس مسئلہ پر خاموش رہنے کے لئے کانگریس پر بھی نکتہ چینی کی۔وینکیا نائیڈو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق ایک مذہبی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہ دیگر خواتین کے مسلم خواتین کے وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق اور برابری کے حق کا معاملہ ہے۔اس طرح کا بھید بھاؤ کیوں کیا جاتا ہے۔ اسے لازماً ختم ہونا چاہئے اور اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے۔ یہ کہتے ہوئے کہ سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اور ملک ارجن کھرگے تین طلاق مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کا وزیراعظم پر الزام عائد کررہے ہیں’ نائیڈو نے کہا کہ وزیراعظم نے کل جو بات کہی وہ یہ ہے کہ مسلم سماج کو اس پر سوچنا چاہئے۔آپ (کانگریس کے لوگ) اقلیتوں کے چیمپین ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن آپ کو اقلیتوں کی خواتین کی فکر نہیں ہے۔ یہ دراصل عدم مساوات اور مذہب کی بنیاد پر خواتین کے خلاف امتیازات کا مسئلہ ہے۔ ان تمام برسوں میں آپ خاموش کیوں رہے ہو’ انہیں اس کا جواب دینا چاہئے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پہلے ہی خودساختہ گاو رکھشکوں کے خلاف بول چکے ہیں۔ بعض سیاسی رہنماوں کو کچھ بھی بولنے کی عادت ہے۔ اپوزیشن پر خلل پیدا کرنے کے ایجنڈہ پر کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر موصوف نے دعویٰ کیا کہ وہ ہر مسئلہ پر غلط معلومات پھیلانے کی مہم چلارہے ہیں۔ وینکیا نائیڈو نے وسط مدتی انتخابات کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا اور کہا کہ حکومت 2019ء کے انتخابات کرانے سے قبل اپنی مکمل میعاد پوری کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 5 برسوں کے لئے خط اعتماد ملا ہے اور ہم اسے مکمل کریں گے اور 2019ء میں انتخابات کروائیں گے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ آپ چاہے ریاست میں یا مرکز میں وسط مدتی انتخابات کی بات کریں’ میرا کہنا ہے کہ یہ بے بنیاد ہے۔ یہ افواہ کہاں سے آگئی میں نہیں جانتا۔ ہماری پارٹی کے صدر امیت شاہ اور وزیراعظم بھی ہمارے کیڈر اور ہماری حکومت سے سخت محنت کرنے اور 2019ء کے انتخابات کی تیاری کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں اور یہی ہمارا ہدف ہے۔

About the author

Taasir Newspaper