اردو | हिन्दी | English
249 Views
Politics

عام انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کیلئے نتیش کے ساتھ کام کرنے کو کانگریس تیار:دگ وجے

حیدرآباد13اپریل(آئی این ایس انڈیا)سال2019میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے پارٹیوں کے درمیان سب سے بڑے ممکنہ اتحاد کے نتیش کمار کے اعلان پر مثبت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ان کی پارٹی قومی سطح پر جے ڈی یو کے نو منتخب صدر کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کانگریس قومی سطح پر نتیش کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے؟۔ سنگھ نے کہا بے شک ہاں۔نتیش کمار نے 2019کے لوک سبھا انتخابات کے بعد بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے کانگریس اور لیفٹ سمیت جماعتوں کے درمیان سب سے بڑے ممکنہ اتحاد کا اعلان پیرکوکیاتھا۔مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ سنگھ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ملک سیکولر رہے،پوری آبادی کیلئے ایک طرح کی جوابدہی اور ذمہ داری ہو نہ کہ صرف ایک طبقے کے لئے ،لہذا، میں سمجھتا ہوں کہ ہم ان سب کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں جو اس ملک میں اتحاد چاہتے ہیں جو ہندوستانی آئین میں یقین رکھتے ہیں اور جن کی سیاست عام ہونہ کہ خاص طبقے کے لئے ہو۔سنگھ نے کہا کہ کانگریس کی شروعات سے ہی بی جے پی سے جنگ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ کبھی بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں شریک رہے نتیش کمار کو اب یہ احساس ہو گیا ہے،ہمیں بہت خوشی ہے کہ بالآخر تمام سیاسی پارٹیاں قریب آ رہی ہیں اور انہوں نے کانگریس کے اس رخ کو قبول کر لیا ہے کہ ہمارا بی جے پی جیسی فرقہ وارانہ قوتوں سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا نتیش بی جے پی اور کانگریس کے ایک متبادل کے طور پر ابھریں گے؟ سنگھ نے کہا کہ ہر شخص کے پاس یہ چاہت رکھنے کا حق ہے کہ اسے ایک قومی رہنما کے طور پر قبول کیا جائے اور اس پر فیصلہ کرنا لوگوں پر منحصر ہے۔2014کے لوک سبھا انتخابات میں بری طرح ہارنے والی کانگریس 22ماہ بعد بھی خود کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے، اس بابت سنگھ نے رائے کا اظہار نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم کئی ریاستوں میں بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے میں کامیاب رہے ہیں (باقی صفحہ7 پر)اور لوگوں کو یہ سمجھنے میں تھوڑا وقت لگا کہ مودی
اور بی جے پی نے جھوٹے وعدے کئے تھے۔سنگھ نے مغربی بنگال میں لیفٹ کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنے کے کانگریس کے فیصلے کو صحیح قرار دیا، جبکہ پارٹی کیرالہ میں لیفٹ کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم خیال پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرنا علاقائی قیادت کا سوال ہے۔اس لیے ایسا کوئی تضاد نہیں ہے۔مغربی بنگال میں جس طرح سے وزیر اعلی ممتا بنرجی نے طرز عمل اپنایا، اسے دیکھتے ہوئے کانگریس کو ایسا اختیار تلاش کرنا پڑا اور لیفٹ مغربی بنگال میں ایک عملی اختیار ہے۔راہل گاندھی کے کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالنے میں تاخیر کے بارے میں سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی کی کوئی مخالفت نہیں کر رہا ہے،یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اس سلسلے میں فیصلہ کب کیا جاتا ہے،یہ فیصلہ کانگریس صدر کی طرف سے کیا جائے گا۔

About the author

Taasir Newspaper