اردو | हिन्दी | English
821 Views
Deen

عبادات شبِ برأت

Shab-e-barat
Written by Taasir Newspaper

مفسرین کرام نے ’’لیلتہ مبارکۃ‘‘ سے مراد شعبان المعظم کی پندرہویں رات لی ہے۔ ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو ’’شب برأت‘‘ کہاجاتا ہے۔

مفسرین کرام نے ’’لیلتہ مبارکۃ‘‘ سے مراد شعبان المعظم کی پندرہویں رات لی ہے۔ ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو ’’شب برأت‘‘ کہاجاتا ہے، شب کے معنی رات اور برأت کے معنی چھٹکارے کے ہیں، اس رات میں اللہ رب العزت قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتا ہے۔قبیلہ بنی کلب کے بارے میں آتا ہے کہ عرب قبائل میں سے سب سے زیادہ بکریاں پالنے والا قبیلہ قبیلہ قلب تھا۔ام المومنین حضرت عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا اللہ پاک شعبان کی پندرہویں شب میں تجلی فرماتا ہے استغفار یعنی توبہ کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور طالب رحمت پررحم فرماتا ہے ، عدوات والوں کو جس حال پر ہیں اسی پر چھوڑ دیتا ہے (شعب الایمان) حضرت سیدنا معاز بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سلطان مدینہ راحت قلب وسینہ جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ? کا ارشاد پاک ہے شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے اور سب کو بخش دیتا ہے مگر کافر اور عدوات والے کو ( نہیں بخشتا)۔(صحیح ابن حبان)۔
حضرت علی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو حضورؐ کو دیکھا کہ آپؐ نے چودہ رکعت نماز ادا کی ، پھر آپؐ نے بیٹھ کر سورۃ الفاتحہ، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس چودہ مرتبہ پڑھیں ، پھر آیت الکرسی ایک بار پڑھ کر، پوری آیت کریمہ پڑھی پھر اس سے فارغ ہو کر حضورؐ نے فرمایا،’’اے علی جو ایسا عمل کریگا جیسا کہ میں نے کیا تو اس کو 20 مقبول حج اور 20سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔
جو شخص اس رات کو چار رکعت نماز نفل عبادت کی نیت سے پڑھے اور دن کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اسکے 50 سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
جو شخص اس رات کو آٹھ رکعت نماز نفل اس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد گیارہ ،گیارہ مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے اور نماز پڑھ کر اس نماز کا ثواب سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو بخشے تو اسکے متعلق سیدہ کائنات فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں جنت میں اسوقت تک قدم نہیں رکھوں گی جب تک اسکی شفاعت نہ کروالوں۔
آقائے دوجہاںؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بارہ رکعت نماز نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد د س مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے تو اسکے تمام گناہ معاف کرئیے جائیں گے اور اسکی عمر میں برکت ہوگئی۔
حضورؐ نے ارشاد فرمایا جو شخص پندرہ شعبان کو روزہ رکھتا ہے اْسے دو سال ایک گذشتہ اور ایک سال آئندہ کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔ ایک اور روایت ہے کہ پندرہ شعبان کو جن، پرندے ، درندے اور سمندر کی مچھلیاں بھی روزہ رکھتی ہیں۔ صلوٰۃ التسبیح
ان نوافل کی تعلیم حضورؐ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو دی اور یہ فرمایا کہ اس نماز کو پڑھنے والوں کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ آقاؐ نے فرمایا اس کو روزانہ پڑھو ور نہ جمعہ کے دن پڑھو، اگر یہ نہ ہو سکے تو مہینہ میں ایک بار پڑھو، یہ بھی نہ ہو سکے تو سال میں ایک بار پڑھو، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو عمر میں ایک بار پڑھو۔
چار رکعت نفل کی نیت باندھیں اور ثناء کے بعد پندرہ دفعہ یہ تسبیح ( سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر) پڑھیں پرھ سورۃ الفاتحہ الحمد شریف اور اور دیگر سورۃ پڑھ کر رکوع میں جانے سے پہلے ہاتھ باندھے دس دفعہ یہی تسبیح پڑھیں پھر رکوع میں جائیں اور سبحان ربی العظیم کہنے کے بعد دس بار یہی تسبیح پڑھیں پھر رکوع سے اٹھیں اور ربنالک الحمد کے بعد کھڑے کھڑے دس بار پھر سجدے میں جائیں اور سبحان ربی الاعلیٰ کے بعد دس بار یہی تسبیح پڑھیں، پھر سجدے سے اْٹھ کر بیٹھیں اور جلسہ میں اللہ اکبر کے بعد دس بار اس کے بعد دوسرا سجدہ کریں اور سبحان ربی الاعلیٰ کے بعد دس بار ، اب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوں اور پندرہ بار یہی تسبیح پڑھ کر باقی سب کچھ پہلی رکعت کی طرح اس میں بھی پڑھیں اور جب دوسری رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد التجا کے لئے بیٹھیں تو تشھد اور درود شریف پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھیں اور پہلی رکعت میں ثناء کے بعد پندرہ بار اسی طرح تسبیح کریں اور اسی ترتیب سے چاروں رکعتیں مکمل کریں۔ واضح رہے ہررکعت میں 75 بار یہی تسبیح پڑھنی ہے اور چاروں رکعتوں میں یہ تعداد 300 مرتبہ ہوگئی۔

About the author

Taasir Newspaper