اردو | हिन्दी | English
180 Views
Indian

عدالت سے انصاف ملا،حکومت سے حمایت نہیں : بلقیس بانو

NEW DELHI, MAY 8 (UNI):-  Bilkis Bano a rape victim during 2002  Gujarat riots with her husband addressing a press conference after the the Bombay Highcourt's rejection of the appeal of all eleven convicted accused at the Press Club of India, in New Delhi on Monday. UNI PHOTO-33u
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی،8مئی (آئی این ایس انڈیا) گجرات فسادات کے دوران 2002 میں اجتماعی آبروریزی کی شکار ہوئیں بلقیس بانو ابھی نئی شروعات کرنے کو تیار ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کی بڑی بیٹی وکیل بنے گی۔ فسادات میں ان کے خاندان کے زیادہ تر ارکان کو قتل کر دیاگیاتھا۔ان کے ساتھ اجتماعی عصمت دری معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ کے تاریخی فیصلے کے چار دن بعد آج بلقیس نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ انصاف چاہتی تھیں، بدلہ نہیں۔ عدالت نے 12 لوگوں کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا، ساتھ ہی سات افراد کی رہائی کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔ ان میں پولیس اہلکار اور ڈاکٹر شامل ہیں۔واقعہ کے وقت بلقیس حاملہ تھیں اور فساد میں ان کی ساڑھے تین سالہ بیٹی کی موت ہو گئی تھی، اب انہیں امید ہے کہ فیصلے سے انہیں اچھی زندگی جینے میں مدد ملے گی۔ان کے ساتھ ان کے شوہر اور ان کی سب سے چھوٹی بیٹی بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت اچھا ہے اور میں بہت خوش ہوں، میرا خاندان بھی خوش ہے، میں اس لئے بھی زیادہ خوش ہوں کہ واقعہ کورفع دفع کرنے میں ملوث پولیس اہلکار اور ڈاکٹروں کو بھی مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ بلقیس نے کہا کہ میری بڑی بیٹی وکیل بننا چاہتی ہے، میں یقینی بناؤں گی کہ میرے بچے پڑھائی کریں اور نیا راستہ منتخب کریں۔ ان کے شوہر یعقوب دودھ کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس دوران ملزمان سے ملی دھمکیوں اور خاندان کو ہوئی پریشانی کے بارے میں پوچھے جانے پر یعقوب رو پڑے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بلقیس کی طرح تمام عورتوں کو انصاف ملے۔انہوں نے کہا کہ گؤرکشا گروپ بھی میرے خاندان کے مویشی کاروبار کو لے کر دھمکی دیتا ہے۔ انہیں آمدنی کے لئے نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔حقوق کے سرگرم کارکن فرح نقوی نے کہا کہ خاندان کو 15 سال میں 25 بار گھر تبدیل کرنا پڑا کیوں کہ پیرول کے دوران ملزم بلقیس کو دھمکی دیتے تھے۔بلقیس نے کہا کہ اتنے سالوں میں، مجھے انصاف کے لئے اپنی لڑائی کے دوران حکومت سے کوئی حمایت نہیں ملی۔

About the author

Taasir Newspaper