اردو | हिन्दी | English
180 Views
Sports

فلپس کی ریو میں گولڈن ہیٹرک

s-1
Written by Tariq Hasan

ریو ڈی جینرو، 10 اگست (یو این آئی)اولمپک کے سب سے زیادہ کامیاب کھلاڑی امریکہ کے مائیکل فلپس نے ریو میں طلائی تمغوں کی ہیٹرک مکمل کرنے کے ساتھ ہی کیریئر میں 21 اولمپک طلائی تمغہ حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا ۔ پانچواں اولمپک کھیل رہے فلپس کو واٹر کنگ کہا جائے یا کرہ ارض کا سب سے کرشماتی کھلاڑی ان کی تعریف میں فی الحال لفظ کم ہی پڑ جائیں گے ۔ اس کرشماتی کھلاڑی نے سوئمنگ پول میں اپنا جلوہ جاری رکھتے ہوئے تیراکی کی 200 میٹر بٹر فلائی مقابلے کے بعد چارضرب 200 میٹر فری اسٹائل مقابلے کا طلائی تمغہ بھی اپنے نام کرکے ایک ہی رات میں دو اولمپک گولڈ جیت لیے ۔فلپس کا ریو میں یہ تیسرا اور کل 21 واں اولمپک طلائی تمغہ ہے ۔ اولمپک کھیلوں کی تاریخ کے اب تک کے سب سے کامیاب کھلاڑی بن چکے ہیں۔ فلپس نے چار ضرب 200 میٹر فری اسٹائل ریلے کی فائنل لیگ میں فتح کے ساتھ امریکی ٹیم کی جھولی میں گولڈ ڈال دیا۔ فلپس کا یہ اولمپکس میں کل 25 واں تمغہ ہے ان میں 21 طلائی ، دو چاندی اور دو کانسہ کے تمغے شامل ہیں۔’پانی کے اوسین بولٹ’ امریکی تیراک فلپس نے ریو اولمپکس میں اپنا 19 واں گولڈ میڈل چار ضرب 100 میٹر فری اسٹائل ریلے ٹیم مقابلے میں جیتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے 200 میٹر بٹر فلائی مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا جو ان کھیلوں میں ان کا دوسرا طلائی اور کل 20 واں گولڈ میڈل رہا۔ اسی دن فلپس نے پھر چار ضرب 200 میٹر فری اسٹائل مقابلے کا گولڈ بھی اپنے نام کیا جو ان کا اولمپکس میں کل 21 واں طلائی جبکہ ریو میں یہ ان کا تیسرا طلائی تمغہ ہے ۔وہیں امریکہ کے لیے چار ضرب 200 میٹر فری اسٹائل مقابلے کا یہ اولمپکس میں مسلسل چوتھا طلائی تمغہ ہے ۔اس مقابلے میں امریکی ٹیم کی قیادت کونور ڈویر نے کی اور اس کے بعد ٹاؤن لیہاس اور ریان لوشے پول میں اترے ۔ لیکن ریلے کی آخری لیگ میں جیسے ہی فیلپس اترے تو ناظرین نے تالیوں کی گڑگڑاہٹ اور ا پنی حمایت کا اظہار کرکے ان کی سب سے زیادہ حوصلہ افزائی کی۔ فلپس نے بھی اپنے مداحوں کو مایوس نہیں کیا اور جاپان کے خلاف امریکی ٹیم کو 1.76 سیکنڈ اور برطانیہ پر 2.88 سیکنڈ کی برتری دلا کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ امریکہ نے پوری ریس سات منٹ 00.66 سیکنڈ میں مکمل کی۔ برطانیہ نے سات منٹ 03.13 سیکنڈ کا وقت لے کر چاندی کا تمغہ اور جاپان نے سات منٹ 03.50 سیکنڈ کا وقت لے کر کانسہ کا تمغہ اپنے نام کیا۔ برطانیہ نے آخری بار اس مقابلے میں سال 1984 میں تمغہ جیتا تھا۔ اس کے بعد سے یہ برطانیہ کا پہلا تمغہ ہے ۔

About the author

Tariq Hasan