اردو | हिन्दी | English
1052 Views
Deen

قرآن اصولی کتاب اورحدیث تشریح،کتاب وسنت کے مجموعہ کانام ہے دین

jalsa
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ ، 14؍مئی (پرویز عالم)۔ امارت شرعیہ پھلواری شریف کی نگرانی میں چلنے و الے تعلیمی ادارہ دار العلوم الاسلامیہ رضا نگر گون پورہ میں ختم بخاری کی ایک پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکے جنرل سکریٹری امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک اصولی اور بنیادی کتاب ہے، اور حدیث رسول اس کی تشریح و توضیح ہے۔دین کتاب و سنت کے مجموعہ کا نام ہے، اس کے بغیر اسلام کا تصور نا ممکن ہے،بہت سے دانشور رٹائرمنٹ کے بعد قرآن کی من مانی تشریح کرتے ہیں ، درآں حالیکہ وہ قرآنی علوم کی باریکیوں سے نا واقف ہونے کی وجہ سے تفسیرمیں غلطیاں کرجاتے ہیں۔ اگر کوئی انگریزی اور لسانیات کا ماہر کیمسٹری اور بایو لوجی کی تشریح کرنے لگے تو کیا ان کی آراء کو قابل عمل سمجھا جائے گا؟اس لیے قرآن و حدیث کی تشریح ماہر فن علماء سے ہی معلوم کر کے نا واقف لوگوں کو واقف کرائیں ، حضرت امیر شریعت مد ظلہ نے بخاری شریف کی آخری حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : دو کلمے زبان پرہلکے پھلکے ہیں ، مگر میزان میں بہت بھاری ہیں ، اگر تسبیح واذکار کے یہ کلمے اخلاص اور للٰہیت کے جذبے کے ساتھ ادا کیے جائیں تو وہ اللہ کے یہاں بڑے قیمتی اور وزنی ہیں ، اسی لیے امام بخاری نے انما الاعمال بالنیات سے حدیث کی ابتدا ء کی ، کہ اگر عمل تھوڑا ہو مگر اخلاص کے جذبے سے ہو تو وہ میزان میں بھاری ہوگا۔ حضرت امیر شریعت نے دین اسلام کی تشریح کرتے ہوئے حدیث کی اعتباریت پر بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ قرآن کریم میں ہی ساری باتیں نہیں ہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی احادیث میں حلال و حرام کے اصول طے کیے ہیں اور آیات قرآنی کی تشریح کی ہے ، یہ سب بھی دین اسلام کا ہی حصہ ہیں کیوں کہ خود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا ہے اور انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جوبھی دیں (احکام وغیرہ ) انہیں قبول کرو (اور ان پر عمل کرو) اور جن چیزوں سے منع کریں ان سے رک جاؤ۔آپ نے ایک مثال دیتے ہوئے اس کو سمجھایا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کسی تابعی نے کبوتر کی بیٹ کے بارے میں سوال کیا ، انہوں نے حدیث رسول کے حوالہ سے سوال کا جواب دیا، تابعی نے کہا کہ اس کو قرآن سے ثابت کیجئے ، تو آپؓ نے ان کے سامنے یہی آیت پڑھ کر سنائی ما اتاکم الرسول الآیۃ۔ حضرت امیرشریعت مد ظلہ نے فارغ ہونے والے فضلاء کو دو سلسلۂ سند سے روایت حدیث کی اجازت بھی دی ۔حضرت امیر شریعت نے ملک کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت عدالت عظمیٰ میں طلاق ثلاثہ کے مقدمہ زیر سماعت ہے، مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے ماہروکلاء کی پیروی جاری ہے، اور امید کرنی چاہئے کہ حقائق و دلائل کی روشنی میں صحیح فیصلہ ہو گا ، آپ حضرات اس کے لیے دعاؤں کابھی اہتمام کریں ۔ اس موقع سے حضرت امیر شریعت نے رواق رحمانی کے نام سے جدید دار الاقامہ کا بھی سنگ بنیاد رکھا ۔اپنے کلیدی خطاب میں ناظم امارت شرعیہ مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے فرمایاکہ کتاب و سنت مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ اگر دنیاکے کسی بھی اسلامی ملک میں کوئی قانون وضع ہو تا ہے تو وہ مسلمانوں کے لیے قابل اتباع نہیں ہے جب تک کہ وہ کتاب و سنت کے مطابق نہ ہو ۔اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان جوبڑے بڑے علماء اور مشائخ کا گہوارہ ہے اور قانون شریعت کی تشریح کے معاملہ میں یہاں کے مسلمان خود کفیل ہیں ، ہمیں کسی اور طرف جھانکنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے آخر میں دارالعلوم الاسلامیہ کے ترقیاتی اور تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لیے شرکاء سے در د مندانہ اپیل بھی کی۔مولانا عبید اللہ اسعدی صاحب شیخ الحدیث جامعہ عربیہ ہتھوڑا ، باندہ نے امام بخاری کی عظمت اور بخاری شریف کی اہمیت پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ، مولانا عتیق احمد بستوی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے مسلمانوں کو متحد و منظم زندگی گذارنے کی تلقین کی ۔ مولانا مشہود احمد ندوی قادری صاحب پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ، مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ اورمولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے دار العلوم الاسلامیہ کے تعلیمی معیار کی تحسین کی اور اپنے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو دینی و مذہبی تعلیم کے فروغ کے لیے آگے آنے کی تلقین کی ۔ دارا لعلوم الاسلامیہ کے سکریٹری مولانا سہیل احمد ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے تعلیم رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدت قیام سے اب تک اس ادارے نے تعلیم اعتبار سے نمایا ں ترقی کی ہے البتہ ہمارے کچھ تعمیری منصوبے ہیں ، رواق رحمانی کے نام سے حضرت امیر شریعت نے ابھی جس عمارت کا سنگ بنیاد رکھا ہے، اس کی تعمیر کے لیے آپ حضرات کا تعاون درکار ہے۔مولانا مفتی یحیٰ غنی قاسمی استاذ دار العلوم الاسلامیہ نے مندوبین کرام کا شکریہ ادا کیا ۔اس موقع سے دارا لعلوم اسلامیہ سے فارغ علماء و حفاظ کی دستار بندی بھی ہوئی ، جس میں ۵۷ فضلاء اور ۸۰ حفاظ کرام کو دستار باندھی گئی۔اس اجلاس میں شریک ہونے والوں میں جناب امتیاز کریمی ڈائرکٹر راجیہ بھاشا اردو ڈائرکٹوریٹ، مولانا غلام اکبر صاحب ، مولانا محمد عالم قاسمی، مولان بدر احمد مجیبی ، مولاناعبد الباسط ندوی، مولانا عبد الجلیل قاسمی قاضی شریعت امارت شرعیہ ،مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی مفتی امارت شرعیہ، ڈاکٹر ضیاء الدین پرنسپل طبیہ کالج پٹنہ، ڈاکٹر وسیم سکریٹری امارت شرعیہ آئی ٹی آئی گلاب باغ پورنیہ،سید ضیاء الحسن عرف شمو بابو، مولانا رضوان احمد ندوی، مولانا افتخار احمد نظامی، مولانامحمد ابو الکلام شمسی، مولانا صبغت اللہ قاسمی ،مولانا مجیب الرحمن قاسمی ، مولانا مفتی وصی احمد قاسمی، جاوید اقبال ایڈووکیٹ، مولانا عارف رحمانی نائب ناظم جامعہ رحمانی مونگیر، احسان ، عطاء الرحمن ، ذاکر بلیغ رحمانی، مولانا قمر انیس قاسمی ، مولانا صابر حسین قاسمی ، محمد مظاہر ، حاجی سلام الحق ، مولانا شہنواز عالم مظاہری، مولانا عبد السبحان قاسمی، مولانا حکیم شبلی قاسمی ، مولانا مظہر قاسمی،مولاناسہیل اختر قاسمی، مولانامفتی سعید الرحمن قاسمی، مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی،مولانا نور الحق رحمانی ، مولانا حسین احمد قاسمی، مولانا مرسل احمد ، عبد الجبار آشا پور، مولانا ارشد رحمانی و غیرہ کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء کرام ، ائمہ مساجد، دانشوران اور سیاسی و سماجی خدمت گاروں نے شرکت کی ۔ جلسہ گاہ میں شہر پٹنہ اور اطراف کے عوام و خواص کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس کا آغاز دار العلوم الاسلامیہ کے ایک طالب علم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، نظامت کے فرائض مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی استاذ دار العلوم الاسلامیہ نے انجام دیے۔دار العلوم کے طلبہ نے بھی اس موقع پر عربی ، اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں تقریر کی اور اپنی تقریریہ صلاحیتوں کے جو ہر دکھلائے۔ اخیر میں حضرت امیر شریعت کی رقت آمیز دعا پر اجلاس اختتام پذیرہوا۔

About the author

Taasir Newspaper