اردو | हिन्दी | English
175 Views
Deen

قرآن مجید پر عمل کئے بغیر برائیوں کا خاتمہ ناممکن:حافم الدینظ حسا

حافم-الدینظ-حسا
Written by Taasir Newspaper

مدارس اسلامیہ دین کے مضبوط قلعے ہیں :مولانا عبد السلام قاسمی

مدرسہ منبع العلوم مادھوپور میں ۷۳ حفاظ کرام کی کی گئی دستار بندی ،دستاربندی میں علماء نے اہم پند و نصائح سے طلبہ اور آئے ہوئے مہمانوں کو کیا ہم کنار
مشرقی چمپارن ، 28اپریل (محمد ارشد)۔ قرآن کے احکامات پر عمل چھوڑنے کی وجہ سے آج لوگ طرح طرح کی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے ہیں اگر قرآنی احکامات پر عمل کیا جائے تو ساری برائیوں کا خاتمہ قرآنی احکامات میں ہے۔آج مسلمان جگہ جگہ ذلیل و خوار ہو رہا ہے اور اسے طرح طرح سے بے جا القابات سے نوازے جارہے ہیں یہ محض قرآنی احکامات پر عمل نہ کرنا اور سنت رسول کی پیروی نہ کرنے کی وجہ سے مذکورہ باتیں مدرسہ منبع العلوم مادھوپور میں جلسۂ دستاربندی سے خطا ب کرتے ہوئے خیروا مدرسہ کے ناظم حافظ حسام الدین صاحب نے کہی۔انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں جس طرح سے مسلمانوں کو مصائب آلام جھیلنے پڑ رہے ہیں ۔اور جس طرح سے پریشانیوں کا سامان کرنا پڑ رہا ہے اگر لوگ قرآن اور سنت رسول کی اتباع کرے تو شائد لوگوں کو پریشانیاں نہ اٹھانی پڑے۔انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کے ہر آیت میں شفاء ہے۔اور اس کے ہر ہر حرف پر اﷲ تعالیٰ نے ثواب رکھا ہے۔وہیں اس موقع پر اساتذ الاساتذہ حضرت مولانا عبد السلام قاسمی نے بھی قرآن مجید کی اہمت اور اس کی افادیت سے متعلق طلبہ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید وہ مقدس کتاب ہے جس نے کئی لوگوں کے قلوب کو اس طرح منور کیا کہ وہ کفر کی تاریکی سے نکل کر اسلام کی روشنی کی جانب اس طرح سے آئے کے انہوں نے قرآن مجید کو ہی سب کچھ سمجھ لیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف نت نئے حربے استعمال کرنے والوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسلام کے وہ نو مولود وہ فرقے جو صیانت دین کے دعویدار ہے۔ان لوگوں نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے انہوں نے اسلامی تعلیمات سے متعلق عوام میں بے داری لانے کو کہا۔اور کہا کہ مدارس دین کے مضبوط قلعے ہیں ۔اسلام کی بقاء اور اس کی تدریج و ترویج میں مدارس کا اہم کردار ہے مسلمان جب تک تعلیمی بے داری کے لئے شعوری کوشش نہیں کرینگے تب تک نہ تو مدارس کے خلاف افواہیں بند ہونگے اور نہیں مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا۔اس موقع پر بزم طلبہ صدیق کا سالانہ انعامی مقابلاتی پروگرام بھی رکھا گیا اور پروگرام میں کامیاب بچوں کو گراں قدر انعامات سے نوازا گیا۔جب کہ ۷۳ بچوں کی دستاربندی بھی ہوئی اس موقع پر آئے ہوئے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے مدرس کے ناظم مولانا بہاء الدین نے کہا کہ آج جو ہم لوگوں میں علمی روجحان کی کمی ہے اور علم کی خاطر بے داری نہیں ہے اس کے لئے مدارس اسلامیہ کو آگے آنا ہوگا۔اور سماج سے بے شعوریت اور گندگی کو ختم کرنے کے لئے مدارس کے ذمہ داران کو قدم اٹھانا ہوگا۔انہوں نے اس موقع پر بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں اﷲ تعالیٰ نے تمہیں ایک ایسی دولت سے نوازا ہے جس کو حاصل کر نے کے لئے جتنی بھی دولت صرف کی جائے کم ہے انہوں نے کہا کہ آپ کے والدین نے یہاں حصول علم کے لئے دور و دراز سے بھیجا ہے لہٰذا ہم میں حصول علم کے لئے لگن کے ساتھ ساتھ عمل کرنے کا جذبہ بھی ضروری ہے تاکہ آپ لوگ ایک باوقار اور ذی صلاحیت عالم بن کر اس گلشن سے نکلیں اور دشمنوں کی نظر سے نظر ملا کر بات کرسکیں اور انہیں ان کے اعتراضات کا منھ توڑ جواب دے سکیں اس موقع پر مدرسہ کے ناظم نے آئے ہوئے مہمانوں کا تہہ دل سے خیر مقدم کیا اور انہیں اس ختم قرآن کی دعائیہ مجلس میں آنے کی وجہ سے مبارک باد دی۔ اس موقع پر پروگرام کا آغاز باضابطہ تلاوت کلام اﷲ سے کیا گیا۔اور اس کے بعد شان نبی میں نعت منقبت کے گلدستے پیش کئے گئے پیش پیش رہنے والوں میں مدرسہ کے تمام اساتذہ اور کئی اسماء شامل ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper