اردو | हिन्दी | English
433 Views
Deen

……قرآ ن اور رمضان

Quran-Aur-Namaz
Written by Taasir Newspaper
قرب الٰہی کے دو بنیا دی ذرائع

ماہ وسال کی گردش قدرت کے اٹل دائمی نظام کا حصہ ہے اس میں کچھ مہینے اور دن کسی خاص وجہ سے منفرد خصوصیات کے حامل بھی ہیں جن میں سے ایک ماہ رمضان ہے کیونکہ اس ماہ رب العالمین کی طرف سے دنیا والوں کی رہنمائی کے لئے آخر ی اور ابدی پیغام کا نزول ہوا جس کی وجہ سے اس ماہ کا خود رب العالمین نے خاص اہمیت سے ذکر کیا ۔ ارشاد ربانی ہوا کہ ’’ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ان واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ‘‘
انسانوں کے لئے ہدایت و رہنمائی کی کتاب کو نازل کرنے کے لئے اللہ رب العالمین نے ایک مبارک رات کو منتخب کیا اس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ’’ حم قسم ہے اس کتاب بین کی کہ ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات اتارا کیوں کہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے ہم ایک رصول بھیجنے والے تھے تیرے رب کی رحمت کے طور پر ۔ یقیناْ وہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ آسمانوں اور زمینوں کا رب اور ہر اس چیز کا رب جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو ۔ ‘‘
اس مبارک رات سے مراد وہ رات ہے جس کا سورۃالقدر میں ذکر کیا گیا ہے کہ ‘‘ ہم نے اس یعنی قرآن کو لیلۃالقدر میں نازل کیا ہے اور تم کو کیا معلوم کہ لیلۃالقدر کیا ہے لیلۃالقدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں وہ رات سراسر سلامتی بے طلوع فجر تک ۔ ‘‘
ان آیات سے ماہ رمضان اور اس کی راتوں کی عظمت واضح ہوتی ہے اور رسول رحمت جو تمام کائنات کے امن سلامتی اور نجات کے لئے معبوث ہوئے کیسے ممکن تھا کہ اس عظیم ماہ کے بارے میں اپنے پیروکاروں کو غافل رکھیں ۔ چنانچہ رسول اللہ رمضان المبارک کی آمد پر مسلمانوں سے مخاطب ہو کر اس ماہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے تھے اس قسم کا ایک خطبہ امام بیہقی نے اپنی تصنیف شعب الایمان میں نقل کیا ہے جو حسب ذیل ہے ۔
’’سید نا سلمان فارسی رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ نے ہم ایک خطبہ دیا اس میں آپ نے فرمایا اے لوگوں تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے اس مبارک مہینہ کی رات (شب قدر)ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے رض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے یعنی نماز تر اویح پڑ سنے کو نفل عبادت قرار دیا ہے (جس کا بڑا ثواب رکھا ہے )جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوئی غیر فرض عبادی یعنی نست یا نفل ادا کر ے گا تو اس کو دوسرے زمانہ میں فرض کے برابر اس کا ثواب ملے گا یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے جس میں مومن بندو ں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لئے افطار کرایا تو اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے ۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ رسول اللہ ہم میں سے ہر ایک کو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو دے گا جو دودھ کی تھوڑی سے لسی پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کو پورا کھانا ھلا دے اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (یعنی کوثر )سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بد اس کو بھی پیاس نہیں لگے گی نا آنکہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا اس کے بعد آپ نے فرمایا اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے اور جو آدمی اس مہینے میں غلام و کادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا اللہ تالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا (شعب الایمابیہقی)سورۃ القدر میں مجموعی طور پر ماہ صیام اور اس ماہ کی ایک عظمت و فظیلت والی رات کا ذکر کیا ہے اس خطبہ میں رسول اللہ نے اس کے بارے میں پوری ضاحت فرمائی علاوہ زیں ایک بندہ مومن کس طرح اس عظمت و فظیلت والی رات اور مہینے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرب الہیٰ حاصل کر سکتا ہے دنیا و آخرت کی کامیابی و سرفرازی کی لئے کون سا راستہ اختیار کرنا چا ہئے اس کی طرف بھی رہنما فرمادی ہے ۔
رسول اللہ صرف اپنے متبعین کو رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھنے اور تلاوت قرآن میں سرگرم رہنے کی تلقین و تر غیب نہیں دی بلکہ خود بھی نیکیوں کو سمیٹنے میں پیش پیش رہے اس سلسلہ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جو تصویر پیش کی ہے وہ قابل ذکر ہے ۔
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ر سول اللہ خیر کی بخشش اور خلق خدا کی نفع رسانی میں اللہ کے سب سے بندوں سے فائق تھے اور رمضان المبارک میں آپ کی یہ کریمانہ صفت اور زیادہ تر قی کر جاتی تھی ۔ رمضان کی ہر رات میں جبرائیل امین آپ سے ملتے تھے اور رسول اللہ ان کو قرآن مجید سناتے تھے جب جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تو آپ اس کریمانہ نفع رسانی اور خیر کی بخشش میں اللہ کی بھیجی ہوئی ہواؤں سے بھی زیادہ تیزی آجاتی اور زور پیدا ہو جاتا ۔ ‘‘
یہ تھی رمضان المبارک میں رسول اللہ کی قرآن اور قرآنی احکامات پیروی اور خلق خدا کی نفع پہنچانے کی تصویر جو ہر مسلمان کے لئے قابل تقلید ہے یہی وجہ ہے کہ کل قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں روزہ دار کے لئے شفاعت کریں گے اس سلسلہ میں ایک اور حدیچ قابل ذکر ہے ۔ ’’ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا روزہ اور قرآن دونوں بندوں کی سفارش کریں گے روزہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار میں نے اس بندے کو کھانے اور پینے اور نفس کی خواہش پوری کرنے سے روکا آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہے گا کہ میں نے اس کو رات کو سونے اور آرام کرنے سے روکا اے اللہ آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما چنانچہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندہ کے حق میں قبول کی جائے گی ۔
کیسے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے حق میں ان کے روزوں کی اور قرآن مجید کی سفارش قبول کی جائے گی چنانچہ رمضان کے مہینے میں اخلاص کے ساتھ روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے اس کے معنی اور مطالب سمجھنے اور قرآن کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش اور اس کے ساتھ ساتھ خلق خدا کی بھی بے لوث خدمت کرنی چاہئے اور اس معاملے میں مکمل طور پر رسول اللہ کے نقش قدم پر چلنا چاہئے جن کی زندگی ہر طبقہ انسان کے لئے چاہے وہ کم ہو یا محکوم فاتح ہو یا مفتوح ۔ آجر ہو یا اجیر ، استاد ہو یا شاگرد ، شوہر ہو یا بیوی ، والد ہو یا اولاد ، تاجر ہو یا خریدار ، کسان ہو یا مزدور ، مایہ دار ہو یا کارکن ، افسر ہو یا ماتحت، قابل تقلید ہے اور اسی میں دنیا کی فلاح کامیابی اور کامرانی اور آخرت کی نجات و سرفرازی مضمر ہے چنانچہ ماہ صیام میں ہمیں ایک نئے عظم کے ساتھ قرآنی تعلیمات پر ملبسنی زندگی کا آغاز کرنا چاہئے کہ یہی زندگی کی معراج تک پہنچنے کا راستہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمین رسول اللہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ۔

About the author

Taasir Newspaper