اردو | हिन्दी | English
321 Views
Politics

محبوبہ مفتی کو ملی جموں وکشمیر کی کمان

1
Written by Taasir Newspaper

جموں، 4 ؍اپریل(آئی این ایس انڈیا ) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر تبدیل کرنے والی زمینی سطح کی مقبول لیڈر محبوبہ مفتی اپنے مرحوم والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جموں و کشمیر کی کمان اپنے ہاتھ میں لے چکی ہیں۔وہ اس ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلی بن گئی ہیں۔قانون میں گریجویشن کی ڈگری رکھنے والی محبوبہ مفتی (56)نے اپنے والد کے ساتھ سال 1996میں کانگریس سے جڑ کر مین اسٹریم کی سیاست میں قدم رکھا تھا۔اس وقت ریاست میں شدت پسندی اپنے عروج پر تھی ۔پی ڈی پی کی توسیع کا کریڈٹ محبوبہ کو دیا جاتا ہے۔کچھ مبصرین کا تو یہاں تک ماننا ہے کہ عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کے معاملے میں وہ اپنے مرحوم والد سے بھی آگے نکل گئیں۔ان پر نرم علیحدگی پسند کارڈ کھیلنے کا بھی الزام لگتا رہا ہے۔ (باقی صفحہ 7 پر) پی ڈی پی نے اپنی پارٹی کے پرچم کے لیے سبز رنگ کا انتخاب کیا اور اپنے انتخابی نشان کے طور پر اس نے سال 1987کے مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کے قلم-دوات کو ہی انتخابی نشان بنایا ۔ایک دوسرے سے مکمل طور مختلف نظریہ رکھنے والی دو جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد سے قائم حکومت کی قیادت محبوبہ کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ وہ اپنے باپ کی مرہم لگانے کی وراثت کو آگے لے جانے کی پوری کوشش کریں گی۔دو بیٹیوں کی ماں محبوبہ کی شبیہ ایک دبنگ لیڈر کی ہے اور انہوں نے اپنا پہلا اسمبلی انتخابات کانگریس امیدوار کے طور پر اپنے آبائی گاؤں بجبیہڑا سے جیتا تھا۔محبوبہ نے 1998کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس امیدوار بنے اپنے والد کی جیت میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔تب ان کے والد نے جنوبی کشمیر سے نیشنل کانفرنس کے امیدوار محمد یوسف تائنگ کو شکست دی تھی۔سعید کے اندر کشمیر میں امن واپس لانے کے لیے کچھ کرنے کی ایک لک تھی اور محبوبہ ان کے ساتھ ہی تھیں۔دونوں باپ بیٹی نے مل کر 1999میں ایک علاقائی پارٹی پی ڈی پی کی بنیادڈالی تھی ۔انہوں نے نیشنل کانفرنس سے ناراض کئی لیڈروں کو اپنے ساتھ لیا۔کچھ لیڈر اس کے ساتھ کانگریس کے بھی تھے، جس کے ساتھ سعید نے اپنے چھ دہائی کے سیاسی کیریئر کا زیادہ تر وقت گزارا تھا۔محبوبہ وادی میں تشدد کی وجہ سے میں مارے گئے لوگوں کے گھر جاتی تھیں۔خواتین کو رونے کے لیے اپنا کندھا دے کر انہوں نے لوگوں کی اور خاص طور پر خواتین کی نبض کو چھو لیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper