اردو | हिन्दी | English
259 Views
Deen Uncategorized

مدارس کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں‘ حکومتیں بھی مدارس کو نشانہ بناتی ہیں: مولانا محمد شوکت قاسمی

deen
Written by Taasir Newspaper

ہزاروں سازشوں کے باوجود مدارس ترقی کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے: مولانا مفتی محمد راشد اعظمی

کانپور، 16اپریل (پریس ریلیز)۔ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند مشرقی یوپی زون1کا اجلاس جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جامع مسجد اشرف آباد جاجمؤ کانپور میں منعقد ہوا جس میں مشرقی زون1میں شامل27؍اضلاع کے مدارس کے ناظم ومہتممین وان کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس سے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کے ناظم واستاذ دارالعلوم دیوبندمولانا محمد شوکت قاسمی بستوی ، استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند مولانا مفتی محمد راشد اعظمی اور زون 1کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے خطاب کیا۔ مولانا محمد شوکت قاسمی نے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبندکے قیام کے مقصد واہمیت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں جب ایڈوانی نائب وزیر اعظم تھے ایک وزارتی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے رپورٹ تیار کی کہ مدارس خصوصاً نیپال سے ملحق مدارس دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اس بے سروپیرکی رپورٹ اور مدارس کے خلاف غلط پیروپیگنڈہ اور مدارس میں تعلیمی انحطاط کے سدباب کے لیے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔ مدارس اسلامیہ کے خارجی وداخلی مسائل کے حل کے لیے دارالعلوم دیوبند میں جلسہ کیا گیا۔ مدارس کے لیے ضابطہ اخلاق بنایا گیا۔ نصاب تعلیم میں شامل ہر ہر کتاب کا کیا مقصدہے اساتذہ کو اس کو سمجھنے اور طلباء کو سمجھانے کی ضرورت ہے اسی طرح نصاب کی تکمیل میں توازن رکھا جائے تربیت کا خاص خیال رکھا جائے آپسی اختلافات کو ختم کرکے ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے۔ دارالعلوم دیوبند کا نصاب وہی ہے جو شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ومجدد الف ثانیؒ کے زمانے میں تھاموجودہ نصاب میں صرف جزئی تبدیلی ہوئی ہے۔ اسی نصاب کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے والے بڑے بڑے مفسر، محدث وفقیہ وخطیب پیدا ہوئے ۔ دارالعلوم کے نصاب سے ایسے افراد تیارہوئے جنہوں نے اسلام کی صحیح دعوت پیش کی۔ مولانا نے تعلیمی انحطاط کے بارے میں اساتذہ وطلباء کی کمیوں کی نشاندہی کرکے تعلیم کو بہترو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔نئے فارغین کو تدریس سے قبل ان کی تربیت کی ضرورت ہے بہت سے صوبوں میں تدریب المعلین کا پروگرام چل رہا ہے جس کا مثبت نتیجہ سامنے آیا ہے صوبہ یوپی کے مغربی علاقہ میں بھی یہ کام چل رہا ہے مشرقی حصہ میں بھی اس پروگرام کو چلایا جائے۔ فرق باطلہ کا تعاقب وفتنوں کی سرکوبی علماء کی ذمہ داری ہے ۔مولانا نے مکاتب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مکاتب مدارس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔مولانا نے حکومت کے ذریعہ قائم کردہ مدرسہ بورڈ کے بارے میں کہا کہ یہاں سے جو علماء تیار ہوں گے وہ حکومت نواز ہوں گے۔ مدارس کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں حکومتیں بھی مدارس کو نشانہ بناتی ہیں مدارس اپنے حساب وکتاب کوصاف ستھرا رکھیں اگر حکومتی سطح پر کوئی معلومات حاصل کی جائے تو اس کے ساتھ تعاون کریں۔ دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا مفتی محمد راشد اعظمی نے کہا کہ ہزاروں سازشوں کے باوجود مدارس ترقی کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ اسلام دشمن مدارس کے خلاف میٹنگیں کرکے مدارس کو بند کرنے کے لیے تجاویز پاس کرتے ہیں ادھر اللہ کے فضل سے دوچار مدارس میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں مدارس کی محبت ڈال دی ہے۔ مدارس کے قیام کے لیے اکابرین نے بہت کوششیں کیں آج پورے ملک میں مدارس کا جال پچھا ہوا ہے اور سازشوں وحوادث زمانہ کی دگر گوں حالات کے باوجود مدارس پھل پھول رہے ہیں۔ مدارس دین کی مدد کر رہے ہیں اسی لئے اللہ مدارس کی مدد کر رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کو بند کرانے کی بہت کوششیں کی گئیں اور کی جارہی ہیں کچھ طبقہ اس کے لیے سرگرم ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرما رہے ہیں حال ہی میں ایک کوشش کی گئی جو اللہ کے فضل سے ناکام ہوگئی اور سازش رچنے والے خود آپس میں دست وگریباں ہوگئے۔ مولانا نے نصاب کے بارے میں کہا کہ بلاغت ،فلسفہ ،منطق وغیرہ جو پڑھائے جاتے ہیں وہ قرآن وسنت کو سمجھنے میں معاون ومددگار ہیں۔ دارالعلوم کے نصاب کی اصل بنیاد قرآن وسنت فہمی ہے اس لئے جو لوگ عصری علوم کو نصاب میں داخل کرنے کے قائل ہیں وہ غلطی پر ہیں اس سے قرآن وسنت کی تفہیم میں جو یکسوئی ہوتی ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ البتہ فراغت کے بعد علوم عصریہ کے حصول میں کوئی مضائقہ نہیں دارالعلوم میں بھی انگریزی وکمپیوٹر وغیرہ کی تعلیم کا نظام ہے۔ مولانا نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ میں نور وبرکت رکھی ہے اس سے بشاشت پیدا ہوتی ہے ۔ مدارس نے لوگوں کو اپنے سے جوڑ رکھا ہے اور دارالعلوم نے مدارس کو جوڑ رکھا ہے یہ اتحاد مدارس کے لیے ضروری ہے ہم متحد ہو کر مسائل کا مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کرسکتے ہیں۔ رابطہ مدارس کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے کہا کہ دارالعلوم نے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ سے الحاق کے لیے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ اس سے مدارس کے ذمہ داران کی عزت نفس پر کوئی حرف نہ آئے ۔ مدارس کا الحاق کرکے طلباء کی تعلیم کو معیاری بنایا جائے اور ان کی تربیت اچھے انداز سے کی جائے تاکہ قوم کو بہترین مقتدا ورہبر ملیں ۔ مدارس کے خلاف سازشوں سے متحد ہو کر نمٹا جائے اجتماعیت سے تقویت ملتی ہے ۔مولانا نے کہا کہ تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ فرق باطلہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے ، پرانے فتنوں کے ساتھ ساتھ نئے فتنے بھی سر ابھارتے رہتے ہیں اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔دوسری نشست میں اتفاق رائے سے مجلس عاملہ کے اراکین وعہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا۔ مولانا مطیع الحق انظر ناظم تعلیمات ادارہ محمودیہ قصبہ محمدی لکھیم پور، مولانا محمد ابراہیم قاسمی استاذ فرقانیہ گونڈا ، مفتی عبدالرحیم صاحب مدرسہ بیت العلوم بہرائچ، مولانا عبدالمنان مدرسہ بیت العلوم بنکے گاؤں سدھارتھ نگر، مفتی اقبال احمد قاسمی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم نکٹھو شاہ بیکن گنج وغیرہ نے اپنے مفید مشوروں سے نوازا اور شرکاء نے تحریری طور پر بھی اپنی آرا کا اظہار کیا۔ جلسہ کا آغاز قاری عبدالمعبود فرقانی کی تلاوت سے ہوا اور نعت ومنقبت کا نذرانہ امین الحق عبداللہ اور حافظ محمد شعیب نے پیش کیاجلسہ کا اختتام مولانا مفتی نعمت اللہ صدر مدرس مدرسہ فرقانیہ گونڈہ صاحب کی دعاؤ سے ہوا ۔ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم کے صدر مدرس مولانا انوار احمد جامعی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا ۔

About the author

Taasir Newspaper